وزارت پٹرولیم وگیس حکام اور سی این جی مالکان کی سردجنگ پھر سی این جی سیکٹر کی بندش کا سبب بن گئی

وزارت پٹرولیم وگیس حکام اور سی این جی مالکان کی سردجنگ پھر سی این جی سیکٹر کی ...

لاہور(لیاقت کھرل) وزارت پٹرولیم و گیس حکام اور سی این جی مالکان کی سرد جنگ ایک مرتبہ پھر سی این جی سیکٹر کی بندش کا باعث بن گئی ہے۔ اختلافات کے باعث جہاں لاکھوں صارفین گیس کی سپلائی سے محروم، وہاں گزشتہ چارسال کے دوران 3110 سی این جی اسٹیشن بند ہوئے، جبکہ گاڑیوں والے صرف ساڑھے چھ لاکھ صارفین رہ گئے ہیں۔ ’’پاکستان‘‘ کو وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور گیس حکام کی سی این جی مالکان کے ساتھ کئی سال سے جاری سرد جنگ نے سی این جی سیکٹر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جو تیسرا بڑا سیکٹر بن گیا تھا،جس میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں 3510 سی این جی اسٹیشن تھے اور صارفین کی تعد45 لاکھ سے زائدہو گئی تھی اور حکومت کو سالانہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری حاصل تھی۔ چار سال قبل وزارت پٹرولیم اور گیس حکام اور سی این جی مالکان کے درمیان گیس کی قیمتوں کے تعین اور سی این جی سیکٹر میں ہونے والی چوری پر ٹھن گئی جس پر ایک سرد جنگ نے جنم لے لیا۔ وزارت پٹرولیم کے حکم پر گیس حکام نے سی این جی سیکٹر کو 120 ملین کیوبک فٹ سے کم کر کے 80 ملین کیوبک فٹ کر کے سردیوں میں گیس کی سپلائی مستقل طور پر بند کر دی جبکہ گرمیوں میں ہفتہ میں دو دن اور زیادہ سے زیادہ چار روز کے لئے گیس کی فراہمی کا فیصلہ کر دیا جس کے باعث سی این جی سیکٹر بحران کا شکار ہو گیا اور سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد 3510 سے کم ہوکرچندسو رہ گئی ۔ آخر کار سی این جی سیکٹر میں مسلسل لوڈشیڈنگ کے بعد تین سال کے بعد وزارت پٹرولیم اور گیس حکام نے سال 2016ء کے آخر میں سی این جی سیکٹر کو سی این جی کی جگہ ایل این جی فراہم کرنا شروع کر دی اور اس میں بھی 80 ملین کیوبک فٹ کی جگہ 40 ملین کیوبک فٹ گیس ( ایل این جی) فراہم کی جا رہی ہے اور اسے بھی گیس حکام نے ایل این جی کی درآمدسے مشروط کر دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ سی این سیکٹر پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکا اور جہاں بحران سے دوچار ہوا وہاں سی این جی اسٹیشنو ں سے صارفین کو گیس کی فراہمی ناممکن بن کر رہ گئی جس پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے سی این جی مالکان تذبذب کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس حوالے سے سی این جی ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین کیپٹن (ر) شجاع انور نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ سی این جی سیکٹر پٹرول کی نسبت 45 سے 60 روپے سستا فیول تھا جو کہ اس وقت بھی پٹرول کی نسبت 20 روپے سستا ہے، تاہم اس سیکٹر کو بعض طاقتوں نے ختم کر کے رکھ دیا ہے جبکہ گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس ذخائر کی شدید کمی ہے اور اب چونکہ بھکی پاور سمیت دو مزید پاور اسٹیشنوں کو گیس فراہم کی جانی ہے ،اس لئے گیس کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے جس پر سی این جی سیکٹر کو چند روز کے لئے گیس کی سپلائی بند کی گئی ہے جبکہ گزشتہ برسوں میں بھی گیس کی کمی تھی جس کے باعث سیکٹر واقعی کمزور ہوا ہے۔

مزید : صفحہ آخر