بھارت کشمیر پر کمزور موقف کے باعث مذاکرات سے بھاگتا ہے: پاکستان

بھارت کشمیر پر کمزور موقف کے باعث مذاکرات سے بھاگتا ہے: پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکہ کی جانب سے پاک بھارت امن مذاکرات میں بطور ثالث اپنا کردار ادا کرنیکی پیشکش کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے پاکستان نے امریکی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ بھارت کشمیر پر کمزور مؤقف کے باعث پھر مذاکرات سے بھاگ گیا اور دراصل وہ خطے میں امن نہیں بالادستی چاہتا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے جس میں بھارت کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اسکا جیتا جاگتا ثبوب کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی سے خطے میں بسنے والے تمام افراد مستفید ہو سکیں اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر امن طور پر بات چیت سے حل ہوں۔ بھارت دیگرممالک کے مصالحتی کردار کی پیشکش کو رد اسلئے کرتا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن نہیں چاہتا اور خطے میں اپنی بالا دستی رکھنے کا خواہشمند ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے جب بھی کسی عالمی طاقت یا شخصیت نے تنازعات کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کی، بھارت نے انکار کیا۔ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر مذاکرات سے بھاگنے والا بھارت خود پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ترجمان نے واضح کیا پاکستان بھارت کیساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کیلئے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہے۔جنگی جنون میں مبتلاء بھارت کا امریکہ کی جانب سے پاک بھارت مذاکرت پر ثالثی کی پیشکش مسترد کر نا افسوسناک ہے۔ انکا کہنا تھا اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے سربراہ اینٹونیو گوٹیریس نے بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنیکی پیشکش کی تھی جسے ہم نے خوش آئند قرار دیا تھا۔یاد رہے 3 اپریل کو نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا یہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے خدشات ہیں اور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہم کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر