فاٹا ریفارمز کی مخالفین نے پاکستان کی بھی مخالفت کی تھی :الحاج شاہ جی گل

فاٹا ریفارمز کی مخالفین نے پاکستان کی بھی مخالفت کی تھی :الحاج شاہ جی گل

جمرود (نمائیندہ پاکستان )پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے ،افغانستان میں اہم عہدوں پر امپورٹڈلوگ بیٹھے ہیں ،افغان حکمران اپنے عوام کی فکر نہیں کرتے ،پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں ،قبائلی علاقوں میں امن قائم ہو گیا ہے ،فاٹاسپر لیگ بھی اس کی کڑی ہے ،بارڈر منجمنٹ میں قبائلی عوام کے امنگوں کے مطابق مشورے دئیے ہیں ،فاٹاریفامز کا جو لوگ مخالفت کر تے ہیں انہی لوگوں نے پاکستان بننے کے پاکستان کی مخالفت کی تھی ،فاٹاپارلیمانی لیڈر الحاج شاہ جی گل کا اپنے رہائش گا ہ میں پریس کانفرنس سے خطاب فاٹاکے پارلیمانی لیڈر الحاج شاہ گل نے اپنے رہائش گا شاہ کس میں پر یس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ وہ فاٹا کی پارلیمانی لیڈر کی حثیت سے فاٹا کی بات کر ینگے اس لئے انہوں نے ہر ایجنسی میں ایک یونیورسٹی انڈسٹریل زون بنانے کیلئے کوشش تیز کر دی ہیں اور معدینات پر تمام قبائلی عوام کو حق دینا اور قبائیلوں کو متحد کر نے کیلئے کوشش تیز کر دی ہیں اس لئے فاٹا سپر لیگ کا انعقاد کرکے قبائلی عوام کو اکھٹاکیا اور تاریخ میں پہلی بار فاٹا سپر لیگ کا انعقاد کیا گیا انہوں نے کہا کہ جس طرح حکمران جماعت اور سیاسی پارٹیوں نے فاٹا ریفا مز میں ساتھ دیا اسی طرح وہ آئینی تر میم میں بھی ساتھ دیں اور وہ بھر پور کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ فاٹا ریفامز کے حوالے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں جس نے فاٹا ریفامز کی مخالفت کی تھی انہوں نے پاکستان بننے کے وقت پاکستان کی مخالفت بھی کیا تھا لیکن اس وقت بھی وہ رسوا ہو گئے تھے اور بھی وہ رسوا ہو نگے انہوں نے کہا کہ آئینی تر میم میں وہ کوشش کر ینگے کہ پاکستان کی وزیراعظم میاں محمدنواز شریف قبائلی علاقوں میں آکر آئینی ترمیم کا اعلان کر یں انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں انہوں نے کھل کر کہاتھا کہ سی پیک میں اربوں روپے جس کی قربانیوں کی وجہ سے خرچ ہو رہے ہیں انکے کیلئے سی پیک کو ئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ انکو کوئی فائدہ ہیں الحاج شاہ جی گل نے کہا کہ بارڈر منجمنٹ میں قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق مشورے دئیے ہیں اور انکی کوشش ہو گی کہ بارڈر پر قبائلیوں کیلئے راہدری پاس بنایا جاسکے انہوں نے کہا کہ فاٹا میں پہلے جتنے بھی تر قیاتی کام ہو ئے ہیں وہ خیراتی اداروں نے کئے ہیں کیونکہ فاٹاکے ایک شخص کو ایک ہزار ترقی فنڈ ملتا ہیں جو کچھ بھی نہیں ہیں اس لئے انہوں نے دن رات ایک کرکے فاٹا سے ظالمانہ قانون کو ختم کرنے کیلئے کوشش کی اور فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے بھر پور جہدوجہدکی جو کامیاب ہو گیاآخرمیں انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام مردم شماری میں بھی پور حصہ لے اور کوشش کریں کہ کوئی بھی مردم شماری میں رجسٹریشن نے رہ سکے انہوں نے کہا کہ اپنے حلقے میں بجلی پانی ایجوکیشن ہیلتھ اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کروں گا ان سے وہ بخوبی آگاہ ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر