کاٹلنگ ،تازہ گرام میں زیر تعمیر بجلی گھر سنگین تنازعہ کا شکار،عوام سراپا احتجاج

کاٹلنگ ،تازہ گرام میں زیر تعمیر بجلی گھر سنگین تنازعہ کا شکار،عوام سراپا ...

کاٹلنگ (نمائندہ پاکستان )تازہ گرام میں زیر تعمیر بجلی گھر سنگین تنازعے کا شکار، اہلیان سراپا احتجاج ، بجلی گھر پر سٹیل کارخانہ کسی بھی صورت منظور نہیں۔ موت بانٹنے کی اجازت نہیں دینگے۔ اے سی ، ڈی سی، کمشنر اور ڈی جی ماحولیات اپنے ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پندرہ اپریل تک حکومت نے نوٹس نہیں لیا تو اہل علاقہ اپنے حقوق زبردستی حاصل کرینگے ۔ اور کسی بھی ناخوشگوار واقع کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ کاٹلنگ میڈیا کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران تازہ گرام کے ناظم زاہد کمال، نائب ناظم نواب گل، اے این پی رہنما شیر محمد، عمرا خان، ملک شیر زادہ اور ظفر علی خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تازہ گرام میں پہلے سے موجود سٹیل کارخانے کی وجہ سے سینکڑوں افراد پھیپھڑوں کے سرطان اور سانس کے بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ جبکہ 9سالہ بلقیس بنت عمر کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی۔ ان کی والدہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ماحولیات کو گمراہ کرکے بجلی گھر کی کنسٹرکشن کی این او سی حاصل کرلی گئی۔ اہل علاقہ کو بھی اعتراض نہیں تھا کہ انہیں بجلی گھر سے بجلی ملے گی۔ اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات ملے گی۔ تاہم بجلی گھر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اب سٹیل کارخانہ لگانے کی تیاریاں کی جارہی ہے۔ بجلی گھر کے اس پاس ہزاروں گنجان آبادی ہے۔ اور پہلے سے نصب کارخانے ماحولیاتی آلودگی پھیلا ررکھی ہے۔ جن سے سینکڑوں افراد متاثر ہے۔ علاقے میں یہ دوسرا بجلی گھر ہے مگر اہل علاقہ کو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ کسی کو روزگار دیتا اور نہ ہی بجلی۔ اس سنگین صورت حال کے حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈائریکٹر جنرل ماحولیات کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے نسل نو کے مستقبل بچانے کے لئے ہر حد سے گزر جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو دس روز کی الٹی میٹم دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ پندرہ اپریل تک سٹیل مل لگانے کے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو پھر اہل علاقہ اپنے حقوق کے لئے مزاحمتی تحریک شروع کردینگے۔ جن میں کسی بھی رکاوٹ کو برداشت کریں گے۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول