شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 52

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط ...
شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 52

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت سید سرکار بحر العلوم قدس سرہؒ

مظہر انوار صمدیت حضرت سید نصیر الدین احمد 12 ربیع الاول 1254 ھ آستانہ عالیہ نور شاہیہ رنمل شریف ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد نے آپ کا نام نصیر الدین احمد رکھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو پیار سے اللہ دتہ کہتی تھیں۔ آپ کی کنیت ابوالمعصوم اور لقب بحر العلوم تھا۔ سید شاہ عمر بخش رسول نگری نے لکھا ہے کہ آپ بحر العلوم کے لقب سے ملقب ہیں۔

وجہ تسمیہ بحر العلوم

حضرت قطب الاقطاب سید چراغ محمد شاہ قدس سرہ اور چودھری شرف دین نوشاہی سے روایت ہے کہ آپ تیرہ یا چودہ سال کے تھے کہ ایک مولوی صاحب تھے جنہیں فقیروں سے عقیدت نہ تھی ۔چند مشکل علمی سوالات حضرت قطب التکوین کے سامنے ایک مجلس میں پیش کئے۔ سرکار بحر العلوم نے حضرت قطب التکوین سے جواب دینے کی اجازت طلب کی۔ حضور نے اجازت دے دی تو آپ نے اس عالم کے سوالات کے جوابات دے کر اسے ساکت کر دیا۔ سامعین نے آپ کے جوابات سن کر آپ کو علم لدنی حاصل ہونے کا اعتراف کیا۔ وہ مولوی بھی محو حیرت ہو کر آپ کے قدموں پر گر پڑا اور اپنے عقیدہ سے توبہ کر لی ۔حضرت قطب التکوین نے خوش ہو کر فرمایا کہ میرا فرزند علوم کا بحر ہے اسی روز سے لوگوں نے آپ کی بحر العلوم کہنا شروع کر دیا۔

قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وجہ تسمیہ اللہ دتہ

حضرت قطب الاقطاب کا ارشاد ہے کہ حضرت قطلب التکوین کے ہاں شادی کے کئی سال بعد تک کوئی اولاد نہ ہوئی اور بظاہر ناامیدی ہو چکی تھی۔ جب آپ کے ہاں حضرت بحر العلوم متولد ہوئے تو آپ نے ان کا نام نصیر الدین احمد رکھا۔

ایک روز آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ گوہر بی بی کے پاس ایک ہمسایہ عورت آئی اور باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ شادی کے ایک عرصہ بعد اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اب آپ کے ہاں اولاد ہونے کی کوئی امید نہ تھی۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے فرمایا ’’مینوں ایہ بیٹا اللہ نے دیتا اے‘‘ یعنی مجھے یہ فرزند اللہ نے عطا کیا ہے۔ اس روز سے آپ کی والدہ ماجدہ اور دیگر محلہ کی عورتوں نے آپ کو لاڈ اور پیار سے اللہ دتہ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا اور بعد میں آپ کا یہی نام مشہور ہو گیا۔

شجرہ نسب مادری

حضرت سید سرکار بحر العلوم قدس سرہ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ گوہر بی بی تھا جو خاندان نوشاہی کے شہرہ آفاق بزرگ حضرت سید شاہ عمر بخش رسولنگری کی حقیقی ہمشیرہ تھیں۔ حضرت سید عمر بخش حضرت نوشہ گنج بخشؒ قدس سرہ کے فرزند اکبر حضرت سید برخوردار قدس سرہ کی اولاد سے تھے۔ رابعہ دوراں حضرت سیدہ گوہر بی بی رضی اللہ تعالٰی عنہا کا شجرہ نصب یہ ہے۔

سید گوہر بی بی بنت حضرت سید محمد بخش بن سید ضیاء اللہ بن سید محمد حیات بن سید جمال اللہ بن حضرت سید برخوردار بن حضرت نوشہ گنج بخشؒ ۔ حضرت سیدہ گوہر بی بی ولیہ کاملہ تھیں ۔ آپ نے 20 ربیع الثانی 1288ھ میں انتقال فرمایا۔ مزار اقدس حضرت نوشہ گنج بخش کے روضہ اقدس کی سیڑھیوں کے پاس شرقی جانب ہے۔

تعلیم

حضرت سید سرکار بحر العلوم قدس سرہ نے قرآن مجید اپنے ماموں سید شاہ عمر بخش رسولنگری سے پڑھا۔ فارسی ادب کی مشہور کتاب گلستان بھی آپ ہی سے پڑھی اس کے بعد آپ نے اپنے والد ماجد سے فارسی اور عربی کی کتابیں پڑھیں نیز آپ نے اپنی والدہ ماجدہ سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔

بیعت

حضرت سید سرکار بحر العلوم قدس سرہ مادر زاد ولی تھے علوم ظاہریہ کی تحصیل کے بعد اپنے والد ماجد کے حلقہ ارادت میں داخل ہو کر خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔

شادی

رابعہ دوراں حضرت سیدہ حسن بی بی رضی اللہ عنہا دختر حضرت سید صاحبزادہ آپ کے حلقہ زوجیت میں تھیں۔ حضرت سید صاحبزادہ حضرت بحر العلوم کے حقیقی چچا تھے۔

رابعہ دوراں حضرت سیدہ حسن بی بی رضی اللہ تعالٰی عنہا

حضرت سیدہ حسن بی بی قرآن مجید کی حافظہ، علوم دینیہ کی فاضلہ، صوم و صلٰوۃ کی پابند اور صاحب تصرف ولیہ تھیں۔ آپ کی بیسیوں کرامات زبان زد خاص و عام ہیں۔ آپ نے پابندی سے چالیس سال درس قرآن مجید دیا۔ چک سواری شریف، موضع سسرال اور قرب و جوار کے سینکڑوں بچوں اور بچیوں نے آپ سے دینی تعلیم حاصل کی۔ جس دینی درس گاہ کی آپ نے بنیاد رکھی تھی۔ وہ آپ کی وجہ سے آج تک جاری ہے۔

سیدہ حسن بی بی کے معمولات

حضرت سیدہ حسن بی بی پنجگانہ نماز کے علاوہ تہجد، اشراق اور اوابین کے نوافل بھی پابندی سے پڑھتی تھیں اور روزانہ دس پارے آپ کی منزل تھی۔ درود مستغاث تہجد سے قبل پڑھنا آپ کا معمول تھا۔ آپ بیعت حضرت سید غلام محمد شاہ قدس سرہ سے تھی۔

تاریخ وفات حضرت سیدہ حسن بی بی

حضرت سیدہ حسن بی بی نے مورخہ 5 رجب المرجب 1345ھ بروز ہفتہ بہ نعرہ اللہ اکبر بوقت عشاء انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک گورستان نوشاہیہ چک سواری شریف میں حضرت بحر العلوم کے مزار کی شرقی جانب چبوترہ پر ہے۔

ترک سکونت

سرکار بحر العلوم قدس سرہ مورخہ 11 جمادی الثانی 1300 ھ میں دارالولایت نوشاہیہ رنمل شریف سے ترک سکونت کر کے موضع چک سواری ضلع میرپور میں آ گئے تھے اور وہاں شروع شروع میں باج ولد عیدا کے گھر میں قیام پذیر ہوئے تھے اور کچھ عرصہ کے بعد چک سواری میں ہی مستقل طور پر سکونت پذیر ہو گئے تھے۔

فضل و کمال

حضرت سید سرکار بحر العلوم قدس سرہ بڑے صاحب تصرف بزرگ تھے ۔آپ سے سینکڑوں کرامات کا صدور ہوا۔ آپ بڑے بارعب اور وجیہہ تھے ۔آپ کی جلالیت اس قدر تھی کہ کسی شخص کو آپ کے سامنے کلام کرنے کی جرآت نہ ہوتی تھی۔ آپ کی سیف اللسانی کا یہ عالم تھا کہ جو بات آپ کے منہ سے نکلتی وہ ضرور پوری ہو کر رہتی تھی۔ آپ پر علم لدنی کے دروازے وا تھے۔ کشف قلوب کی یہ کیفیت تھی کہ میلوں دور بیٹھے ہوئے آدمیوں کے قلبی خیالات آپ پر منکشف ہو جاتے تھے۔

آپ شریعت حلقہ کی بہت زیادہ پابندی کرتے تھے اور آپ حلقہ نشینوں اور دوسرے لوگوں کو بھی شریعت کی پیروی کرنے کی سختی سے تلقین کرتے تھے۔ آپ تمام نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور نماز میں امامت کے فرائض خود انجام دیتے تھے۔ آپ کے ہم عصر علماء اور بزرگ آپ کے بلند مرتبہ کے معترف تھے اور آپ کی مجلس فیض اثر میں حاضر ہو کر اکتساب فیض کرتے تھے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ