ضمنی الیکشن، مقبوضہ کشمیر میں مزید 20ہزار بھارتی فوجی تعینات، حریت کی بائیکاٹ مہم عروج پر

ضمنی الیکشن، مقبوضہ کشمیر میں مزید 20ہزار بھارتی فوجی تعینات، حریت کی ...

نئی دہلی ، سرینگر ( اے این این ) بھارتی پارلیمنٹ کی دو نشستوں کے ضمنی انتخابات کیلئے مقبوضہ کشمیر میں مزید 20ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات کردیئے گئے،یہ انتخابات جنوبی اور وسطی کشمیر کے علاقوں میں ہونگے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح حملوں اور سکیورٹی کی تشویشناک صورتحال کے باعث حکمران پی ڈی پی اور حزب مخالف نیشنل کانفرنس ابھی تک سرینگر میں کوئی انتخابی ریلی نہیں کر پائے ۔پولیس کے مطابق امسال پہلے تین ماہ کے دوران 14عام شہری مارے گئے ہیں اور بیشتر اموات مظاہروں پر پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہوئی ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے جنوری سے مارچ تک 33مسلح شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔اننت ناگ میں ہونیوالے ضمنی انتخاب میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے چھوٹے بھائی تصدق مفتی میدان میں ہیں اور انکے خلاف کانگریس کے امیدوار کی حمایت سابق وزیرِاعلی فاروق عبداللہ کر رہے ہیں جبکہ سرینگر میں پی ڈی پی کیخلاف فاروق عبداللہ کی حمایت کانگریس پارٹی کر رہی ہے۔ حریت پسندوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر رکھی ہے، حکومت نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق اور دیگر رہنماؤں کو گھروں میں نظربند جبکہ یاسین ملک کو جیل بھیج رکھا ہے، تاہم کشمیریوں کی جانب سے وادی بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ انتخابات فاروق عبداللہ کیلئے نہایت اہم ہیں کیونکہ وہ حکمران پی ڈی پی کو آر ایس ایس کی پراکسی قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کشمیری مسلمان بی جے پی اور آر ایس ایس کے اتحادیوں کو مسترد کر دیں گے۔

مزید : صفحہ آخر