پورے یورپ میں خسرے کی وباؤں کا خطرہ ہے: عالمی ادارہ صحت

پورے یورپ میں خسرے کی وباؤں کا خطرہ ہے: عالمی ادارہ صحت

اسٹاک ہوم (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ملکوں میں خسرے کی بڑی وبائیں پھیلنے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ خسرے کے خلاف ویکسینیشن کی کمی ہے۔ اس سال صرف جنوری میں یورپ میں اس عفونتی مرض کے پانچ سو سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے آمدہ موصول رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی یورپ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر سوزانہ یاکب نے اپنے ایک بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران خسرے کے خاتمے کے لیے تواتر سے پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے تاہم یہ بات اپنی جگہ بہت زیادہ تشویش کا سبب ہے کہ یورپ میں اس متعدی بیماری کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سوزانہ یاکب کے مطابق اس سال صرف جنوری میں ہی مختلف یورپی ریاستوں میں خسرے کے مجموعی طور پر 500 سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ خطرہ ہے کہ بہت تیز رفتاری سے پھیلنے والی یہ عفونتی بیماری ممکنہ طور پر کئی یورپی ریاستوں میں بڑی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ آج آزادانہ سفر کی جو سہولیات موجود ہیں اور مجموعی طور پر آمد و رفت کے جو امکانات عوام کو میسر ہیں، ان کے پیش نظر کوئی بھی انسان یا ملک خسرے کے وائرس کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سال جنوری میں یورپ میں خسرے کے جو 559 نئے کیسز رجسٹر کیے گئے تھے، ان میں سے 474 فرانس، جرمنی، اٹلی، رومانیہ، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ اور یوکرین میں سامنے میں آئے تھے۔

مزید : عالمی منظر