ٹرانسمیٹرز کا قیام صوبوں کا حق، پیمرا کا اقدام غیر قانونی ہے: ترجمان کے پی کے

ٹرانسمیٹرز کا قیام صوبوں کا حق، پیمرا کا اقدام غیر قانونی ہے: ترجمان کے پی کے

پشاور(پ ر)محکمہ اطلاعات حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان نے بعض اخبارات میں صوبے میں سرکاری شعبے میں قائم شدہ تین نئے ایف ایم سٹیشنز کو نان کمرشل لائسنس کے اجراء کے لئے پیمرا کے انکار سے متعلق شائع شدہ خبر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان1973کے آرٹیکل 159 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس کے تحت صوبوں کو اپنے ٹرانسمیٹرزکے قیام کا حق حاصل ہے اور وفاقی حکومت براڈ کاسٹنگ اور ٹیلی کاسٹنگ سے متعلق امور کے لئے بغیر کسی خاص وجہ کے انکار نہیں کر سکتی جو حکومت کو صوبے میں ٹرانسمیٹرز کی تعمیر اور استعمال ممکن بنانے اور صوبے میں ٹرانسمیٹرز کی تعمیر اور استعمال کے سلسلے میں فیس لاگو کرنے اور باقاعدہ بنانے اور آلات و ذرائع کے استعمال و موصولی کے لئے ضروری ہو۔مزید برآں 1973کے آئین کے آرٹیکل159کی ذیلی دفعہ4کے تحت مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان اگرکوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کا حل ثالث کے ذریعے ہوگا جس کا تقرر چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ان ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو صوبے کے عوام کو باخبر کرنے ،ان میں زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کرنے اور خوشحال و پر امن پاکستان کے لئے انتہا پسند سوچ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے اس لئے اس سلسلے میں پیمرا کا اعتراض ؍انکار نیشنل ایکشن پلان کے تحت حاصل امن و ہم آہنگی کے لئے صوبائی حکومت کی کوششوں میں رکاوٹ کے برابر ہے۔ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت کے لئے رکاوٹ پیدا کرنے کی بجائے پیمر اکو کسی صوبے میں پرائیویٹ فرمز ؍کمپنیوں کو ایسے لائسنس جاری کرتے وقت متعلقہ صوبے سے اجازت لینی چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002واضح طور پر کہتا ہے کہ ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کے قیام کی حوصلہ افزائی کا مطلب امن اور باہمی ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنا ہے اس لئے پیمرا کو صوبائی حکومت کی اس قسم کی صحت مندانہ سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت آئین کے آرٹیکل159کی ذیلی دفعہ4کے تحت اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر