وائٹ ہاؤس کا چیف اسٹرٹیجک نیشنل سکیورٹی کونسل سے آؤٹ

وائٹ ہاؤس کا چیف اسٹرٹیجک نیشنل سکیورٹی کونسل سے آؤٹ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکمت کار (چیف اسٹریٹجک ) سٹیفن بینن کو نیشنل سکیورٹی کونسل سے نکال دیا ۔ یہ بات گزشتہ روزوائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کے دفتر سے جاری کردہ ایک میمو میں بتائی گئی ہے۔ بظاہر وہ اعلیٰ حکمت کار کے طور پر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے، کیونکہ میمو میں اسکا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یاد رہے ٹرمپ اور پیوٹن کے نمائندوں کی بحر ہند کے جزیرے میں خفیہ ملاقات کی جو خبر ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے بریک کی تھی، اس میں بتایا گیا تھا اسکی تیاری کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ شیخ محمد بن زید النہیان نے نیویارک میں ٹرمپ ٹیم کے جن ارکان سے بنیادی مشورہ کیا، ان میں سٹیفن بینن پیش پیش تھے۔ ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے اس تبدیلی کا رپورٹ میں نام آنے سے تعلق ہے یا نہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی تنظیم نو ایڈوائزر ایچ آڑ میکماسٹر کی خواہش پر کی گئی ہے، جنہوں نے جنرل مائیکل فلین کے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ میمو میں بتایا گیا ہے کونسل کی تشکیل نو کے بعد اب ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ڈان کوٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نیشنل سکیورٹی کونسل ’’پرنسپل کمیٹی‘‘ کے دوبارہ مستقل ارکان بن جائیں گے۔ ویسے بھی مسٹر بینن کو جب ’’پرنسپلز کمیٹی‘‘ میں شامل کیا گیا تھا تو ٹرمپ کی پریذیڈنسی پر یہ تنقید کی گئی تھی کہ یہ نیشنل سکیورٹی کونسل میں سیاسی مداخلت ہے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع نے بتایا ایک رکن کا درجہ حاصل نہ ہونے کے باوجود مسٹر بینن نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ میمو کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے ہوم لینڈ سکیورٹی ایڈوائزر ٹام بوسرٹ کے سکیورٹی کونسل میں کردار کو کم کرکے فیڈرل رجسٹر کو اس میں شامل کر دیا ہے۔

مزید : صفحہ اول