ایم کیو ایم بھی انتخابی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں کو دپڑی

ایم کیو ایم بھی انتخابی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں کو دپڑی

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی نو سالہ کارکردگی پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا ہے جس میں ان زیادتیوں کا تفصیلی تذکرہ ہے جو ڈاکٹر فاروق ستار کے بقول سندھ میں اردو بولنے والوں کے خلاف روا رکھی جا رہی ہیں۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ آٹھ سال میں کے ایم سی کو 30 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ کراچی کو وفاق سے ملنے والے وسائل کا 5 فیصد بھی نہیں دیا گیا۔ سب سے زیادہ ٹیکس شہری علاقوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے 1970ء میں کوٹہ سسٹم کے تحت صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ نوکریوں کی بندر بانٹ کی گئی ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی گئی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ پیپلز پارٹی کی نو سالہ کارکردگی سے متعلق ہیں، جس کا آغاز 2008ء کے انتخابات کے بعد ہوا۔ اس عرصے میں وہ عرصہ بھی شامل ہے جب ایم کیو ایم وفاق اور صوبے میں دونوں جگہ شریک حکومت تھی، ذرا پیچھے جائیں تو جنرل پرویز مشرف کے پورے عرصۂ اقتدار میں بھی ایم کیو ایم وفاق اور صوبے میں حکمرانی میں شریک تھی اور جنرل صاحب نے ایم کیو ایم کے نامزد کردہ ڈاکٹر عشرت العباد کو صوبے کا بااختیار گورنر بنایا تھا، انہیں اپنے عہد میں بعض ایسے اختیارات بھی دئے گئے تھے جو دوسرے کسی صوبے کے گورنر کو حاصل نہیں تھے، کو ایسے اختیارات بھی دئے گئے تھے جو آئین میں انہیں حاصل نہ تھے لیکن جنرل پرویز مشرف نے خصوصی اختیارات کے تحت انہیں یہ اختیارات دے رکھے تھے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، یہی عشرت العباد سندھ کے گورنر تھے، جنرل پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنی وفاقی حکومت کے پورے عرصے میں انہیں گورنر کے عہدے پر قائم رکھا، پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو بھی وہ بدستور گورنر رہے اور چند ماہ پہلے ہی انہیں ہٹایا گیا ہے۔ اس سارے عرصے میں گورنر نے اگر کراچی کی ترقی میں کوئی خصوصی کردار ادا نہیں کیا تو اس میں پیپلز پارٹی کلی طور پر ذمے دار نہیں ہے، لامحالہ کچھ نہ کچھ بوجھ ڈاکٹر عشرت العباد کو بھی اٹھانا چاہئے، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے 22 اگست 2016ء کے بعد جو حصے بخرے ہوئے ہیں اس کے بعد پارٹی رہنما ایک دوسرے پر بھی الزام تراشی کر رہے ہیں، مثلاً ایم کیو ایم جب بھی شریک حکومت ہوئی۔ شپنگ کی وفاقی وزارت اس کے پاس رہی۔ اب بابر غوری بیرون ملک جا بیٹھے ہیں اور ان پر جو الزامات لگ رہے ہیں ان کا حساب دینے کیلئے بھی وہ تیار نہیں۔ اسی طرح مصطفی کمال نے ڈاکٹر عشرت العباد کو رشوت العباد کہہ کر پکارا اور جب وہ کراچی میں تھے تو دو چار دن تک ان کے تلخ بیانات آتے رہے، اب عشرت العباد دبئی میں بیٹھے ہیں اور مزے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے انہیں پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

ایم کیو ایم نواز شریف حکومت کے پہلے دو ادوار، بینظیر بھٹو کے پہلے دور، جنرل پرویز مشرف کے پورے دور اور اس 9 سالہ دور کے بھی پانچ سال تک شریک حکومت رہی جس کی کارکردگی کے بارے میں وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے اس عرصے میں ایم کیو ایم نے اقتدار کے مزے تو لوٹے، لیکن اب تک اس کا موقف یہی ہے کہ اس کے پاس اختیارات نہیں تھے، حالانکہ ایم کیو ایم جب شریک حکومت تھی تو اس کے وزرأ نہ صرف پوری طرح بااختیار تھے بلکہ اگر کسی وزیر کی وزارت تبدیل کی جاتی تھی یا کرنے کا صرف سوچا ہی جاتا تھا تو لندن سے بڑا سخت ردعمل آجاتا تھا، اس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے وزرأ استعفا دے کر گھر بیٹھ جاتے تھے۔ آصف علی زرداری کی حکومت میں عبدالرحمن ملک روٹھے ہوؤں کو منانے کے لئے کئی بار لندن گئے اور پھر روٹھنے والے مان بھی گئے۔ حالانکہ اس سے اس وقت کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا خوش نہیں تھے، انہوں نے قرآن حکیم سر پر رکھ کر ایم کیو ایم پر بعض سنگین الزامات لگائے تھے، اتنے سنگین الزامات نے بھی ایم کیو ایم کا کچھ نہیں بگاڑا اور وہ بدستور شریک حکومت رہی۔ الٹا ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو اپنی صوبائی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے اور بعدازاں آصف علی زرداری اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی دوستی بھی جاتی رہی۔ اب ڈاکٹر فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کی نو سالہ کارکردگی کا جو وائٹ پیپر شائع کیا ہے اس میں اس دور کی کوئی نہ کوئی ذمہ داری تو قبول کرنی چاہئے، جب وہ خود شریک حکومت تھی، حکومت جانے کے بعد بھی کراچی کے بعض اداروں میں کوئی بھرتی ایم کیو ایم کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔ سٹیل ملز کی تباہی میں کچھ نہ کچھ حصہ ان گھوسٹ ملازمین کا بھی ہے جن کے نام پر تنخواہیں تو وصول کی جاتی تھیں لیکن انہیں کبھی کام کرتے نہیں دیکھا گیا۔

اس وقت کراچی کچرے کا جو ڈھیر بنا ہوا ہے اس میں زیادہ خرابی کی وجہ وہ طرز عمل ہے جو صوبائی حکومت نے کے ایم سی کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے اور کے ایم سی کو ضرورت کے مطابق وسائل دستیاب نہیں، یہاں تک کہ چند روز قبل 130 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ابن قاسم باغ کے ایم سی اور میئر سے مشاورت کے بغیر دس سال کے لئے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دیا گیا، جس کے خلاف میئر نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے اس عرصے میں باغ پر 25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنی تھی، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ اس فی سبیل اللہ کام میں کس کس کا کیا مفاد وابستہ تھا، اور اگر بعض لوگوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا تھا تو بلدیہ کراچی کا مفاد کیوں مجروح کیا گیا؟ میئر کراچی نے کہا تھا کہ انہیں ابن قاسم باغ ملک ریاض حسین کو دینے پر کوئی اعتراض نہیں تو کم از کم ان سے مشاورت تو ہونی چاہئے تھی۔ اب کراچی کا کچرا جس کسی کی غفلت سے جمع ہوا ہے، پیپلز پارٹی مانے یا نہ مانے، اس سے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی ساکھ ضرور مجروح ہوئی ہے ۔ کچرے کے ان ڈھیروں کی موجودگی میں جب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ گڈگورننس اور صوبے کی ترقی کے دعوے کرتے ہیں تو کوئی ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

انتخابی حکمت عملی

مزید : تجزیہ