ملائیشیا نے گوادر بندرگاہ کو استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا

ملائیشیا نے گوادر بندرگاہ کو استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا
ملائیشیا نے گوادر بندرگاہ کو استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملائیشیا نے گوادر پورٹ سے کو استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملائیشین وفد نے پاکستان کے دورہ کے موقع پر گوادر پورٹ پر مختلف پراجیکٹس میں دلچسپی کا اظہار کرکیا ہے،جن میں فیری سروس، پاکستان کی بندرگاہوں پر ٹرمینلز کی تعمیرات اور گوادر بندرگاہ کو فری انڈسٹری کیلئے فری زون بنانے میں مدد کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سمندری تعاون کے حوالے سے بھی تعاون کو قائم کیا جائے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ فیصلے ملائیشیا کے سابق وزیراعظم عبداللہ احمد بداوی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان کے وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو کے درمیان ملاقات میں کئے گئے۔

ملاقات میں پاکستان کے شپنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔میر حاصل بزنجو نے وفد کو سمندری سیکٹر میں ڈیولپمنٹ سے متعلق بنائے جانیوالے مستقبل کے منصوبوں سے سے بھی آگاہ کیا۔وزیر برائے جہاز رانی نے سی پیک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ سی پیک کیلئے مرکزی جگہ ہے اور مستقبل میں یہ بندرگاہ سمندری آمدروفت کا مرکز بن جائے گی۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے ہی گوادر فری زون کو انکم ٹیکس اور دوسرے کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے۔وفد کے ارکان کو بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کو سیاحت کیلئے فیر ی سروس اور ایران اور مشرق وسطیٰ کے حجاج کرام کو سہولت فراہم کرنے کی اجازت دے چکی ہے جس سے سیاحت کے شعبے کے ذریعے اقتصادی ترقی کے اضافے میں مدد ملے گی۔دونوں ممالک کے درمیان کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم پر ایل این جی اور کوئلے کیلئے جدید ٹرمینلز بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔وفد کی طرف سے پاکستان کے درآمد پر اعلان کردہ انکم ٹیکس کی چھوٹ کی تعریف کی گئی۔

مزید : بین الاقوامی