پتنگ بازی روکنے میں ناکام 13تھانیداروں کا ’’بوکاٹا‘‘

پتنگ بازی روکنے میں ناکام 13تھانیداروں کا ’’بوکاٹا‘‘

 لاہور (خبر نگار) لاہور پولیس کے 13ایس ایچ اوز کے خلاف پتنگ بازی کی روک تھام میں ناکامی پر کاروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس میں ان ایس ایچ او کو مستقل طور پر ایس ایچ او کو عہدہ پر تعینات نہ کرنے اور مستقل طور پر پولیس لائن میں تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں کینٹ ڈویژن کے سب سے زیادہ چار ایس ایچ اوز، سول لائن ڈویژن کے دو،سٹی ڈویژن کے تین، اقبال ڈویژن کے دو جبکہ صدر ڈویژن کے بھی دو ایس ایچ اوز اور اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن کے تین ایس ایچ اوز کے نام بتائے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ان ایس ایچ اوز میں ایک ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹا بھی دیا گیا ہے۔تاہم ایک اعلیٰ شخصیت کی سفارش رکھنے کے باعث اُسے چند روز بعد دوبارہ ایک دوسرے تھانے میں ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے ان ایس ایچ اوز کے خلاف سپیشل برانچ اور لاہور پولیس کی سیکیورٹی برانچ نے خفیہ طور پر ایک رپورٹ تیار کرکے بھجوائی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان تھانوں کے ایس ایچ اوز پتنگ بازی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اوران ایس ایچ اوز کے تھانوں کی حدود میں پتنگ بازی نے زور پکڑ رکھا ہے ۔اوربالخصوص اتوار کے روز ان تھانوں کی حدود میں منی بسنت منائی جاتی ہے جبکہ یہ ایس ایچ اوز گھر میں بیٹھے احکامات جاری کرتے رہتے ہیں جس کی بنا پر پتنگ بازی کا زور بڑھ کر رہ گیا ہے اور پتنگ بازی کی ڈور سے باقاعدہ حادثات نے جنم لے رکھا ہے۔اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہے اس میں کوتاہی کے مرتکب ایس ایچ اوز کو ہمیشہ کے لیے ایس ایچ او شپ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی