آئی جی پی کی دی پی اوز کو عوام سے قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت

آئی جی پی کی دی پی اوز کو عوام سے قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت

پشاور( کرائمز رپورٹر )انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواصلاح الدین خان محسود نے ضلعی پولیس افسروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور اس مقصد کے لیے اپنا اپنا موبائل نمبر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے فوری طور پر اُن کو فراہم کریں۔یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاو ر میں آمن و آمان سے متعلق صوبہ بھر کے ضلعی پولیس افسروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز ، ایس ایس پی پشاوراور تمام اضلاع کے ضلعی پولیس افسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ آئی جی پی نے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں تنازعات کے حل کے کونسلوں کا دورہ کرکے اُن کے ارکان سے ملیں اور عوام کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنے تنازعات / مسائل کے حل کے لیے ڈی آر سی سے رجوع کرسکے۔ انہیں پولیس اسسٹنس لائن کا دورہ کرکے اُن میں تعینات عملے کا عوام کے ساتھ رویہ اور مسائل کے حل کے لیے اختیار کردہ میکنزم چیک کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ڈی پی اُوز کو ایس ایچ اُوز اور محرران کا اجلاس بلا کر انہیں شکایت کنندہ گان بالخصوص عام شہریوں کے ساتھ نرم اور شائستہ رویہ اپنانے اور اپنے اعلیٰ اخلاق سے اُن کے دل جیتنے کی ہدایت کی اورکہا کہ بداخلاق ، کرپٹ اور فورس کی بدنامی کا سبب بننے والے اہلکاروں کو کسی بھی صورت برداشت نہ کیا جائے اور غفلت برتنے پر انہیں فورس سے فارغ کیا جائے۔ شرکاء کو فورس کے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کا بھرپور خیال رکھنے، اُن کے عرض و معروض کے لیے باقاعدگی سے اردلی روم منعقد کرانے، اُن کی رہائش اور اچھی خوراک کا بندوبست کرنے، فیلڈ میں جاکر تھانوں، پولیس پوسٹوں اور ناکہ بندیوں پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے جوانوں سے ملکر اُن کے مسائل و مشکلات سے آگاہی حاصل کرنے اور اسے دور کرنے کے لیے اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی اوردوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اہلکاروں کا بلٹ پروف جیکٹ نہ پہننے اور بے گناہ ، بے بس اور لاچار لوگوں پرظلم و تشدد کرنے کی صورت میں متعلقہ ڈی پی اُو ذمہ دار ہوگا۔آئی جی پی نے شرکاء کو دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے دیگرایجنسیوں کے ساتھ قریبی کوارڈنیشن رکھنے اور کسی بھی خطرہ/الرٹ کو سنجیدگی سے لیکر اس سے موثر طریقے سے نمٹنے اور شیڈول فور کے ملزمان کے نقل و حمل کو باقاعدگی سے مانیئر کرنے کی بھی ہدایت کی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس شہداء کی قربانی اپنی ذات، رشتہ داروں یا خاندان کے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے تھیں اورشرکاء کو ہدایت کی کہ وہ شہدا کے ورثاء کا پوراپورا خیال رکھیں، ان کی خدمت کے لیے یوم شہدا پولیس کا انتظار نہ کریں بلکہ روزمرہ کی بنیاد پر اُن سے رابطے میں رہ کر اُن کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائیں۔شرکاء کو پولیس عمارتوں سمیت اہم تنصیبات اور وی آئی پی کی سیکورٹی کو یقینی بنانے، جلسہ جلوس کی صورت میں بذات خود موقع پر جاکر جلسہ گاہ میں سیکورٹی انتظامات کا جائیزہ لینے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملکر فول پروف سیکورٹی اقدامات اُٹھاے کی بھی ہدایت کی۔ ڈی پی اُوز کو اپنے دفتر کے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلا رکھنے، اُن کے مسائل و مشکلات توجہ سے سننے اور ان کے حل کے لیے موقع پر احکامات جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔شرکاء کو منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ عزت و احترام کا رشتہ قائم کرنے ،فوری طور پر ضلعی اسمبلیوں کا دورہ کرکے تمام نمائندوں بشمول ضلعی اسمبلی ارکان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے اور ضلع میں امن و آمان سے متعلق انہیں اعتماد میں لینے کی بھی ہدایت کی ۔قبل ازیں تمام ضلعی پولیس افسروں نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و آمان سے متعلق درپیش چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کے لیے پولیس کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر