مسلم کالج ہاسٹل میں کمسن طالبعلم سے بداخلاقی کے انکشاف پر والدین خوفزدہ

مسلم کالج ہاسٹل میں کمسن طالبعلم سے بداخلاقی کے انکشاف پر والدین خوفزدہ

ملتان ( سٹاف رپورٹر )پرائیویٹ مسلم کالج کے ہاسٹل میں کمسن طالب علم سے زیادتی کا واقعہ منظر عام آنے پر طلبا کے والدین خوف زدہ ہو گئے ‘ اپنے بچوں کی فکر لاحق ہو گئی ‘ سکول انتظامیہ کی واقعہ دبانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں تفصیل کے مطابق سلیم تونسوی کے اڈا لاڑ پر قائم کردہ مسلم کالج کے ہاسٹل میں 13سال طالب علم (الف) کے ساتھ گھناؤناکھیل کھیلا جاتا رہا ‘ بچے کو دیگر طلبا زیادتی کا نشانہ بناتے رہے معصوم بچہ خوف اور ڈر کے مارے خاموش رہا اور ظلم سہتا رہا مگر چند روز قبل تو ظلم کی انتہا ہی ہو گئی ‘ ہاسٹل میں مقیم کوٹ مٹھن کے رہائشی حافظ مغیث اورندیم عابد نے روم میٹ13سالہ طالب علم ( الف) کو ساری رات زیادتی کا نشانہ بنایاجس کے باعث(الف) کی حالت غیر ہو گئی اور اس کو تشویش ناک حالت میں نشترہسپتال داخل کرا دیا گیا‘پولیس تھانہ بستی ملوک نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیااورطبی معائنہ کرایا تو رپورٹ پازیٹو آئی ‘ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کی ‘ معلوم ہوا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے کے مالکان نے واقعہ دبانے کی بھرپور کو شش کی اور اس سلسلے میں متاثرہ کمسن طالب علم(الف) کے والدین کو منانے کے لئے بڑی رقم کی آفر بھی کی مگر دکھی والدین نہ مانے‘ اس واقعہ کا دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام اس خوفناک واقعہ سے لاعلم ہیں ‘ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن سید منصور شاہ نے اڈا بلی والا میں پرائیویٹ مسلم کالج کے ہاسٹل میں 13سالہ طالبعلم (الف) سے 2 طلبا کی زیادتی کے واقعہکے متعلق کہا ہے کہ وہ لاہور میں‘ انہیں اس واقعہ کے بارے میں علم نہیں ہے‘ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت برا ہوا ہے ‘ بچے معصوم ہیں اور سب کے سانجھے ہیں ‘ ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات قابل مذمت‘ انسانیت سوز اور ناقابل برداشت ہیں ‘ڈائریکٹر کالجز سید منصور شاہ نے مزید کہا ہے کہ وہ واپس آکر کارروائی کریں گے ‘ نجی کالج کی انتظامیہ سے پوچھ گچھ کریں گے اور میرٹ پرضابطے کی کارروائی کریں گے ‘ باقی پولیس اپنی کارروائی کر رہی ہے ‘ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری ملتان ریاض خان بلوچ نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے ہاسٹل داخل کراتے ہیں‘ گھناؤنے واقعہ پرتعلیمی ادارے کی انتظامیہ‘ متعلقہ ٹیچر اور ہاسٹل انچارج بھی اس کے ذمہ دار ہیں ‘ دریں اثنا نجی کالج کے ہاسٹل میں کمسن طالبعلم کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے بعد دیگرطلبا کے والدین میں بے چینی پھیل گئی اور وہ ہاسٹلز میں مقیم اپنے بچوں کو غیر محفوظ تحفظ تصور کرنے لگے ہیں ‘سماجی حلقوں نے مسلم کالج اڈا بلی والا کے ہاسٹل میں 13سالہ طالب علم (الف) سے 2طلبا کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے بچوں کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں ‘ اگر وہاں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہونے لگ جائیں تو والدین کا اعتماد اٹھ جائے گا اور کوئی والدین بھی اپنے بچوں کو ہاسٹل میں داخل نہیں کرائیں گے‘انہوں نے کہا ہے کہ یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے ‘یہ دیکھنا ہوگا کہ اس ادارے میں اور کتنے بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور کمسن طالب علم ( الف) کے ساتھ زیادتی کا واقعہ تو اب منظر عام پر آیا ہے ‘ پہلے اس ہاسٹل میں کیا کچھ ہوتارہا ہے ‘ انہو ں نے مزید کہاکہ اس گھناؤنے واقعہ پر نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ سلیم تونسوی کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئیے ‘ جب تک ذمہ داروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا ‘ متاثرہ بچے کے والدین چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔’’پاکستان ‘‘ نے اس حوالے سے مسلم کالج کے سربراہ سلیم تونسوی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر فون اٹنڈ نہیں ہو سکا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر