سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں پہلے بھی میاں بیوی کے قتل کا انکشاف ،علاقہ مکینوں نے نئی کہانی سنا دی

سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں پہلے بھی میاں بیوی کے قتل کا انکشاف ،علاقہ ...
سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں پہلے بھی میاں بیوی کے قتل کا انکشاف ،علاقہ مکینوں نے نئی کہانی سنا دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سرگودھا (ڈیلی پاکستان آن لائن )کچھ روز قبل سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں 20افراد کے قتل کی خبر نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ،اس ہولنا ک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس ابھی تک پا یا جاتا ہے ۔سرگودھا کے علاقہ مکینوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شر ط پر مقامی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جعلی پیر نے پہلے بھی ایک میا ں بیوی کو ذبح کیا تھا ۔ان کا کہنا ہے کہ 2008ءمیں گاﺅں میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ادھیڑ عمر محمد رمضان بھٹی اور اس کی بیوی کو ذبح کردیا گیا۔ ایک بزرگ نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس واردات نے پورے علاقے میں کہرام مچادیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت پورے علاقے میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ مذکورہ میاں بیوی کے قتل میں علی محمد گجر کا ہاتھ ہے اور یہ قتل چلے کے دوران شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کیلئے کئے گئے تھے۔ مقتول میاں بیوی کے عزیزوں نے اس وقت پولیس کو درخواست میں علی محمد گجر اور اس کے مریدوں پر شک ظاہر کیا تھا۔ چند دن کیس چلا، پولیس تفتیش کرتی رہی، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس دوران علی محمد گجر کو علاقے میں نہیں دیکھا گیا لیکن جب پولیس نے آنا جانا بند کیا، تو وہ دوبارہ علاقے میں آنا شروع ہوگیا۔ ادھر مقتول محمد رمضان بھٹی کے بیٹے اس واقعے کے بعد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور انہوں نے پھر دوبارہ اپنے قریبی عزیزوں سے رابطے نہیں رکھے“۔

سرگودھامیں جعلی پیر کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں اس کا گلزار نامی مرید بھی تھا ،پیر محمد علی جب گلزار کے گھر جاتا تو بیٹھک میں بیٹھنے کے بجائے گھر کی خواتین کے ساتھ ۔۔۔

مزید : سرگودھا