پاکستان کو مالیاتی طور پر مضبوط بنانے غربت میں کمی کیلئے کوشاں ہیں: اسحٰق ڈار

پاکستان کو مالیاتی طور پر مضبوط بنانے غربت میں کمی کیلئے کوشاں ہیں: اسحٰق ڈار

دبئی (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ حکومت معاشرہ کے غریب ترین افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے معاونت فراہم کر رہی ہے، موجودہ حکومت نے اپنے چاروں بجٹ کے ذریعے سماجی تحفظ کے اخراجات میں 300 فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے۔ بی آئی ایس پی کے تحت مختص فنڈز 2013ء میں 40 ارب روپے تھے جنہیں 2017ء میں بڑھا کر 115 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اس پروگرام سے مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد 37 لاکھ سے بڑھا کر 54 لاکھ 50 ہزار کر دی گئی ہے ،مارچ 2017ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے محصولات کی وصولی میں 16.1 فیصد کی نمو ریکارڈ کی اور اس نے 345 ارب روپے اکٹھے کئے جبکہ گذشتہ سال اسی ماہ میں یہ 297 ارب روپے تھے جبکہ مجموعی اقتصادی ماحول نہایت سازگار ہے۔ مارچ 2017ء میں افراط زر کی شرح 3.9 فیصد کی سال بہ سال کی بنیاد کے مقابلہ میں معمولی طور پر 4.9 فیصد تک بڑھی جبکہ مالی سال کے جولائی سے مارچ 2017ء کے عرصہ تک 4.01 فیصد رہی جو بلند ملکی طلب اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کی عکاسی کرتے ہوئے گذشتہ سال 2.64 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کیلئے قرضے جولائی۔مارچ 2016-17ء کے دوران 393 ارب روپے تک بڑھ گئے ۔حکومت پاکستان کو مالیاتی طور پر مضبوط بنانے‘ پائیدار شرح نمو ‘ روزگار پیدا کرنے اور غربت میں کمی کے میدان میں اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کے ہمراہ گزشتہ روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے معاہدہ کی شق IV کے تحت سالانہ مشاورت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ مذاکرات میں معیشت کے مختلف شعبہ جات کا وسیع تر احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کامیاب طور پر مکمل ہونے سے توانائی، مالیات اور سرکاری شعبہ کے اداروں سمیت مختلف شعبہ جات میں ٹھوس ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے حوالہ سے حکومت کے پیہم عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تیسرے سال 4 فیصد سے زائد کی شرح کے ساتھ جی ڈی پی نے شرح نمو کا اپنا تسلسل برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران 5 فیصد سے زائد شرح نمو توقع کر رہی ہے جو گذشتہ 9 برسوں میں بلند ترین شرح ہو گی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دو بڑے اہم اقدامات کئے ہیں جن میں سے ایک سوئٹزرلینڈ کے ساتھ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے نظرثانی شدہ معاہدہ پر دستخط کرنا اور ٹیکس سے متعلق امور میں او ای سی ڈی کا کثیر الجہتی کنونشن برائے باہمی انتظامی معاونت شامل ہیں۔ ان اقدامات سے مستقبل میں ٹیکس چوری کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر کے قریب ہیں جو جون 2017ء کے اختتام تک 23 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بینکاری شعبہ کی کارکردگی زیادہ کریڈٹ نمو‘ بہتر اثاثہ جاتی معیار اور معقول آمدن کے ساتھ فروغ پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اصلاحات حکمت عملی پر عملدرآمد کے نتیجے میں 2016ء میں پاکستان نے دنیا میں اصلاحات کے حامل 10 سرکردہ ممالک میں جگہ پائی ہے۔ ٹھوس اصلاحات کا عمل تمام شعبہ جات بالخصوص ٹیکسوں کی ادائیگی‘ کاروبار شروع کرنے اور املاک کے شعبوں میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو مالیاتی طور پر مضبوط بنانے‘ پائیدار شرح نمو ‘ روزگار پیدا کرنے اور غربت میں کمی کے میدان میں اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

مزید : صفحہ آخر