پاک افغان سرحد تجارت کیلئے فوری طور پر کھولا جائے:مشترکہ جرگہ

پاک افغان سرحد تجارت کیلئے فوری طور پر کھولا جائے:مشترکہ جرگہ

پاراچنار(نمائندہ پاکستان )کرم ایجنسی میں پاک اور افغانستان عمائدین کا مشترکہ جرگہ ہوا۔جرگے نے حکام سے افغان سرحد آمدورفت کیلیے کھولنے کا مطالبہ کردیا۔ افغانستان کے صوبہ پکتیا کے صباری ، منگل ، جاجی اور کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائلی عمائدین کا افغان سرحد خرلاچی میں جرگہ ہوا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عمائدین حاجی عون علی ، حاجی نوروز علی اور ملک ناصر حسین ، افغانستان کے قبائلی عمائدین ملک جہانگیر ، عبدالولی اور ہمایون خان اور دیگر رہنماوں نے کہا کہ مسلسل 16 فروری سے کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد آمدورفت اور تجارت کیلیے بند ہے جس سے تاجروں ، ڈرائیوروں اور عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے عمائدین کا کہنا تھا کہ سرحد کی دونوں جانب سامان سے بھری گاڑیاں سرحد کھلنے کی منتظر ہیں اور گاڑیوں میں موجود خوراکی اشیاء خراب ہورہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہاہے جبکہ دوسرے لوگوں کو بھی ذریعہ آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عمائدین نے مطالبہ کیا کہ چمن اور طورخم کی طرح کرم ایجنسی میں بھی افغان سرحد جلد کھول دی جائے۔ جرگے نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افغان سرحد کھولنے کیلیے وہ کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ اور فورسز حکام کے علاوہ گورنر سرحد سے رابطہ کریں گے اور سرحد کی بندش کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات سے حکام کو آگاہ کریں گے۔ دوسری جانب پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغان سرحد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کردی گئی ہے اور اعلی' حکام سے احکامات ملنے کے بعد ہی سرحد کو کھولا جا سکتاہے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پکتیا کے قبائلی رہنما ہمایون خان نے بتایا کہ افغانستان کے قریبی علاقوں میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے وہ مریضوں کو پاراچنار لیکر جاتے تھے مگر سرحد کی بندش کی وجہ سے اب دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اس لیے افغان سرحد جلد سے جلد کھولی جائے قبائلی رہنما مصائب حسین نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کو بھی افغان سرحد کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں سرحد کی بندش سے ان کی گاڑیوں اور گداموں میں خوراکی اشیاء خراب ہورہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہاہے۔اس موقع میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے 25 سالہ عبداللہ اور ظاہر حسین نے بتایا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے وہ مسلسل 16 فروری سے بیروزگارہیں اور بیروزگاری کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبورہیں

مزید : کراچی صفحہ اول