کراچی ،ادکامی ادبیات کا سندھی لوک شاعری پر خصوصی لیکچر

کراچی ،ادکامی ادبیات کا سندھی لوک شاعری پر خصوصی لیکچر

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے سندھی لوک شاعری خصوصی لیکچر اور’’ مشاعرہ ‘‘کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر سندھی لوک شاعر پر خصوصی لیکچر سندھی زبان کے نامور ادیب ،محقق ڈاکٹر کمال جامڑو نے دیتے ہوئے کہا کہ لوک ادب ایسے ادب کر کہا جاتا ہے ، جو عام لوگ تخلیق کریں اور اس تخلیق کو تمام لوگ اپنا سمجھیں۔ ابتدا میں لوک شاعری کے تخلیقار کے نام کا پتہ نہیں ہوتا تھا، جس طرح لوک گیت ہوجمالو کے شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں، لوک شاعری لوک گیتوں کے علاوہ پہیلیوں اور کسوٹی پر مشتمل ہوتا ہے ۔ تمام ادب کی بنیاد لوک ادب دورِ حاضر میں لوک ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے، سندھی زبان میں لوک ادب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اس کے لیے ایک الگ ادارہ بنانا چاہئیے۔اس موقع پرمشاعرے کی صدارت اردو کے نامور شاعر کوثر نقوی نے کی مہمان خاص ظفر محمد خان ظفر اوراعزای مہمان آمریکا میں مقیم ممتاز شاعر ایاز مفتی تھے ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرونے کہاکہ سندھی لوک شاعری بنیادی طورپر صوفی ازم سے وابستہ ہے اور صوفی ازم کا پیغام ہی امن اور محبت کا پیغام ہے لہذا سندھی لوک شاعری کا تمام پیغام امن محبت اور ایک دوسرے کو جوڑنے کی طرف لے جاتا ہے اکادمی ادبیات پاکستان کا بنیادی مقصد ہی پاکستان کی تمام زبانوں کے ادب کو جوڑنا ہے سندھی لوک شاعری پر لیکچر و مشاعرہ بھی اس سلسلے کا تسلسل ہے۔ مشاعرے میں سرِ ایاز مفتی،زیب النساء زیبی، ظفر محمد خان ظفر ، کوثر نقوی، اخلاق عاطف ،اقبال سہیوانی،معصومہ شیرازی ، غوث پیرزادہ، سید علی اوسط جعفری، عرفان عابدی، ضیاء شہزاد، خالداعزاز بغدادی، تاج علی رعنا، زینت کوثر لاکھانی، عشرت حبیب، افروز رضوی، شگفتہ شفیق، شاہدہ عروج، اقبال رضوی، خالد نور، احمد سلیم صدیقی، کاشف علی ہاشمی،جمیل ادیب سید، تنویر سخنور، الطاف احمد ، عرفانہ پیرزادہ ، مہر جمالی، نے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر