فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 51

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 51
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 51

  

’’آفاق‘‘ ہی کے زمانے میں ہماری شباب کیرانوی سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت وہ بھی ہماری طرح صحافی تھے۔ فرق یہ تھا کہ ہم ایک روزنامہ میں کام کرتے تھے اور وہ ایک فلمی ماہنامہ ’’ڈائریکٹر‘‘ کے مدیر تھے۔ ڈائریکٹر اپنے وقت کا بہت مقبول اور بااثر فلمی میگزین تھا۔ اس کے مینجنگ ایڈیٹر چوہدری فضل حق صاحب تھے۔ کافی عرصے تک لوگ انہیں اور شباب صاحب کو شریک کار اور حصے دار ہی سمجھتے رہے تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ شباب صاحب صرف ان کے ملازم تھے۔ لیکن جس انداز سے شباب کیرانوی دفتر میں براجمان ہوتے تھے اور ادارتی امور میں انہیں جو اختیارات حاصل تھے اس کے پیش نظر دیکھنے والے یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ وہ چوہدری فضل حق کے پارٹنر ہیں۔ چوہدری فضل حق ایک باغ و بہار شخصیت تھے۔ چھ فت سے نکلتا ہوا قد، بھرا ہوا جسم‘ گہرا سانولا رنگ‘ جب ہم نے انہیں دیکھا تو غالباً پچاس پچپن کے پیٹے میں ہوں گے لیکن صحت مند اور توانا تھے۔ وہ تھوڑے سے ہکلاتے تھے مگر بہت دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ اس زمانے میں لاہور کا بہترین شاپنگ سینٹر سمجھی جاتی تھی۔ اس لمبی سی دو منزلہ عمارت کی نچلی منزل میں دکانیں تھیں‘ بالائی منزل پر دفاتر وغیرہ تھے۔ ان ہی میں سے ایک دفتر ’’ڈائریکٹر‘‘ کا بھی تھا۔ اول تو لاہور کی مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ جیسی جگہ پر کسی فلمی پرچے کا دفتر ہونا ہی ایک تعجب اور اعزاز کی بات تھی۔ مگر جب سیڑھیاں چڑھ کر دفتر میں پہنچتے تو دفتر کا ٹھاٹ باٹ دیکھ کر کچھ اور مرعوبیت ہو جاتی۔ دفتر میں ایک بڑے کمرے میں چوہدری فضل حق کا دفتر تھا۔ اس میں اور بھی بہت سے کارندے بیٹھا کرتے تھے۔ چوہدری صاحب کے اور بھی بہت سے کاروبار تھے جن میں زمین کی خریدوفروخت کا کاروبار بھی شامل تھا۔ وہ کافی خوشحال بلکہ پیسے والے آدمی تھے۔ تعلیم یافتہ اور ذہین تھے۔ میل جول اور بات چیت کا ڈھنگ بھی جانتے تھے۔ اس لئے ایک کامیاب انسان تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بہت اچھی تعلیم و تربیت دی تھی جو دفتر بہت کم آتے تھے۔

پچاسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ڈائریکٹر‘‘ کے دفتر میں شباب کیرانوی کا کمرہ چوہدری صاحب کے کمرے سے زیادہ سجا ہوا تھا۔ صوفہ سیٹ بھی بچھے ہوئے تھے اور فرنیچر بھی بہت اچھی قسم کا تھا۔ اس کے برابر والے کمرے میں خوش نویس اور عملے کے دوسرے ارکان بیٹھا کرتے تھے۔

شباب صاحب کا نام اور تذکرہ تو ہم نے سن رکھا تھا کیونکہ عیسیٰ غزنوی کے دفتر میں دوسرے فلمی صحافیوں کے علاوہ شباب کیرانوی کا تذکرہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ مگر ان سے پہلی ملاقات ان ہی کے دفتر میں ہوئی۔ ڈائریکٹر کی مقبولیت اور اثرو رسوخ کا ایک سبب یہ تھا کہ لاہور کے نامور اہل قلم حضرات اس فلمی پرچے میں لکھا کرتے تھے اور اکثر کی دفتر میں آمدورفت بھی تھی۔ سعادت حسن منٹو‘ شوکت تھانوی، عشرت رحمانی‘ احمد ندیم قاسمی اور قتیل شفائی جیسے لوگوں کا اس دفتر میں آنا جانا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو شباب صاحب کا حسن اخلاق اور شگفتہ مزاجی تھی مگر ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ڈائریکٹر کے لکھنے والوں کو معاوضہ بھی دیا جاتا تھا جو اس زمانے میں ایک انوکھی بات تھی۔ اس وقت ’’امروز‘ آفاق‘‘ اور ’’ڈائریکٹر‘‘ کے سوا کوئی دوسرا اخبار یا جریدہ تمام لکھنے والوں کو معاوضہ ادا نہیں کرتا تھا۔ کمرشل بلڈنگ کے سامنے ہی کافی ہاؤس اور ٹی ہاؤس تھے جو لاہور کے دانش وروں اور ادیبوں‘ شاعروں کا مستقل ٹھکانا سمجھے جاتے جاتے تھے۔ جو اہل قلم کافی ہاؤس اور ٹی ہاؤس کی طر ف جاتے ان میں سے کچھ گپ شپ یا اچھی چائے کے لالچ میں ’’ڈائریکٹر‘‘ کے دفتر میں بھی ضرور جاتے۔ یہاں انہیں چائے یا کافی کے علاوہ فلمی ایکٹریسوں کو دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ اس کمرشل بلڈنگ کے ایک کونے پر پہلوان پان والے کی دکان تھی جہاں دور دور سے لوگ پان کھانے کے لئے آیا کرتے تھے۔ پہلوان صاحب کی دکان دیکھنے میں تو عام پنواڑیوں کی دکان جیسی تھی مگر اس میں بڑے اہتمام سے بڑے اور نامور پہلوانوں کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ پان والے صاحب بھی کسرتی بدن کے پہلوان تھے۔ سردی گرمی ہر موسم میں ان کا لباس بنیان اور لنگی پر مشتمل ہوتا تھا۔ ان کا پان تو اپنے لطف اور ذائقے کی وجہ سے مشہور تھا ہی مگر پان بنانے اور کھلانے کا انداز بھی نرالا تھا۔

جب ہم پہلی بار شباب صاحب کے ساتھ شام کے وقت ان کی دکان پر پہنچے تو وہاں حسب معمول گاہکوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ شباب صاحب کو دیکھا تو وہ زیر لب مسکرائے مگر منہ سے کچھ نہیں بولے۔ شباب صاحب کے ساتھ انہوں نے یہ خصوصی رعایت برتی کہ دوسرے گاہکوں کو نظر انداز کر کے سب سے پہلے ان کی طرف توجہ دی۔ دکان پر موجود دوسرے گاہکوں نے ذرا بھی چون و چرا نہیں کی اس لئے کہ پہلوان جی ان کی ضرورت تھے۔ ان کی پہلوان جی کو ضرورت نہیں تھی۔ اس کے پاس گاہکوں کی کوئی کمی نہ تھی اور ویسے بھی انہیں گاہکوں کی پروا بھی نہیں تھی۔ وہ صبح سے رات تک دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ صرف کچھ دیر کے لئے غیر حاضر ہوتے تھے۔ گاہک بولتے بھی تو کیسے بولتے۔ پہلوان جی کے بازوؤں کی مچھلیوں اور کشادہ سینے کو دیکھنے کے بعد کس میں جرات تھی کہ ان سے بحث کرتا۔

پہلوان صاحب دکان پر دوزانوں بیٹھے تھے۔ وہیں بیٹھے بیٹھے وہ آس پاس ہاتھ بڑھا کر گاہکوں کی ضرورت کی تمام چیزیں سمیٹ کر گاہک کو دے دیا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک پان لگایا۔ ایک ڈبا اٹھا کر اس میں سے کوئی چیز پان پر چھڑکی اور پھر پان کا بیڑا بنا کر ہماری طرف بڑھا دیا۔ ہم نے ہاتھ آگے بڑھایا تو انہوں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ شباب صاحب نے کہا ’’آگے جا کر منہ کھول دو۔ پہلوان جی‘ ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے پان کھلاتے ہیں۔‘‘

ہم نے آگے بڑھ کر منہ کھول دیا اور پہلوان جی نے پان ہمارے منہ میں ڈال دیا۔ یہ پہلوان جی کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے پان کھلاتے تھے اور جو کوئی لا علمی میں اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا تھا وہ اسے پان دینے سے انکار کر دیتے تھے اور اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیتے تھے۔ منہ سے وہ ایک لفظ بھی نہیں بولتے تھے۔ کسی نے کبھی انہیں بولتے ہوئے نہیں سنا۔ بہت سے لوگ انہیں گونگا سمجھتے تھے حالانکہ وہ گونگے نہیں تھے۔ ان پہلوان جی کی دکان کی ایک خصوصیت گولی والی سوڈے کی بوتل بھی تھی۔ گولی والی سوڈے کی بوتل آج کل تو ناپید ہی ہو گئی ہے۔ اس زمانے میں بھی اس کا رواج برائے نام رہ گیا تھا۔ یہ بوتل موٹے شیشے کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اس کی گردن طوطے کی گردن کے برابر موٹی اور بہت مضبوط ہوا کرتی تھی۔ اس کے منہ پر شیشے کی ایک گولی فٹ ہوتی تھی۔ اس گولی کو ہٹانے اور بوتل کھولنے کے لئے لکڑی کا ایک ٹوپی نما آلہ استعمال ہوتا تھا۔ اسے گولی کے اوپر رکھ کر گھونسا مارو تو گولی بوتل کے اندر چلی جاتی تھی اور بوتل کے اندر سے گیس کی وجہ سے سوڈا ابل کر جھاگ کی صورت میں بوتل سے باہر نکلنے لگتا تھا۔ اس بوتل کو پینے کے لئے بھی بڑی مہارت کی ضرورت تھی۔ اگر بوتل کھلتے ہی آپ اسے منہ سے لگا کر پینا شروع نہیں کریں گے تو سوڈے کا جھاگ آپ کے کپڑے خراب کر دے گا۔ بہت سے لوگ اپنے اناڑی پن کی وجہ سے کپڑے خراب کر بیٹھتے تھے۔

اب نہ وہ دکان ہے نہ پہلوان۔ نہ وہ پہلوانوں کی تصویریں۔ اس جگہ اب نئی دکانیں اور نئے لوگ نظر آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ سب خواب تھا۔

شباب صاحب سے ہماری پہلی ملاقات لالہ وزیر محمد صدیقی کے ذریعے ہوئی تھی۔ لالہ وزیرمحمد قیام پاکستان سے بھی پہلے پشاور میں اخبارات کے واحد ایجنٹ تھے۔ صحیح معنوں میں پشاوری پٹھان تھے۔ اونچا قد، بھاری بھرکم جسم‘ بھاری آواز‘ کیونکہ وہ ہر اخبار اور جریدے کے ایجنٹ تھے اس لئے جب بھی لاہور کے دورے پر آتے تو سبھی دفاتر میں جاتے تھے۔ اس طرح ہماری بھی ان سے ملاقات ہو گئی۔ وہ غائبانہ طور پر ہم سے واقف تھے اور ہمارے مداح بھی تھے۔ بہت پر خلوص‘ با مروت اور صاف گو آدمی تھے۔ چند ہی ملاقاتوں کے بعد انہوں نے ہمیں بیٹا بنا لیا۔ اس کے بعد لازم تھا کہ وہ جب کبھی لاہور آئیں تو ہمیں فون کریں او رہم ان سے ضرور ملاقات کریں۔ لالہ کے دو بیٹے تھے جو اس وقت ہم سے بھی چند سال بڑے تھے۔ مگر لالہ وزیر محمد کی زندہ دلی اور بے تکلفی دیکھ کر ان کی عمر کا خیال ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف لالہ وزیر محمد صدیقی بول رہے تھے۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے پوچھا ’’آفاقی۔ اس وقت تم کیا کر رہے ہو؟‘‘

ہم نے کہا ’’لالہ کام کر رہے ہیں ‘‘

’’ہر وقت کام مت کیا کرو۔ اپنی صحت دیکھی ہے ؟ اس عمر میں بھی تمہاری کلائی تھام لوں تو چھڑا نہیں سکو گے۔‘‘

یہ بات وہ اکثر ہمیں یاد دلاتے رہتے تھے۔

’’تم اس وقت ڈائریکٹر کے دفتر میں آجاؤ۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر لالہ۔۔۔۔۔۔‘‘

انہوں نے گونج دار آواز میں حکم صادر کیا ’’نہ اگر۔۔۔۔۔۔ نہ مگر۔۔۔۔۔۔میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ‘‘ یہ نادر شاہی حکم سنا کر فون بند کر دیا۔ لالہ وزیر محمد کا ہر معاملے میںیہی نادر شاہی انداز تھا۔

ہم نے فوراً کام سمیٹا اور کرشل بلڈنگ پہنچ گئے۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو سب سے پہلے چوہدری فضل حق صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ لالہ وزیر محمد اگلے کمرے میں بیٹھے ہیں۔ اگلے کمرے میں پہنچے تو لالہ سامنے والے بڑے صوفے پر تشریف فرما تھے۔ سلام کے جواب میں ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا۔ پیشانی چومی او رپاس بٹھالیا پھر پوچھا ’’شباب صاحب سے ملے ہو ؟‘‘

ہم نے انکار میں سرہلایا۔ سامنے دیکھا تو ایک بہت بڑی میز کی دوسری جانب بڑی سی کرسی پر ایک گندمی رنگ‘ گول مٹول جوان بیٹھا تھا۔ جس کی ہر چیز گول تھی۔ جسم گول، چہرہ گول، آنکھیں بھی گول گول۔ یہ چمکدار شخص مسکرا رہا تھا۔ ہم نے اٹھ کر ان سے ہاتھ ملایا۔ انہوں نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ ہماری طرف بڑھا دیا۔ شباب صاحب بہت چھوٹے قد کے تھے۔ ان کے ہاتھ پاؤں بھی چھوٹے چھوٹے تھے۔ مگر ارادے اور ذہنی صلاحیتیں اتنی ہی بڑی تھیں۔ وہ ہنس مکھ اور خوش مزاج آدمی تھے۔ مطالعہ بھی بہت زیادہ تھا۔ بہت دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ اس لئے بہت جلد ہماری بے تکلفی ہو گئی۔

شباب صاحب نے ٹیلی فون اٹھا کر چائے کے لئے آرڈر دیا اور ساتھ ہی سموسے بھی لانے کو کہا۔ خصوصی لوگوں کے لئے وہ مال روڈ کے پار واقع ٹی ہاؤس سے چائے منگایا کرتے تھے چنانچہ یہی اعزازہمیں بھی بخشا گیا۔

لالہ وزیر محمد نے کہا ’’شباب صاحب ! یہ لڑکا نوجوان ہے۔ کنوارا ہے۔ فلمی لوگوں سے بھی ملتا ہے مگر بہت شرمیلا ہے۔ اب میں اسے آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔ آپ اس کی شرم دور کر دیں ‘‘ یہ کہہ کر وہ بہت زورر سے قہقہہ مار کر ہنسے۔

جواب میں شباب صاحب بھی ہنسنے لگے۔ ہم سامنے والے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس لئے شباب صاحب کی ٹانگوں سے لے کر چہرہ تک سبھی ہماری نظروں کے سامنے تھا۔ شباب صاحب کی ہنسی کا ہم نے یہ انداز دیکھا کہ وہ قہقہہ مار کر ہنستے تو پہلے ان کا چہرہ ہنسنے لگتا۔ آواز کچھ دیر بعد سنائی دیتی تھی۔ اس طرح ہم نے کسی اور کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایک اور بات ہم نے یہ نوٹ کی کہ شباب صاحب جس کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کے قد کے مقابلے میں اونچی تھی جس کی وجہ سے ان کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ وہ ہوا میں ہی معلق رہتے تھے۔ وہ ان پیروں کو مختلف انداز میں حرکت دیتے رہتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے پیروں کے سامنے ایک تپائی سی رکھنی شروع کر دی تھی جس پر وہ اپنے پیر رکھ لیا کرتے تھے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ