ذوالفقارعلی بھٹو شہید کانام اورکام دونوں زندہ ہیں،اشرف بھٹی

ذوالفقارعلی بھٹو شہید کانام اورکام دونوں زندہ ہیں،اشرف بھٹی

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی رہنما محمد اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کانام اورکام دونوں زندہ ہیں۔قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹوکی سیاست خدمت،استقامت، شجاعت اورشہادت سے عبارت ہے۔روحانی بزرگ فرماگئے،'' جس کی قبرزندہ وہ زندہ ہے''۔ذوالفقارعلی بھٹوشہید کی قبر زندہ ہے لہٰذاء وہ روحانی طورپرزندہ اورہمارے درمیان ہیں ۔کچھ زندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہوتے جبکہ کچھ شخصیات تختہ دارپرلٹکائے جانے کے باوجودان کاوجود تاریخ میں زندہ وجاوید رہتاہے۔ ذوالفقارعلی بھٹوشہید کامزاربھی بناجبکہ اس کے قاتل کی شناخت نہیں ہوئی تھی مگرپھر بھی مزاربنادیا گیا مگر شہید اورقاتل کے مزارات میں زمین آسمان کافرق ہے۔ذوالفقارعلی بھٹوشہید کے عقیدتمندوں نے انہیں ولی اللہ کامقام دے دیا ۔جس طرح پاکستان ایک زندہ معجزہ ہے، اس طرح پاکستان کی حفاظت کیلئے سردھڑ کی بازی لگانیوالے شہید بھی زندہ ہیں۔

آج بھی پاکستان کی قومی سیاست ذوالفقارعلی بھٹو شہید سے محبت اوردشمنی کی بنیاد پرتقسیم ہے ۔وہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے یوم شہادت کے سلسلہ میں ایک پروقارتقریب سے خطاب کررہے تھے ۔محمد اشرف بھٹی نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعمیروترقی اورمادروطن کودفاعی طاقت بنانے کیلئے ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی دوررس اصلاحات سے معاشرے کاکوئی طبقہ محروم نہیں رہا ۔سامراجی قوتوں نے چندمقامی سیاسی بونوں اورغداروں کی مددسے ملک وقوم کو ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی جراتمندانہ قیادت سے محروم کردیاورنہ آج جنوبی ایشیاء کانقشہ قدرے مختلف ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ اگرایک ساز ش کے تحت ذوالفقارعلی بھٹوکو شہیدنہ کیاجاتا توآج جموں وکشمیر آزاد اورپاکستان کاحصہ ہوتا ۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان سے محبت کی پاداش میں جام شہادت نوش کیا اورپاکستانیوں کواحسان فراموش نہیں کہاجاسکتا کیونکہ وہ آج بھی ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے نام پرووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4