چینی شہری نے مشینی بیگم ایجاد کر کے دنیا کو حیران کر دیا

چینی شہری نے مشینی بیگم ایجاد کر کے دنیا کو حیران کر دیا

بیجنگ(این این آئی)نت نئی، کم قیمت اور انوکھی مصنوعات کی تیاری میں چین پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔ ایک چینی شہری نے تو متبادل بیگم بھی ایجاد کرکے دنیا بھر میں خواتین کی قلت پر قابو پانے کا نیا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق چین کے ایک 31 سالہ انجینیر زنگ گیاگی نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو خواتین کی صفات سے متصف ہے۔ اس خود کار عورت میں وہ تمام خوبیاں موجود ہوں جو ایک زندہ انسان خاتون میں ہو سکتی ہیں۔ اس مشینی بیوی کو اپنانے کے بعد اس کے ساتھ ہنی مون بھی منایا جا سکتا ہے۔چین میں خاتون ربوٹ کی تیاری بعض حوالوں سے اہمیت کی حامل بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین کے بحران اور لڑکیوں کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ خاص طور چین جیسے معاشرے میں جہاں ’ایک بچہ‘ پالیسی رائج ہے مصنوعی بیوی بچوں کی پیدائش کے خطرے سے جان چھڑا دے گی۔ ایک بچہ پالیسی کے نتجے میں چین میں خواتین کی غیر معمولی قلت بھی پیدا کی ہے۔ اس طرح یہ ’مصنوعی شریک حیات‘ اس قلت کو پورا کرنے میں بھی غیر معمولی معاون و مدد گار ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اکتیس سالہ زینگ گیاگی مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں عورت کی شکل کا ایک ربوٹ تیار کیا جسے ’ینگ ینگ‘ کا نام دیا گیا۔ گذشتہ جمعہ کو اس نے ہانگزو شہر میں اس روبوٹ بیوی سے شادی بھی کی۔اس دلچسپ شادی میں دلہا کے والدین اور دوست احباب کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مگر دوسری طرف ’بیچاری روبوٹ بیوی‘ اپنے بنانے والے اور اس کے اقارب کا منہ دیکھتی رہی۔ بعد ازاں گیاگی نے اپنی مصنوعی بیوی کے ساتھ ہنی مون بھی منائی۔اخباری اطلاعات کے مطابق زینگ گیاگی کی تیار کردہ مصنوعی بیوی کا وزن ساڑھے چار کلو گرام ہے جسے اٹھا کر کسی بھی مقام پر ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر