صفائی ستھرائی بنیادی انسانی حق ہے ،پاکستان کی 64فیصد آبادی کا بہتر سہولیات حاصل ہیں:زاہد حامد

صفائی ستھرائی بنیادی انسانی حق ہے ،پاکستان کی 64فیصد آبادی کا بہتر سہولیات ...

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ صفائی ستھرائی بنیادی انسانی حق ہے جسے ہر انسان کو میسر آنا چاہئے ،وہ بدھ کو صفائی ستھرائی کے حوالہ سے تیسری پاکستان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی کو صفائی ستھرائی کی بہتر سہولیات تک رسائی حاصل ہے ٗپاکستان جنوبی ایشیاء میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات کے حوالہ سے دوسرا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ستمبر 2015ء میں 190 دیگر ممالک کے ہمراہ پائیدار اہداف مقرر کئے۔ پاکستان نے 2006ء میں نیشنل سینیٹیشن پالیسی جبکہ 2009ء میں نیشنل ڈرنکنگ پالیسی تیار کی، دونوں پالیسیوں کا وزارت منصوبہ بندی کے اقدامات کی روشنی میں جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام پالیسیوں کو پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کو ضروری معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری چھٹی قومی مردم شماری میں پانی اور صفائی کے حوالہ سے دو خصوصی سوالات بھی شامل ہیں جس سے اس ضمن میں تازہ ترین معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ زاہد حامد نے کہا اگلی جنوب مشرقی کانفرنس برائے سینیٹیشن 2018ء میں پاکستان میں ہو گی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے پیشہ ورانہ تعلیم انجینئر بلیغ الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ صفائی اور پانی کی صورتحال میں بہتری لوگوں کو تعلیم دئے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے تعلیمی شعبہ میں 2012-13ء اور 2015-16ء کے اعداد و شمار کا موازنہ پیش کیا اور کہا کہ 64 فیصد سرکاری سکولوں میں ٹائلٹس دستیاب ہیں۔ انہوں نے صفائی اور پانی کے حوالہ سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس سے سابق وزیر جاوید جبار، یونیسف کی نمائندہ انجیلا کیارنی اور عالمی بینک کے پاکستان میں کوآرڈینیٹر ڈائریکٹر سمیع فرحان نے بھی خطاب کیا۔

زاہد حامد

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر