جمعیت علمائے اسلام کی صدصالہ تقریبات ، ہر طرف آدم زاد ہی آدم زاد، عمران خان دیکھ کر حیران رہ گئے

جمعیت علمائے اسلام کی صدصالہ تقریبات ، ہر طرف آدم زاد ہی آدم زاد، عمران خان ...
جمعیت علمائے اسلام کی صدصالہ تقریبات ، ہر طرف آدم زاد ہی آدم زاد، عمران خان دیکھ کر حیران رہ گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد( ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام اپنی صدصالہ تقریبات منارہی ہے اور ان تقریبات میں شرکت کیلئے امام کعبہ اورسعودی وزیرمذہبی امور بھی آج پاکستان پہنچ گئےہیں ، ایسے میں عمران خان نے پشاور کے دورے کے موقع پر بھی صدصالہ تقریبات کے کچھ مناظر دیکھے جن پر وہ حیران رہ گئے ۔ 

سینئر صحافی ہارون الرشید نے اپنے کالم میں لکھاکہ ’’عین انتخابات کے ہنگام‘ حضرت مولانا فضل الرحمن کو دیو بند کی کیا سوجھی ہے؟ یہ ان کا حلقۂ انتخاب ہے۔ پندرہ برس ہوتے ہیں جب پشاور میں دیو بند کی صد سالہ سالگرہ پہ‘ ایک عظیم جشن کا اہتمام انہوں نے کیا تھا۔ ایک بار پھر وہی تقریب ہے‘ ڈیڑھ عشرہ گزر جانے کے باوجود ‘ وہی صد سالہ ۔ عمران خان پشاور سے لوٹ کر آئے تو حیرت زدہ تھے۔ کہا کہ حدِ نظر تک آدم زاد ہی آدم زاد۔ لہراتے ہوئے عمامے اور پرچم۔

عرض کیا: جمعیت علماء اسلام نہیں‘ یہ کچھ اور ہے۔ دس ہزار دیو بندی مدارس کے طلبہ‘ تبلیغی جماعت‘ سپاہِ صحابہ وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ مولانا فضل الرحمن خود اعتراف کرتے ہیں ‘دیو بند اصل میں ایک سیاسی تحریک ہے۔ ہماری تاریخ میں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی سے متاثر یہ رحیمیہ سکول کی روداد ہے۔ شاہ عبدالرحیم شاہ ولی اللہ‘ سید احمد شہید‘ سید اسمٰعیل شاہ‘ حضرت مولانا قاسم نانوتوی‘ اسیرِ مالٹا شیخ محمودالحسن‘ حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری اور تحریکِ پاکستان کے سامنے ایک پہاڑکی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوئے‘ حضرت مولانا حسین احمد مدنی۔ یوں تو سبھی مذہبی فرقے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں‘ مگر دیو بند نمک کی ایک کان ہے‘ جس میں سب کچھ نمک ہو جاتا ہے۔ بالواسطہ ہی سہی تحریکِ پاکستان کے جید رہنما مفتی محمد شفیع کے فرزند بھی اس رنگ میں رنگے جا چکے۔ بنگلہ دیش کے ایک رپورتاژ میں مولانا محمد تقی عثمانی نے لکھا: سلہٹ کی سرزمین سے نور پھوٹتا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی کے قدموں نے اسے چھو لیا تھا۔ مولانا محمد تقی کے زہدو تقویٰ کا چرچا بہت ہے۔ اسلامی بینکاری کے وہ سرٹیفکیٹ جاری کیا کرتے ہیں خلق کی بہبود کے لیے۔ چند لاکھ روپے فیس تو دل رکھنے کے لیے وصول کرتے ہیں۔ 

دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

مولانا فضل الرحمن کے قدموں سے بھی نور پھوٹتا ہے۔ اگر نہیں تو چند برس‘ چند عشرے بعد پھوٹنے لگے گا۔ اللہ انہیں جیتا رکھے۔ آج نہیں تو دنیا سے ان کے رخصت ہو جانے کے بعد‘ جس طرح‘ ان کے گرامی قدر والد‘ مولانا مفتی محمودرحمتہ اللہ علیہ کی یادوں سے۔ یہ الگ بات کہ حیات مبارکہ میں ان کی شہرت کم و بیش وہی تھی‘ جو ان کے نیک نہاد فرزند کی‘‘۔

مزید : اسلام آباد