1863میں میٹرو ٹرین بن سکتی ہے ، تو اب کیوں نہیں ؟سپریم کورٹ

1863میں میٹرو ٹرین بن سکتی ہے ، تو اب کیوں نہیں ؟سپریم کورٹ

 اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ 1863میں دنیا کے دیگر شہروں میں میٹرو ٹرین بن سکتی ہے، 2017میں میٹرو ٹرین کیوں نہیں بن سکتی؟،کیا ہم ایک کے بعد دوسری رپورٹ منگواتے رہیں گے، دوسری رپورٹ پر فریقین نے اعتراض کرلیا تو تیسری منگوالیں،اس طرح نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے گا،پہلے ثابت کرنا ہوگا کہ پہلی رپورٹس میں کیاکمی رہ گئی ہے۔بدھ کو سپریم کورٹ میں اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ چوبرجی کیساتھ گرین ایریا 1995میں بنایا گیا،جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ میٹرو ٹرین سے پیدا ہونے والے ارتعاش کو کیسے جذب کیا جائے گا،میٹرو ٹریک کے اطراف ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے،میٹرو ٹرین سے ارگرد ٹریفک پر کتنا اثر پڑے گا؟۔وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ ارتعاش کو جذب کرنے کیلئے چینی سائنسی طریقہ اپنایا جائے گا۔جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ ایک ٹرین کے گزرنے کے بعد دوسری ٹرین آئے گی۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کیا اورنج لائن ٹرین 24گھنٹے چلے گی؟،وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین 16گھنٹے چلے گی۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 16گھنٹے اورنج لائن ٹرین چلانا کیا انتظامیہ کا فیصلہ ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ 1863میں دنیا کے دیگر شہروں میں میٹرو ٹرین بن سکتی ہے 2017میں میٹرو ٹرین کیوں نہیں بن سکتی؟۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ کیا ہم رپورٹ پر عالمی ماہرین کی رائے لے سکتے ہیں۔کیس کی سماعت آج (جمعرات )کوپھر ہوگی۔

مزید : صفحہ اول