چوبیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

چوبیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی ...
چوبیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مولوی ذکاء اللہ اقبال نامہ اکبری کی جلد پنجم میں زیر عنوان معاملات و مہمات دکن لکھتے ہیں:

۹۹۹ھ اس سال شوال کے مہینے میں بادشاہ نے اپنے مخصوص ملازموں پر مشتمل دکن کے حاکموں کی طرف ایک سفارت بھیجی بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حاکمان دکن سے درخواست کی گئی کہ وہ اکبر کی شہنشاہی کو قبول کرکے اطاعت کریں۔ تاریخ فرشتہ میں تولکھا ہے کہ شاہان دکن نیا کبر کی شہنشاہی کو تسلیم نہیں کیا نظام الدین نے لکھا ہے کہ انہوں نے لائق پیشکش نہ بھیجی اور اخلاص میں دلخواہی ظاہر نہ کی اس لئے بادشاہ نے ان سے لڑنے کا ارادہ کیا۔ شاہی لشکر بھیجا گیا بہت لڑائیوں کے بعد شہزادہ سلطان مراد احمد نگر سے ناکام پھرا۔ اس کے بعد شہزادہ دانیال کو دکن کی تسخیر کے لیے بھیجا۔ مختلف حصوں سے مختلف سپہ سالاروں کو بھیجا کہ وہ آزادانہ دکن کی فتح میں ایک دل ہو کر کوشش کریں لیکن کچھ کامیابی نہ ہوئی اور ابو الفضل کو دکن بھیجنا پڑا اور پھر خود بادشاہ کو آگرہ سے دکن آنا پڑا۔ خلاصہ یہ ہے کہ دکن کی آزادی جاتی رہی۔ مگر وہ ایسے مغلوب بھی نہیں ہوئے کہ اکبر کی سلطنت اس میں بے کھٹکے قائم ہو جاتی ۔

تئیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ٹیپو سلطان

سلطان ٹیپو جس کا نام فتح علی تھا۔ پیدائش ۱۷۴۹ء تخت نشینی ۲۶ دسمبر۱۷۸۲ء اور وفات ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو ہوئی۔ وہ ۱۷۹۹ تک ریاست میسور کا حکمران رہا ہے۔ انگریزی حکومت کے خلاف جہاد کرنے میں عالم گیر شہرت کا مالک ہے اس کا والد حیدر علی ترین افغان تھا۔ تفصیلی یہ ہے کہ حیدر علی کے آباؤ اجداد بمقام بلبل جھالا وان(بلوچستان ) میں آباد تھے اور تور ترین کی ذیلی شاخ رئیسانی افغانوں سے متعلق تھے۔ بعد میں ان کے اجداد یہاں سے دکن گئے اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔ حیدر علی وہاں پیدا ہوئے۔ دکن میں سکونت اختیار کرنے کے بعد بھی وہ اپنے قدیمی گاؤں بلبل کے نسبتی نام سے یادہوتے رہے۔ حیدر علی نے ۱۷۶۶ء میں میسور کے ہندو راجہ کو معزول کرکے اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد آس پاس کے علاقوں کو فتح کرکے انہیں بھی اپنی ریاست میں ملا لیا۔ ٹیپو سلطان اسی نامور باپ کا بیٹا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں ان دونوں کے نام ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ کتاب تاریخ ہند و پاک میں درج ہے کہ

’’ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کو جو میسور کا فرمانروا تھا مورخین نے افغان کہا ہے۔ اس کے ایک دادا ولی محمد بلبل نے گلبرگہ دکن میں اور دوسرے دادا علی محمد بلبل نے گالا د دکن میں سکونت اختیار کی اور ۱۶۷۸ میں چار بیٹے چھوڑ کر علی محمد بلبل وفات پا گئے اس کا سب سے چھوٹا بیٹا فتح محمد تھا جو حیدر علی کا باپ تھا۔ حیدر علی کو میسور میں فوجداری ملی اور خدمات کے عوض علاقہ بدی کوتہ جاگیر ملی ۔ترقی کرکے میسور کا سالار اعظم بن گیا۔ ۱۷۶۵ء میں مرہٹوں سے شکست پانے کی خفت کو اس نے اگلے سال ملیبار اور کالی کٹ فتح کرکے دور کیا۔

سلطان ٹیپو ایک سادہ پٹھان اور پکا مسلمان تھا۔ اسلام سے اسے بے حد محبت تھی۔ دین کا وہ شیدائی تھا ۔ نماز اور روزے کا بڑی سختی سے پابند تھا۔ نماز ہمیشہ وقت پر باجماعت ادا کرتا تھا۔ سرنگا پٹم میں سلطان نے ایک نہایت ہی خوبصورت اور شاندار مسجد بنوائی تھی۔ جس کو مسجد اعلیٰ کہتے تھے۔ اس میں جب پہلی مرتبہ نماز پڑھی جانے لگی تو طے ہواکہ امامت وہ شخص کرائے جو صاحب ترتیب ہو یعنی جس نے کبھی نماز قضا نہ کی ہو۔ مسجد میں اس وقت بڑے بڑے عالم، زاہد اورشیخ موجود تھے لیکن اتنے بڑے ہجوم میں کوئی شخص ایسا نہ نکلا جو صاحب ترتیب ہونے کا دعویٰ کر سکتا ۔یہ دیکھ کر سلطان ٹیپو اٹھا اور کہا خدا کا شکر ہے کہ میں صاحب ترتیب ہوں۔ چنانچہ پہلی نماز کی امامت سلطان نے ہی کی۔ بادشاہوں کے دربار میں جھک کر سلام کرنے کا قاعدہ رائج تھا بلکہ بعض درباروں میں تو لوگ سجدہ تک کرتے تھے مگر سلطان نے اس طرح سلام کرنے کی سختی سے ممانعت کر دی ۔ حیا دار اس قدر تھا کہ تمام عمر حمام میں بھی ننگا نہیں نہایا۔ نماز پڑھ کر بڑی عقیدت سے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا تھا اس کی سلطنت میں شراب اور جوئے بازی سختی سے بندتھی۔ سلطان کی زبان سے کسی شخص نے کوئی گندی یا فضول بات کبھی نہیں سنی۔ وہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرتا تھا اس کے دربار میں ہمیشہ علمی اخلاقی سیاسی باتیں ہوتی تھیں۔‘‘

جاری ہے۔ پچیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

  پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان