بریلوی مکتبہ فکر کی توجہ کے لئے

بریلوی مکتبہ فکر کی توجہ کے لئے
 بریلوی مکتبہ فکر کی توجہ کے لئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سرگودھا کے نواحی علاقے چک پچانوے شمالی میں درگاہ پیر علی محمد گجر کے جعلی اورجنونی پیر نے جو شرمناک کھیل کھیلا، چارخواتین سمیت اپنے بیس مریدین کو قتل کر دیا، اس نے ہمارے اہلسنت و الجماعت بریلوی مکتبہ فکر کے علمائے کرام پر ایک بھاری ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ معاشرے میں پیری مریدی کے نام پر ہونے والے قبیح افعال کو روکیں جو بعض جگہوں پر دھندے بنے اور جابجا جرائم کا سبب بن رہے ہیں۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں ایک بہت ہی حساس موضوع پر بات کر رہا ہوں ، ہمارے راسخ العقیدہ بریلوی دوست کہتے ہیں کہ جس شخص کا کوئی پیر نہیں ہوتا اس کا پیر شیطان ہوتا ہے۔ مجھے دین کی تعلیم کے حوالے سے اس کی افادیت سے اختلاف نہیں مگر یہ جملہ معترضہ ہے کہ عمل نہ کرنے والوں کو ایک پیرکیسے بخشوا سکتا، اپنے ساتھ جنت میں لے جا سکتا ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جو لوگ پیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کیا وہ امام احمد رضا بریلوی ؒ کے فتاویٰ رضویہ میں پیر کے لئے دی گئی شرائط کو پورا کرتے ہیں یا پیری مریدی محض ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے، ہمارے علمائے کرام پر ذمہ داری یہ ہے کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں اور ہر دور کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے پیری مریدی کے غلط استعمال کی روک تھام کریں ورنہ سرگودھا کی درگاہ پیر علی محمد گجر جیسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔

علمائے کرام سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ پیر کی ضرورت اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب کوئی مسلمان پڑھا لکھا نہ ہو، دینی مسائل کی تفہیم کے لئے دینی علوم کے کسی ماہر کے پاس جانا مجبوری ہو مگر یہ دور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کاہے ، جہاں کسی بھی ایک مسئلے پرآن لائن تمام آرا دستیاب ہوسکتی ہیں تمام بڑے دارہائے علوم نے اپنے اپنے دارالافتا ء بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں ایک سے زیادہ دینی علم کے ماہر مل بیٹھ کر کسی مسئلے کا حل تجویز کرتے ہیں وہاں ان کے پیچھے اساتذہ کرام اور محققین کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے لہذا ایسے میں کسی بھی ایک شخص کی رائے کو حتمی تصور کر لینا درست نہیں ہو گا ۔ اس تحریر اور موقف کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کے کردار کی نفی کر دی جائے مگر یہ مقصد تو ضرور ہے کہ ان کے کردار کی شرائط اور حدود کو واضح کر دیا جائے، اس امر سے تو انکار ممکن ہی نہیں کہ ان معزز و معتبر شخصیات نے بالخصوص برصغیرمیں اسلام کے فروغ میں اہم کردارادا کیا ہے، سوال تو ان کے بارے ہے جو پیرفقیر ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور پھر سرگودھا جیسے واقعات کا سبب بن جاتے ہیں۔

امام احمد رضا خان بریلوی کے فتاویٰ جات کو دیکھا جائے تو وہ فرماتے ہیں کہ قبر اگر رستے میں نہیں اور اس پر روشنی کی ضرورت نہیں تو اس کی جانب شمعیں لے جانا بدعت اور مال کا ضیاع ہے، وہ مزاروں پر چادریں چڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بھی نظر نہیںآتے، فرماتے ہیں کہ اگر کسی مزار پر کوئی چادر موجود ہے اور وہ اپنی درست حالت میں ہے تو اس پر نئی چادر ڈال دینا بھی فضول ہے اور بہتر عمل یہ ہے کہ اللہ کے اس ولی کو ایصال ثواب کرتے ہوئے وہ مال کسی محتاج کو دے دیا جائے۔چوبیسویں جلد کے صفحہ ایک سو بارہ پر عرس پر آتش بازی اور نیاز کا کھانا لٹانے بارے سوال پر جواب ارشاد ہوا، آتش بازی اسراف ہے اور اسراف حرام ہے، کھانے کا ایسا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے، روشنی اگر مصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف ہے ۔

ہمارے مزاروں پر بھنگ اور افیون کا نشہ عام ملتا ہے، امام احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ نشہ بذات خود حرام ہے، نشہ کی چیزیں پینا جس سے نشہ بازوں کی مناسبت ہو اگرچہ حد نشہ تک نہ پہنچے ، یہ بھی گناہ ہے، ہاں، دوا کے لئے کسی مرکب میں افیون، بھنگ یا چرس کا اتنا جزو ڈالا جائے کہ اس کا عقل پر اصلاً اثر نہ ہو تو حرج نہیں مگرافیون میں اس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ یہ معدے میں سوراخ کر دیتی ہے۔

مکروہات اور بدعات کو بریلوی مکتبہ فکر کے ساتھ مخصوص کرنا کسی طور بھی درست نہیں کہ امام احمد رضا خان بریلوی کی تعلیمات ایسے امور کی ہرگز اجازت نہیں دیتیں جنہیں زمانہ ساز پیروں نے جائز اور مبارک قرار دے رکھا ہے۔اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مفتی منیب الرحمان کو ان کے علم اور خدمات کی بنیاد پر مفتی اعظم قرار دیا جاتا ہے ،آپ رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ مفتی صاحب نے ایک اخبار میں مضمون تحریر کیا جس میں انہوں نے عید میلادالنبی پر بہت ساری معروف اور مقبول رسومات بارے حقائق بیان کئے۔ میں عالم دین نہیں ہوں، مجھے کسی ایک مکتبہ فکر کی حمایت اور مخالفت بھی عزیز نہیں مگر اس غیرجانبداری کے ساتھ بھی، مجھے یہ گواہی دینے میں کوئی عار نہیں کہ حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک انتہائی سچے عاشقِ رسول ؐ تھے ، وہ اس محبت میں انتہا درجے کے راسخ تھے ، یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ سنت رسول سے ہٹ کر ایسے طریقوں کی راہ ہموا رکرتے جو دین کی اصل روح کے مطابق نہ ہوتے۔ آپ علم و عشق کا بے کراں سمندرتھے ، آپ نے بعض روایات کے مطابق ایک ہزار اور بعض کے مطابق چودہ سو کتابیں تصنیف کیں، ہزاروں فتاویٰ جات تحریر کئے ، ان میں بہت سارے محفوظ نہ کئے جا سکے مگر جو دستیاب ہیں وہ اب بھی تیس جلدوں میں موجود ہیں اور پیری مریدی کی موجودہ رائج رسومات کے انکار اور نفی کے لئے کافی سے زیادہ ہیں۔ اب یہ ان کی نسبت سے بریلوی کہلانے والوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے جید امام کی تعلیمات کی غلط تشریحات کو روکیں ورنہ میرا گمان تو یہی ہے کہ قیامت کے روز ان مست ملنگ پیروکاروں سے بھی پوچھ گچھ ہو گی۔

مزید : کالم