اسلام کی سربلندی ،ملک کے بقاء کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے :مولانا عبدالشکور

اسلام کی سربلندی ،ملک کے بقاء کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے :مولانا عبدالشکور

تورڈھیر(نمائندہ خصوصی) مدرسہ تعلیم القرآن محلہ سیدان جلبئی میں منعقدہ دستارفضیلت کی سالانہ اجتماع کے موقع پرتقریب کے مہمانان خصوصی شیخ القرآن والحدیث مولانا غلام حبیب، مولانا عبدالشکوردیر، مولانا خائستہ رحمن خال دیراور مولانا ابواحمد بادشاہ منیرنے ملے جلے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی بقا ء وسا لمیت کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں اور انشااللہ اداکرتے رہیں گے ، اسلام امن، محبت اوربھائی چارے کادین ہے جسمیں تمام مخلوقات کے حقوق کا پوراپورا لحاظ اور اکرام رکھا گیاہے دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں دینی مدارس سے دہشت گردیا انسانیت کو کسی بھی قسم کی ایذا پہنچانے والے نہیں بلکہ صحیح مسلمان، اصلی پاکستانی، محب وطن اور قرآن وحدیث کے علوم کی روشنی میں اللہ اور رسول کے احکامات کاعملی نمونہ بن کرپوری انسانیت کی خیرخواہی کے جذبہ سے مزئین و سرشار انسان نکلتے ہیں مقررین کامزید کہنا تھا کہ قرآن وحدیث کے بغیر مسلمان کی زندگی ادھوری ہے اور اگر حکومت ایک یونیورسٹی کے سالانہ فنڈزکے برابرفنڈز ملک کے تمام دینی مدارس کو بھی مہیا کرنا شروع کرے توعلمائے کرام قوم کے نوجوانوں کواسلامی تعلیمات سے منور کرکے پوری دنیا میں ایک باوقار ،مہذب ،مؤدب اورانسانیت کی بھلائی کا ایک عملی نمونہ بناکر پیش کرسکتے ہیں لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت پاکستان کھیلوں اور موسیقی کے پروگراموں پر تواربوں روپے خرچ کررہی ہے مگر دینِ حق مذہب اسلام کی خاطر ایک سرکاری روپیہ خرچ کرناگوارہ نہیں کرتی مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام میں عورتوں کوجو حقوق اور انہیں جو حیثیت ومقام دیا گیا ہے اسکا تصور دنیا کے کسی بھی مذہب ومعاشرہ میں نہیں اسلامی معاشرہ کے سوا کہیں پر بھی عورت کی نہایت تذلیل کرکے انہیں شوپیس کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ اسکے برعکس ہمارا مذہب ہر عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی بقدر عزت ووقار اوراحترام دینے کا درس دے رہا ہے اس موقع پر24 طلبا کا حفظ قرآن، 26 کا ناظرہ قرآن اور4 طلبا کا قرآن باترجمہ مکمل کرنے پر انکی دستار بندی کی گئی اورمدرسہ ھٰذا کے مدرسین مولانا خطیب اللہ، مولاناعزیرعلی، مولانا اعجاز، مولانا امان اللہ اور قاری محمد عامر نے پوزیش لینے والے طلبا میں انعامات بھی تقسیم کئے جبکہ صدر مجلس مولانا عبدالمقدس باچہ نے مدرسے کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدرسہ ھٰذا کاقیام 1970 میں ہوا یہاں پر1980 سے باقاعدہ درس قرآن کاسلسلہ جاری ہے مدرسہ ھٰذا کامخصوص و منفرد اعزاز یہ ہے کہ یہاں کے طالبعلم حافظ محمدداؤد شاہ نے پورے پاکستان بھر میں چٹھی نمبر اورخیبر پختونخوا میں پہلی پوزیشن لیکر مدرسے کا نام روشن کیا ہے انکا کہنا تھا کہ یہاں پر320 سے زاید طلبادین اسلام کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر