مردم شماری ٹیم پر خودکش حملہ 4 فوجی جوانوں سمیت 7 شہید ،20زخمی

مردم شماری ٹیم پر خودکش حملہ 4 فوجی جوانوں سمیت 7 شہید ،20زخمی

لاہور (کرا ئم ر پو رٹر / اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے) باغوں کا شہر لاہور ایک بار پھر دہشتگردوں کے نشانے پر آگیا ہے۔ بیدیاں روڈ پر مردم شماری کی ٹیم کی گاڑی پر خود کش حملے کے نتیجے میں 4 فوجی جوانوں , مردم شماری عملہ کے دو رکان سمیت 7 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں ائر فورس کا ایک ٹیکنیشن محمد اویس ظفر شامل ہے ۔پو لیس اور امدا د ی ٹیمو ں نے موقع پر پہنچ کر زخمیو ں کو طبی امدا د کے لیے مختلف ہسپتا لو ں میں منتقل کیا ۔ لاشیں ضروری کا رروا ئی کے لئے مردہ خا نہ میں منتقل کر دی گئیں ۔ د ھما کہ کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔ سی ٹی ڈی تھا نہ میں ایس ایچ او کی مد عیت میں د ہشت گردی ، قتل ، اقدا م قتل سمیت مختلف د فعا ت کے تحت واقعہ کا مقد مہ نمبر 8\17در ج کر لیا گیا ہے ۔ امن کے دشمنوں نے ایک بار پھر لاہور کو لہو لہو کردیا۔لاہور امن دشمنوں کے نشانے پر آگیا۔ دھماکے سے گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ 7 بجکر 45 منٹ کا وقت تھا ، لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر زندگی رواں دواں تھی کہ اچانک علاقہ دھماکے سے لرز اٹھا۔ بیدیاں روڈ سے پاک فوج کے جوان اور محکمہ تعلیم کے اساتذہ مردم شماری مہم کیلئے وین میں نکلنے لگے تو گھات لگائے خود کش بمبار نے گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر بم سکواڈ، ریسیکیو ٹیمیں اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ۔ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ۔عینی شاہدین کے مطابق دھما کہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔شہید ہونے والوں میں پاک فضائیہ کا 35 سالہ جوان محمد اویس ظفر، فوجی جوان 33 سالہ محمد ساجد، محمدعبداللہ ، 77سالہ محمد بوٹا اور 30 سالہ سیف شامل ہیں ۔ زخمیوں میں 14 سالہ رحمان، 30 سالہ شکیل، 6 ماہ کا بچہ احسان، 33 سالہ دل باز، الطاف، شمشاد، اسلم، ماجد، ارشاد، جمیل، 30 سالہ افضل، 42 سالہ فیاض احمد، 30 سالہ محمد فاروق،16 سالہ فرحان،40 سالہ اسلم ، گلزار، 45 سالہ عثمان،22 سالہ ارشد، 25 سالہ تہمینہ اور 16 سالہ عابد شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق حملہ آور نے مردم شماری کی ٹیم کی گاڑی کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حملہ آور کی شناخت کی جارہی ہے، حملہ آ ور کے جائے وقوعہ سے اعضاء مل گئے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کر نیوالے اداروں نے بیدیا ں روڈ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کو حملہ آور کا سر 40فٹ اونچی قریبی دوکان کی چھت سے ملا۔حملہ آور چہرے اور بالوں کے خدوخال سے ازبک معلوم ہوتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق شہدا میں مردم شماری عملہ کے دو سرکاری ملازم شامل ہیں دھماکے سے مردم شماری ٹیم کی 2 گاڑیاں موٹرسائیکل اورایک رکشہ بھی تباہ ہوگیا۔اکاؤنٹر ٹیرارزمم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق چہرے اور بالوں سے حملہ آور مقامی معلوم نہیں ہوتا ،حملہ آور ازبک ہوسکتا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش حملہ آور کی شیو بڑھی ہوئی تھی سر کے بال لمبے تھے ۔حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے چالیس فٹ دور سے ملا ۔ حملہ آور کی شناخت کے لئے اس کا سر اور دیگر اعضاء کو فرانزک لیبارٹریز بھیج دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں 3 کلومیٹر تک سرچ آپریشن شروع کیاگیا۔ آپریشن میں نادرا کی ٹیم بھی شامل تھی جس نے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت شہریوں کی تصدیق کی۔ 16 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔ دھماکے کے بعد علامہ اقبال ایئرپورٹ کی سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل کا کہنا ہے دھماکہ سیکورٹی لیپس نہیں تھا ، سیکورٹی پلان پر مکمل عمل ہو رہا ہے ، مردم شماری جاری رہے گی۔ عبداللہ خان سنبل نے کہا دھماکے کی نوعیت کی فرانزک رپورٹ آنے پر بتا ئی جا سکے گی۔بیدیاں روڈ پر مانانوالہ چوک پر کھڑی وین کے قریب خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹیم اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے نکلنے لگی ۔ چار شدید زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ارد گرد کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچاجبکہ وین اور اس کے قریب کھڑی گاڑی بھی جل کر خاکستر ہو گئی۔جنرل ہسپتال انتظامیہ کے مطابق خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے سویلین افراد میں محمد بوٹا، رحمان اور شکیل شامل ہیں جبکہ زخمی سویلین میں افضل، فیض احمد، محمد فاروق، فرحان، اسلم، عثمان، ارشاد، تہمینہ اور عابد سمیت 14 سالہ رحمان، 30 سالہ شکیل جبکہ 6 ماہ کا احسان شامل ہیں جنہیں جنرل اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہیں اسپتال انتظامیہ کے مطابق چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہیں۔دھماکے میں شہید چار فوجی جوانوں کی نماز جنازہ ایوب سٹیڈیم کینٹ میں ادا کر دی گئی، گورنر، وزیر اعلیٰ پنجاب، کور کمانڈر لاہور سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔سبز ہلالی پرچم میں لپٹے تابوتوں میں شہداء کے جسد خاکی لائے گئے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیئے گئے۔ گورنر، وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر نے میتوں کو کندھا دیامیڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی حکام کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ حملہ آور پیدل تھا اور اس نے خود کو وین کے بالکل پیچھے اڑایا، موبائل ٹاور سے فون کالز کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔ حملہ آور کی ٹانگیں بھی تلاش کر لی گئی ہیں۔

مردم شماری۔ خودکش دھماکہ

لاہور( لیاقت کھرل) بیدیاں روڈ پر ہونے والے دھماکہ کی ابتدائی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ خودکش دھماکہ میں ٹارگٹ مردم شماری ٹیم اور فورس تھی، حملہ آور کی عمر 20 سے 22سال بتائی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بم سکواڈ اور فرانزنک لیب کی ٹیموں کو جائے وقوعہ سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد کے مطابق دھماکہ میں 8 سے 10 کلو دھماکہ خیز مواد (بارودی مواد) استعمال کیا گیا اور حملہ آور کی عمر20 سے 22 سال تھی اور حملہ آور کا ملنے والے سر اور ہاتھوں کی انگلیوں سے اب تک کی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کا جسم صحت مند (موٹا) تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ سے قبل باقاعدہ مکمل منصوبہ بندی کی گئی۔ باقاعدہ مکمل ریکی کی گئی اور ایک منصوبہ بندی کے تحت حملہ آور کو اس وقت دھماکہ کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ دھماکہ اس وقت کیا جائے جب مردم شماری کی ٹیم گنجان آبادی کے قریب پہنچے۔ دھماکہ اس جگہ پر کیا گیا جہاں پٹھان آبادی زیادہ اور افغانی زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق اسی گنجان اور پٹھان آبادی سے ہے اور حملہ آور اس علاقہ اور آبادیوں کے راستوں اور سڑکوں سے مکمل طور پر واقف ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل اور اپنے آپ کو ویگن کے ساتھ ٹکرایا، جس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ مردم شماری کی ٹیم اور فورس تھی اور کوئی دوسرا ٹارگٹ نہیں تھا۔ خودکش حملہ آور نے اس وقت اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے خود کو ویگن کے ساتھ ٹکرا دیا جب مردم شماری کی ٹیم گنجان آبادی کے قریب پہنچی اور اپنے آپ کو اڑا دیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے جس میں دھماکہ کو خودکش اور ٹارگٹ مردم شماری کی ٹیم اور فورس تھی۔ ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے باقاعدہ ریکی کی گئی۔ جس میں سہولت کار بھی حملہ آور کے ساتھ ہیں حملہ آور اکیلا اتنے بڑے ٹارگٹ کو مکمل نہیں کر سکتا ۔ وزیر اعلیٰ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دھماکہ خودکش ہے اور خودکش دھماکہ میں8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ تاہم خودکش حملہ آور کے ملنے والے سر اور انگلیوں کی سرجری کی جا رہی ہے اور حملہ آور کے سر اور انگلیوں سے فرانزنک لیب کی رپورٹ کے بعد شناخت ہو گی جس کے بعد اس بات کا پتہ چل سکے گا کہ حملہ آور کون اور کہاں کا رہائشی ہے اور اس کو کس تنظیم نے ٹارگٹ دیا۔ اس کے بعد تحقیقات کا عمل آگے بڑھے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ خالصتاً خودکش دھماکہ ہے اور کوئی دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ تحقیقاتی ٹیموں نے خودکش حملہ آور کو موٹرسائیکل پر سواراور موٹر سائیکل کو مردم شماری کی ٹیم کی ویگن کے ساتھ ٹکرانے کا ذکرکیا گیا ہے ۔ ایک خفیہ ادارے کی ٹیم نے بھی اپنی رپورٹ میں حملہ آور کو موٹر سائیکل حملہ آور قرار دیا ۔ خودکش دھماکہ میں سانحہ 13 فروری کو 51 روز قبل پیش آنے والے مال رو پر خود کش دھماکے کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔تحقیقاتی اداوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مال روڈ پر خودکش واقعہ میں بھی فورس ٹارگٹ تھی اس واقعہ میں بھی فورس ٹارگٹ تھی۔ تاہم مزید تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں حساس ادارے، سی ٹی ڈی پولیس کے ایک ایڈیشنل آئی جی ، دو ڈی آئی جی ، دو ایس ایس پی اور چار ایس پیز سمیت بم سکواڈ اور ریسکیو کے ڈی جی بھی شامل ہیں۔ جس کے بعد اعلیٰ تحقیقاتی ٹیم کے 6 ارکان نے باقاعدہ وقوعہ کا معائنہ بھی کر لیا ہے، جس میں جائے وقوعہ سے ملنے والے بارودی مواد، ویگن، موٹر سائیکل سمیت عینی شاہدین سمیت زخمیوں کے بیانات بھی تحقیقات کا حصہ بتایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سانحہ مال روڈ کے سہولت کار انوارالحق سے بھی اس حوالے سے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم وزیر اعلیٰ کو تحقیقات کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ سے آگاہ کرے گی۔

مزید : صفحہ اول