ضلعی انتظامیہ ،ریسیکو حکام 25 منٹ تک خود کش دھماکہ سے لاعلم رہے

ضلعی انتظامیہ ،ریسیکو حکام 25 منٹ تک خود کش دھماکہ سے لاعلم رہے

لاہور( خبرنگار) خودکش دھماکہ 7 بجکر 45منٹ پر ہوا .محکمہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ضلعی انتظامیہ سمیت ریسیکو حکام 25 منٹ تک وقوعہ سے لاعلم رہے۔ محکمہ پولیس کو ایک شہری کی جانب سے 15 پر7.59 منٹ پرملنے والی کال پرعلم ہوا۔ وائرلیس کنڑول پرپیغام چلنے کے باوجود پولیس 8.15 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی پولیس افسر اور ضلعی انتظامیہ ریسیکیوکے حکام 8.30 منٹ تک جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکے. سب سے پہلے ریسکیو کی ایک گاڑی اور جنوبی چھاونی پولیس کی ایک گاڑی 8.13 کوپہنچی ڈیفنس پولیس 8.21 منٹ پرجائے وقوعہ پر پہنچی جس کے بعد واقعہ کی اطلاع لاہور میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، اعلیٰ پولیس حکام ایس پی کینٹ اور اے ایس پی ڈیفنس سمیت ڈی ایس پی سرور روڈ سے وائرلیس کی بجائے خفیہ طریقہ سے ٹیلی فونز کے ذریعے معلوم کرتے رہے تاہم اس کے باوجود کسی اعلیٰ پولیس افسر نے متعلقہ ذمہ دار افسروں اوراہلکاروں کی معمولی ڈانٹ ڈپٹ تک نہ کی۔ بیدیاں روڈ جیسی اہم شاہراہ پر محافظ سکواڈ اور ڈولفن فورس کی چیکنگ اور پٹرولنگ سمیت متعلقہ تھانوں کی پٹرولنگ نہ ہونے پر اے ایس پی ڈیفنس اور ایس ایچ او ڈیفنس، ایس ایچ او جنوبی چھاؤنی کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ سانحہ میں شہید ہونے والا اویس ظفر پاک فضائیہ کا ملازم اور چھٹی گزارنے گھر آیا تھا۔ شہید اویس ظفر کم سن بیٹی اور ایک کمسن بیٹے کا باپ تھا وہ دھماکہ سے چند منٹ قبل گھر سے نکلا اور اپنی بیوی کے ہمراہ اپن 6 ماہ کے بچے کی ہسپتال سے دوائی لینے جا رہا تھا کہ خودکش دھماکہ میں شہید ہو گیا۔ شہید کی والدہ نے سی ایم ایچ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس کا بیٹا چھٹیاں گزارنے آیا تھا اور اس کا 6 ماہ کا بیٹا بیمار تھا اور بیٹے کی دوا لینے ہسپتال جا رہا تھا کہ خودکش دھماکہ میں شہید ہو گیا۔ اویس ظفر کی والدہ نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ اس کا بیٹا ایئر پورٹ پر پاک فضائیہ میں ٹیکنیشن تھا۔ اویس ظفر 4،5 روز قبل ایک ماہ کی چھٹی لے کر آیا تھا۔ اویس ظفر کا چھ ماہ کا بیٹا بھی شدید زخمی ہوا ہے۔

مزید : صفحہ اول