”ہم نے گوادر میں یہ کام کرلیا ہے“چینی کمپنی نے اعلان کردیا،پاکستانیوں کو انتہائی شاندار خوشخبری سنادی

”ہم نے گوادر میں یہ کام کرلیا ہے“چینی کمپنی نے اعلان کردیا،پاکستانیوں کو ...
”ہم نے گوادر میں یہ کام کرلیا ہے“چینی کمپنی نے اعلان کردیا،پاکستانیوں کو انتہائی شاندار خوشخبری سنادی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)گوادر فری زون کے ڈپٹی جنرل مینجر نے کہا ہے کہ پاکستان اور چینی انجینئرز نے گوادر فری زون کے پہلے مرحلے کی تعمیر کا 60 فیصد کام مکمل کرلیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ رواں سال کے آخر تک سارا کام مکمل کرلیا جائے گا۔چینی کمپنی کے ڈپٹی جنرل مینجر نے چینی خبر رساں ادارے’چائنہ ڈیلی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان اور چینی انجینئرز گوادر کے فری زون کام کرتے ہوئے دیکھنے کیلئے دن رات تعمیراتی کام کرنے کیلئے کام کررہے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بننے سے نہ صرف جنوبی ایشیاء کو فائدہ پہنچے گا بلکہ سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ بھی اس سے مستفید ہوسکیں گے۔فری زون چار مراحل میں 923 ایکٹر زمین پر مشتمل ہوگاجو کہ بلوچستان کی فشری کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنایا جارہا ہے۔

زاؤژانگ کا کہنا تھا کہ ”فری زون میں چھوٹی انڈسٹری کے منصوبے میں چینیوں کے لئے اوورسیز مارکیٹ اورشاپنگ مال کو بھی متعارف کرایا جائے گا،اوورسیز مارکیٹ میں ایسا ویئرہاؤس بنایا جائے گا جس میں ایسی چیزوں کو محفوظ کیا جاسکے گا جو نہ صرف پاکستانی مارکیٹ میں مل سکے گی بلکہ پورے علاقے میں بھی آسانی سے دستیاب ہوگی“۔ڈپٹی جنرل مینجر کے مطابق سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے فشری،الیکٹرک موٹرز اور بزنس سنٹرز کے قیام کے پہلے مرحلے میں سرمایہ کاری تقریباً مکمل کی جاچکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فری زون کی تعمیر کے دوسرے مرحلے میں ایک بہت بڑی سٹین لیس سٹیل کی فیکٹری کا کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے گوادر کے 10 ہزار سے بھی کم مقامی لوگوں کو نوکریاں مل سکیں گی۔

ہو کے مطابق گوادر میں چین کی طرف سے تحفہ کے طور پر دیا جانیوالاٹریننگ سکول بہت جلد مکمل ہوجائے گا اور اس سکول میں مختصر ٹریننگ کے بعد وہاں کے مقامی لوگ گوادر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈی جی منیر احمد نے بھی گوادر کے مستقبل کے بارے اپنی توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے سرمایہ کاروں کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کے سرمایہ کاروں نے بھی گوادر پورٹ اتھارٹی سے فری زون میں بزنس مواقعوں کے بارے مشورہ کیا ہے،2016 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے گوادر فری زون کو 23 سال کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بڈنگ کیلئے دلچسپی لی ہے۔منیر احمد کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار گوادر میں روشن مستقبل کی امید کے ساتھ زمین کی خریداری میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں اور گوادر میں یہ اس بات کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ زمینوں کی قیمتیں بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم محسوس کررہے ہیں کہ گوادر فری زون کو وسعت کی ضرورت ہے اور ہم اس میں مزید رقبے کو شامل کرنے کی درخواست کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین دونوں کی طویل تاریخ ہے مگر چین نے اپنی سنجیدہ لیڈر شپ کی وجہ سے بہت جلدی ترقی کی منازل طے کیں اور پوری دنیا میں بڑی معیشت بن کر ابھرا،ہم بھی اپنی ترقی کیلئے چین کے تعاون اور تجربے کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے“۔

چین کی طرف سے پاکستان کو دیا جانیوالا ایمرجنسی سنٹرمارچ میں گوادر پہنچ جائے گا جبکہ میڈیکل سنٹر مئی میں گوادر پہنچے گاجس کو بنیادی بیماریوں کی تشخیص اور چھوٹی سرجریوں کیلئے بھیجا جارہا ہے۔آغاز میں ان سنٹرز کو چین کی میڈیل ٹیمیں ہی دیکھیں گی پھر آہستہ آہستہ مستقبل میں یہ پاکستان کی ٹیموں کے حوالے کردیا جائے گا۔

منیر جان نے کہا کہ ”پچھلے سال ستمبر میں چین کی طرف سے بنایا جانیوالا پرائمری سکول کو گوادر میں استعمال میں لایاگیا جس میں مختلف گریڈز کے 300 طلباء کو سہولیات فراہمی کو یقینی بنایا گیا،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی لیڈرشپ کی بدولت پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتے جائیں گے“۔

مزید : بزنس