مردم شماری کے دوران نئے سکیورٹی پلانپر غور کیا جر رہا ہے :آصف باجوہ

مردم شماری کے دوران نئے سکیورٹی پلانپر غور کیا جر رہا ہے :آصف باجوہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مردم شماری کمشنر آف پاکستان آصف باجوہ نے لاہور میں مردم شماری سکیورٹی پر مامور فوجیوں کی گاڑی پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانیوں کے حوصلوں کو پست اور ان کو مایوس نہیں کر سکیں گے ۔ پاکستان دشمن قوتوں کی ہر سازش کا مقابلہ اور دشمنوں کا صفایا کرتے ہوئے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ۔ مردم شماری کے دوران نئے سکیورٹی پلان پر غور کیا جا رہا ہے ۔ مردم شماری عملہ اور فوج مل کر سکیورٹی پلان تیار کریں گے ۔ اب تک کے مردم شماری کے عمل سے مطمئن ہیں ۔ پہلے مرحلے کے 63 اضلاع میں اگر کوئی گھر یا علاقہ خانہ شماری سے رہ گیا ہے تو فوری طور پر آگاہ کیا جائے اور ڈپٹی کمشنر سے بھی 7 اپریل تک خانہ شماری مکمل ہونے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔ فارم 2 (الف) پر مردم شماری کے بعد کام شروع ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو محکمہ شماریات کراچی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ آصف باجوہ لاہور کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہاکہ یہ افسوس ناک واقعہ صبح 8 بجکر 20 منٹ پر پیش آیا ۔ ایک نجی گاڑی میں 17 فوجی اہلکار سوار تھے ، جو مردم شماری کی سکیورٹی کے لیے جا رہے تھے ۔ دہشت گرد خودکش حملہ آور نے ان کو نشانہ بنایا ، جس کے نتیجے میں 4 فوجی جوانوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں ایک عام شہری اور ایک ایئرفورس کا اہلکار تھا اور 19 افراد زخمی ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس غم اور صدمے کے موقع پر پوری قوم شہید ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں اور ان کے اہلخانہ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بزدلانہ حملے ہیں ۔ اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانیوں کو ملک کی ترقی ، خوش حالی اور عوام کی خدمت کے نہیں روک سکتے اور نہ ہی وہ مایوس کر سکتے ہیں بلکہ اس طرح کے واقعات سے ہمارا ارادہ اور مضبوط ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا مشن ہے کہ ملک دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جائے ۔ ہم ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں گے ۔ آصف باجوہ نے کہا کہ مردم شماری کے دوران سکیورٹی مزید سخت کر دی جائے گی اور نئے سکیورٹی پلان پر غور کیا جائے گا ۔ اس ضمن میں سکیورٹی اہلکار مردم شماری عملہ اور فوج مل کر عمل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری جاری ہے ۔ ۔ میں تمام عملے سے کہتا ہوں کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اور دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیں ۔ مردم شماری کے دوران سکیورٹی کے دائرے کو بھی بڑھا دیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے تھے تاہم مردم شماری کے دوران لوگوں کے لیے سکیورٹی وجہ سے راستہ نہیں بند کر سکتے ۔ اس وقت 44 ہزار شمار کنندگان ، ایک لاکھ 30 ہزار فوجی اہلکار ، اس کے علاوہ پولیس ، لیویز ، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی مردم شماری میں اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ۔ ایک ٹیم مجموعی طور پر 5 افراد پر مشتمل ہوتی ہے ۔ جس میں ایک سول شمار کنندہ ، ایک فوجی شمار کنندہ اور دو فوجی سکیورٹی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار ہے ۔ مردم شماری کمشنر نے کہا کہ اب تک ملک میں کہیں بھی کوئی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا ہے ۔ 63 اضلاع میں مردم شماری کا عمل جاری ہے اور خانہ شماری مکمل ہو چکی ہے ۔ ان اضلاع میں اگر کوئی گھر یا علاقہ رہ گیا ہے تو 13 اپریل تک فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے تاکہ ان کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جا سکے ۔ ہم نے تمام مردم شماری اضلاع کے ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ 7 اپریل تک متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے علاقوں میں خانہ شماری کی تکمیل کی رپورٹ پیش کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 18 ہزار 24 اہلکاروں پر مشتمل مردم شماری عملہ اور ایک لاکھ 70 ہزار فوجی اہلکار مردم شماری میں حصہ لے رہے ہیں ۔ کیلاش برادری کے مذہب کے اندراج کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے اور یہ دوسرے مرحلے میں شامل ہے ۔ سکھوں کے مذہب کے اندراج کے حوالے سے عدالتی حکم پر قانونی مشاورت جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سندھ اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے خدشات کے جواب وفاقی وزیر خزانہ دے چکے ہیں ۔ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر معلوم فراہم کی جائیں ۔ مردم شماری کے فارم 2 الف پر کام شروع کیا جائے گا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول