ضرب عضب کا فیصلہ بروقت نہ کرتے توداعش شمالی وزیرستان میں پنجے گاڑھ لیتی ، سرتاج عزیز

ضرب عضب کا فیصلہ بروقت نہ کرتے توداعش شمالی وزیرستان میں پنجے گاڑھ لیتی ، ...

اسلام آباد(اے این این) وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ 2014میں آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ نہ کر لیا جاتا تو داعش شما لی وزیرستان میں پنجے گاڑھ لیتی ،پاک امریکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے ،ٹرمپ کے صدر بننے سے پاکستان کے لئے مواقعوں میں اضافہ ہوا،پاکستان دہشتگردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے،خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام ملکوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ اورامریکی سفارتخانے کے زیر اہتمام اسلام آباد میں پاک امریکہ تعلقات پر منعقدہ مباحثے سے خطاب میں کیا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی ہے،پاکستان ایکشن نہ لیتا تو داعش شمالی وزیرستان میں مرکز بنا چکی ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کامیابی سے جاری ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے سیکیورٹی اورمعاشی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، پاکستان تمام سطح پر امریکہ سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتاہے، ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد پاکستان کے لیے مواقع ہیں، پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔سرتاج عزیز نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیکورٹی اور اقتصادی صورتحال میں بہتری سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی 2013 کے بعد 2018میں بھی پرامن انتقال اقتدار ہوگا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے دونوں ملکوں کے عوام کے فائدے کے لئے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے مفادات مشترک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ مفادات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ، اقتصادی شرح نمو کو مضبوط بنانا ، سرمایہ کاری اور افغانستان سمیت خطے کو مزید مستحکم اورخوشحال بنانا شامل ہیں۔امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے امن ہے ،پاکستان امریکا کا اتحادی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے ۔

سرتاج عزیز

اسلام آباد(اے این این )پاکستان نے کہاہے کہ ڈیورنڈ لائن پرافغانستان کی جانب سے متنازعہ سمجھے جانے والے حصوں پر ابھی باڑ لگانے کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے تاہم پہلے مرحلے میں چھ سے آٹھ کراسنگ پوائنٹس پر سرحدی باڑ نصب کی جا رہی ہے۔ یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں مسلم لیگ( ن) کے اویس لغاری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اِن کیمرہ اجلاس کو بتائی گئی۔اجلاس کے بعد چیئرمین کمیٹی نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، انہوں نے کہاکہ بائیو میٹرک کے ذریعے افغان پناہ گزین کی آمدورفت میں آسانی فراہم کی جائیگی۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اویس لغاری کے مطابق سرتاج عزیز نے بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی درست سمت میں جارہی ہے۔ اویس لغاری کے مطابق سرتاج عزیز نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہ طالبان جنھوں نے خطے میں شدت پسند تنظیم داعش کو خوش آمدید نہیں کہا انہیں مرکزی دھارے میں لانا چاہیے۔اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران افغانستان میں قیام امن کے لیے رواں ماہ ماسکو میں منعقد ہونے والے کثیرالملکی امن مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ارکان نے اتفاق کیا کہ مذاکراتی عمل زندہ رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو مذاکرات سے امریکہ کو افغان پالیسی پر نظرثانی میں مدد ملے گی۔اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کسی بھی سطح پر ریاستی دہشتگردی میں معاونت نہیں کر رہا، افغانستان اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے بجائے الزام تراشی کا سہارا لیتا رہا ہے، جبکہ پاکستان اس کھیل کا حصہ ہرگز نہیں بنے گا۔اویس لغاری کے مطابق اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے مشیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 'افغان عوام کی سوچ بدلنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اویس لغاری کے مطابق مشیر خارجہ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغانستان سے نصراللہ گروپ اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول