ملک میں خودکش حملوں کی لہر ،17سال کے دوران 7ہزار افراد جاں بحق ،15000سے زائد زخمی

ملک میں خودکش حملوں کی لہر ،17سال کے دوران 7ہزار افراد جاں بحق ،15000سے زائد ...

لا ہور( رپورٹ :محمد یو نس با ٹھ )ملک بھر میں 17سال کے دوران500سے زائد خود کش دھماکوں میں7ہزارسے زائدفراد ہلاک جبکہ15000سے زائد زخمی ہوئے ہیں، پشاور میں17سال کے دوران سب سے زیادہ 100سے زائدخود کش حملے ہوئے جن میں 600سے زائدافراد ہلاک جبکہ1330سے زائد زخمی ہوئے۔پشاور میں13نومبر2009کو حساس ادارے کے دفتر پر بھی خود کش حملہ ہوا جس میں14اہلکار شہید جبکہ60افراد زخمی ہوئے ۔خود کش حملوں کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان18اکتوبر2007کو محترمہ بینظیر بھٹو کے کراچی میں استقبال کے دوران ہوا جس میں144افراد ہلاک جبکہ560سے زائد زخمی ہوئے۔ لا ہور میں پہلا خود کش حملہ10اکتوبر2004کو موچی گیٹ کے مقام پر ہوا جس میں6افراد ہلاک جبکہ7زخمی ہوئے۔2002میں ایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں34افراد ہلاک جبکہ15زخمی ہوئے۔27دسمبر کو لیاقت باغ میں ہونے والے خود کش حملہ میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہوئیں جبکہ دیگر32افراد ہلاک اور100سے زائد زخمی ہوئے۔10جولائی2008کو لا ہور ہائیکورٹ کے باہر خود کش حملہ میں پولیس اہلکاروں سمیت25افراد ہلاک جبکہ80زخمی ہوئے‘11مارچ2008کو لا ہور میں ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پرخود کش حملہ ہوا جس میں31افراد ہلاک جبکہ200زخمی ہوئے‘27مئی2009کو لا ہورمیں پولیس ایمر جنسی15اور سی سی پی او آفس پر خود کش حملہ ہوا جس میں پولیس افسران اور اہلکاروں سمیت28افراد ہلاک جبکہ328زخمی ہوئے۔2003میں2خود کش حملے ہوئے جن میں69افراد ہلاک جبکہ103زخمی ہوئے۔2004میں7خود کش دھماکوں میں89افراد ہلاک321زخمی ہوئے۔2005میں4خود کش دھماکے ہوئے جن میں84افراد ہلاک جبکہ219زخمی ہوئے۔2006میں7خود کش دھماکے ہوئے جن میں161افراد ہلاک جبکہ352زخمی ہوئے۔2007میں54خود کش دھماکے ہوئے جن میں765افراد ہلاک،1677زخمی ہوئے۔2008میں59خود کش دھماکے ہوئے جن میں893افراد ہلاک 1846اورزخمی ہوئے۔2009میں76خودکش دھماکے ہوئے جن میں949افراد ہلاک جبکہ2356زخمی ہوئے۔2010میں49خود کش دھماکے ہوئے جن میں1167افراد ہلاک جبکہ2199زخمی ہوئے۔2011میں41خود کش دھماکے ہوئے جن میں628افراد ہلاک جبکہ1183زخمی ہوئے۔2012میں39خود کش دھماکے ہوئے جن میں365افراد ہلاک جبکہ607زخمی ہوئے۔ رواں سال کے دوران کل31خود کش دھماکوں میں671افراد ہلاک جبکہ1300سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ2002سے شروع ہونے والے خود کش دھماکے2016میں بھی جاری رہے۔8مئی2002کو پہلا خود کش حملہ شیرٹن ہوٹل کراچی میں ہوا جس میں15افراد ہلاک جبکہ34زخمی ہوئے۔2003میں پہلا خود کش دھماکہ4جولائی کو کوئٹہ میں ہوا جس میں54افراد ہلاک جبکہ37زخمی ہوئے‘ دوسرا خود کش دھماکہ25دسمبر کو راولپنڈی میں ہوا جس میں15افراد ہلاک جبکہ46زخمی ہوئے۔2004کے دوران پہلا خود کش حملہ28فروری کو راولپنڈی میں ہوا جس میں ایک شخص ہلاک جبکہ4زخمی ہوئے‘ دوسرا حملہ7فروری کو کراچی میں ہوا جس میں16افراد ہلاک جبکہ215زخمی ہوگئے‘ تیسرا حملہ31مئی کو کراچی میں ہوا جس میں25افراد ہلاک جبکہ34زخمی ہوئے‘ چوتھا حملہ3جولائی کو وزیرستان میں ہوا جس میں2افراد ہلاک جبکہ3زخمی ہوئے‘ پانچواں دھماکہ30جولائی کو اٹک میں ہوا جس میں7افراد ہلاک ہو گئے‘ پانچواں حملہ یکم اکتوبر کو سیالکوٹ میں ہوا جس میں32افراد ہلاک جبکہ75زخمی ہوئے ، ساتواں خود کش حملہ10اکتوبر کو موچی گیٹ لا ہور میں ہوا جس میں6افراد ہلاک جبکہ7زخمی ہو گئے تھے‘ صوبائی دارالحکومت میں یہ پہلا خود کش حملہ تھا۔2013میں پہلا خود کش حملہ10جولائی کو علمدار روڈ کوئٹہ کے مقام پر ہوا جس میں106افراد ہلاک جبکہ170سے زائد زخمی ہوئے‘ دوسرا حملہ اسی روز مینگورہ سوات میں ہوا جس میں31افراد ہلاک جبکہ70سے زائد زخمی ہوئے۔یکم فروی کو ہنگو میں ہونے والے خود کش حملہ میں29افراد ہلاک جبکہ47زخمی ہوئے‘2فروری کو لکی مروت میں ہونے والے حملہ میں36افراد ہلاک جبکہ12زخمی ہوئے‘14فروری کو ہنگو میں ہونے والے حملہ میں11افراد ہلاک جبکہ24زخمی ہوئے‘اسی روز بنوں میں بھی خود کش حملہ ہوا جس میں6افراد ہلاک جبکہ5زخمی ہوئے‘18فروری کو پشاور میں ہونے والے خود کش حملہ میں8افراد ہلاک جبکہ6زخمی ہوئے‘18مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں ہونے والے حملہ میں5افراد ہلاک جبکہ49زخمی ہوئے‘19مارچ کو خیبر ایجنسی میں خود کش حملہ میں48افراد ہلاک جبکہ12زخمی ہوئے‘23مارچ کو میرانشاہ میں ہونے والے حملہ میں19افراد ہلاک جبکہ25زخمی ہوئے‘29مارچ کو پشاور میں ہونے والے خود کش حملہ میں12افراد ہلاک جبکہ35زخمی ہوئے‘18جون کو مردان میں ہونے والے خود کش حملہ میں36افراد ہلاک جبکہ57زخمی ہوئے‘21جون کو پھر گلشن کالونی پشاور میں خود کش حملہ ہوا جس میں15افراد ہلاک جبکہ25زخمی ہوئے‘30جون کو کوئٹہ میں خود کش حملہ ہوا جس میں29افراد ہلاک جبکہ60زخمی ہوئے‘26جولائی پارا چنار میں خود کش حملہ ہوا جس میں62افراد جبکہ180زخمی ہوئے‘8اگست کو پولیس لائن کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملہ میں ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت39پولیس افسران اور اہلکارشہید جبکہ40سے زائد زخمی ہوئے۔2012کے دوران 2مارچ کو خیبر ایجنسی میں ہونے والے خود کش حملہ میں26افراد ہلاک جبکہ22زخمی ہوئے‘11مارچ کو پشاور میں ہونے والے خود کش حملہ میں18افراد ہلاک جبکہ32زخمی ہوئے‘4مئی کو باجوڑ میں ہونے والے خود کش حملہ میں30افراد ہلاک جبکہ72زخمی ہوئے‘8جون کو پشاور میں ہونے والے خود کش حملہ میں22افراد ہلاک جبکہ40زخمی ہوئے‘21نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے خود کش حملہ میں21افراد ہلاک جبکہ30زخمی ہوئے‘29نومبر کو فاٹا میں ہونے والے خود کش حملہ میں8افراد ہلاک جبکہ15زخمی ہوئے۔2نومبر2014کو واہگہ با رڈر میں خود کش دھما کے کے دوران 67افراد جا ں بحق اور 180سے زائد زخمی ہو گئے ۔گز شتہ سا ل پو لیس لا ئن قلعہ گجر سنگھ میں ہو نے والے خو د کش دھما کے کے دوران 3 اہلکار شہید جبکہ پو لیس کی سخت سیکیورٹی کے پیش نظر حملہ آ ور اپنے ٹا رگٹ تک نہیں پہنچ سکا تھااور اس نے اہلکاروں کے قر یب پہنچ کرخود کو دھما کے سے اڑا لیا ۔27ما رچ2016کو گلشن اقبا ل پارک اقبا ل ٹاؤن میں ہونے والے خو دکش دھما کے کے دوران73افراد جا ں بحق جبکہ 300سے زائد زخمی ہو گئے ۔ 2016 میں ایک رپورٹ کے مطا بق پا کستان کے مختلف 35شہرو ں میں خو د کش دھما کو ں کے دورا ن 300سے زائد افراد شہید ہو ئے جبکہ رواں سا ل 4جنوری کو ڈیر ہ اسما عیل خا ں میں 5پو لیس اہلکا رو ں سمیت 15افراد شہید ،20جنور ی کو قبا علی علا قے میں 25افراد شہید ، 13 فروری 201کو ما ل رو ڈ اسمبلی ہال چوک میں ہو نے والے خود کش دھما کے کے نتیجے میں،ڈ ی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن(ر)سیّد احمد مبین،ایس ایس پی آ پریشنز زاہد نواز گوندل سمیت 16 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ80 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے، 15فروری کومہمند ایجنسی میں 5افراد شہید اور 15فروری کو ہی پشاور حیات آباد میں دو شہید سا ت زخمی،16فروری کو دربارشہبا ز قلندر میں 88 افرادشہید 350زخمی17،فروری کوڈیر ہ اسما عیل خا ں میں 4پو لیس افسرو ں سمیت 5افرد شہید، پشاور سیشن کور ٹ میں 7افراد شہید،.31ما رچ کو پا رہ چنا ر اما م با ر گاہ میں 25شہید 90زخمی ہو ئے ہیں اور اب بید یا ں روڈ پر مردم شما ری کے لیے جا نے وا لی ٹیم پر خو د کش دھما کے سے پا ک فو ج کے جوانو ں سمیت 5افراد نے جا م شہا دت نو ش کیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول