بیساکھی میلے پر سہولیات یقینی بنائی جائیگی،ظہیر احمد بھٹیانوالہ

بیساکھی میلے پر سہولیات یقینی بنائی جائیگی،ظہیر احمد بھٹیانوالہ

حسن ابدال(تحصیل رپورٹر)تمام مذاہب امن اور محبت کا درس دیتے ہیں۔پاکستان میں تمام مذاہب اور مسالک کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔بیساکھی میلے کے موقع پر ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال میں مختلف مکتبہ فکر اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کے اعزاز میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ تقریب میں چیئرمین میونسپل کمیٹی ظہیر احمد بھٹیانوالہ۔صدر مرکزی انجمن تاجراں چوہدری جمشید اختر۔صدر پریس کلب چوہدری وقار علی۔سابق صدر بار کونسل اور سینئر ایڈووکیٹ سید امتیاز حسین شاہ۔چیئرمین پریس کلب حاجی رفیق قادری۔جنرل سیکرٹری سید ہاشم عل علوی۔ایس ایچ او سٹی عمیر علی۔ایس ایچ او صدر حامد کاظمی۔کرسچن اور ہندو مذہب کی نمائندہ شخصیات۔کونسلرز سعید اختر۔سرفراز علی اعوان۔ابرار علی اعوان۔طارق جان ۔اختر محمود سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔میزبان تقریب سردار پریتم سنگھ۔سردار سریندر سنگھ جگی ۔ایڈمنسٹریٹر گوردوارہ عصمت اللہ خان سمیت دیگر نے تمام شرکا ء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا سکھ برادری کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا ہونے اور ان کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ مقررین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو مکمل مذہبی رسومات کی آزادی حاصل ہے۔ہمارے دشمن اس ملک کی جڑوں کو کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہیں مگر ہم آپس میں اتحاد اور اعتماد کی فضاء قائم رکھتے ہوئے ان کی تمام کاوشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حسن ابدال میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے آئے ہیں اور یہ اس دھرتی کی تاریخ ہے کہ یہاں کبھی مذہبی کا مسلک کی بنیاد پر کسی کو تنگ نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہاں امن و پیار کی فضاء قائم رکھنے میں تمام لوگ کوشاں رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کی جانب سے تمام مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک جگہ اکھٹا کر کے ایک اچھی روایت قائم کی گئی ہے۔اس موقع پر تمام اقلیتی برادریوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہر مشکل گھڑی میں انسانیت اور بھائی چارے کی بنیاد پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا جائے گا ۔تقریب میں سکھ برادری کی جانب سے شرکاء میں مزہبی رسم کے مطابق سروپا( چادریں) اور خشک میوہ جات بھی تقسیم کیے گئے۔

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر