مستقبل میں چین امریکہ تعلقات کا تعین، ژی جن پنگ، ٹرمپ کا امتحان شروع

مستقبل میں چین امریکہ تعلقات کا تعین، ژی جن پنگ، ٹرمپ کا امتحان شروع

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) چین اور امریکہ کے موجودہ صدور کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات فلوریڈا میں شروع ہوئی۔ صدر ٹرمپ کی رہائشگاہ پر یہ مذاکرات جمعہ کو بھی جاری رہیں گے۔ سیاسی و سکیورٹی مبصرین کے نزدیک یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ دونوں ممالک سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی معاملات میں ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود اپنی اپنی ضرورتوں کے تحت تعاون کیساتھ چلتے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے چینی صدر ژی جن پنک اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنے روایتی تعلقات کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں جبکہ ٹھوس نظریات کے حامل سمجھے جانیوالے دونوں صدور کس طرح اپنی سوچوں میں لچک پیدا کرکے تعاون کی راہیں نکالتے ہیں، اسوقت امریکہ، یورپی ممالک اور باقی دنیا کیلئے بحرالکاہل کی ایک ایٹمی طاقت شمالی کوریا کا جارحانہ رویہ سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے جو مسلسل ایٹمی حملے کی دھمکیاں دینے سمیت اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافے کیلئے جدید میزائلوں کا تجر بہ کر رہا ہے۔ واشنگٹن کے سکیورٹی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں صرف چین ایک ایسا ملک ہے جو اس تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر چہ شمالی کوریا کا چین کیساتھ بھی تنازعہ ہے لیکن اسے معلوم ہے اگر اس خطے میں چین نے امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ اپنے ایجنڈے پر عمل نہیں کر سکتا۔ چین متعدد مرتبہ امریکہ کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ اس مسئلے کا حل جنگ نہیں ، اختلافی معاملات پر سمجھوتے طے کرنیکی ضرورت ہے۔ نئے امریکی صدر سے ملاقات اور افہام و تفہیم کا تاثر خود چینی صدر کیلئے بھی برابر اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسکے ذریعے وہ بھی چینی عوام کوایک مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں کیونکہ امسال کے آخر میں چین میں کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کا اہم اجلاس ہونیوالا ہے جس میں وہ اپنی قوت کا ثبوت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ شمالی کوریا نے بدھ کے روز چین کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں ایک درمیانی رینج کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو ان دونوں لیڈروں کی ملاقات کیلئے شمالی کوریا کی طرف سے ’’پہلی سلامی‘‘ تھی۔ مبصرین کا خیال ہے چینی صدر امریکہ کیساتھ سیاسی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے تجارتی تعاون اور شمالی کوریا کی ایٹمی اشتعال انگزیوں کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیں گے، یقیناً یہ مذاکرات چینی صدر کے تدبر کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح منہ زور امریکی صدر کی جوشیلی شخصیت کیساتھ باہمی تعاون کے راستے نکالتے ہیں۔ چینی صدر کمیونسٹ پارٹی کی ایک آمرانہ حکومت کے سربراہ ہیں جسکی معیشت امریکہ کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے اور جسکا ملک اقتصادی میدان میں اس سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی ڈپلومیسی کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتے ہیں، انہوں نے ’’امریکہ اول‘‘ کا نعرہ لگا رکھا ہے، خصوصاً دیکھنا یہ ہے تجارت کے شعبے میں چینی صدر ان سے

کیسے سودا بازی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر