سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

  

اپنے سر لگے الزام  کودوسروں کے نام کردینا ہی وطن ِعزیز میں  ہر مسئلے کا  حقیقتی  حل سمجھاجاتاہے– کرسی بچانے کے لئے یہ کام سرِعام  کیا ڈھٹائی سے بہ احسنِ خوبی انجام  دیا جاتا ہے کہ دامن بچانا اور  مسکراتے پر خطر موڑ سے مڑ جانا ہی اس  ملک میں کامیاب سیاست دکھائی دیتا ہے- دشنام طرازی اور  ہر اس موقع کی تلاش کہ جس میں  حریف کو نیچا دکھایا جا سکے  ہی  شائد مقام حاصل ہے اس  سیاست کا جس کا شکار ہر ملکی ایوان نظر آتا ہے- کورم پورا ہو نا ہو،  اسمبلی میں کسی ملکی مسئلے پہ بات ہو نا ہو، جیب میں مشاہرہ اور لوگوں میں الفاظ کا مظاہرہ آنا چاہئے، کب مات ہو سکتی ہے آپ کو جب کہ عوام بیوقوف  بھی ہو اور ہر غم کو ہنس کے پی لینے کی عادی بھی ہو- اپنا دکھ بھول کر جب آپ کے آنسو پوچھنے کو معصوم محبتیں آگے بڑھیں  گی تو  آپ   کی ہر چال ایک نیا جال ہی تو بنے گی کہ جس میں الجھا شکار اپنے صیادپہ  قربان ہوتا ہوا ہر پھندہ چوم کر گلے میں ڈالے گا اور جب  کوئی آپ  کی طرف سنگ اٹھائے گا تو اسے اپنا سر ہی یاد آئے گا کہ جہاں ایک ہجوم آپ کے تحفظ کے لئے چاک و چوبند  نظر آئے گا- جی اسی ملک میں جوانیاں بیچ چوراہے آپ کی خاطر آتش ِ بے باک میں بے نامی سے جل گئیں اور آپ کی زبانوں پہ ان کی قربانیاں تو ہیں لیکن ان کے خاندان زندگی کی کس چکی میں پس رہے ہیں  نہ میڈیا اجاگر کرتا ہے اور نہ  ہی آپ کو یاد رہتا ہے - آپ تو لفظوں کے ایسے ایسے کھیل دکھاتے اور من میں جوش کی وہ آگ بھڑکاتے ہیں کہ پروانے آپ کی شعلہ بیانی پہ مر مر جاتے ہیں- جب تک آپ کا فن زندہ ہے کون ہے جو آپ کا بال بھی بیکا کر سکے- کیونکہ  سیاسی علم و عرفان سے نا بلد قوم آپ سے نجات کی راہ جانتی ہی نہیں اور نہ ہی اسے ان حالات کو بدلنے کی تمنا ہے کیونکہ تیری بے رخی کی عادت سی ہوگئی ہے  – اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ                                                                                                                              

خدا  نے آج   تک اس  قوم کی حالت نہیں  بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت  کےبدلنے  کا

قومی سطح پر جماعتوں کی لڑائی تو سوکنوں کا کردار دھار چکی ہے – کس نے کیا کمایا کیا کھا یا موضوعِ سخن ہے- صبح شام کی جمع تفریق نے عوام کو ان الجھی گتھیوں میں یوں الجھایا  ہوا ہے کہ ہونق  بنی  سب کے درمیان لاچارو  بے مددگار کا افسانہ بنی ہوئی ہے- جماعتوں میں تو کوئی کسی کو سڑکوں پہ گھسیٹ رہا ہے  یا زبان ہی گدی سے کھینچ دینے کے در پے ہے- لیکن جب ضرورت  آن پڑتی ہے تو کھانے پکائے بھی جاتے ہیں اور ہاتھوں سے کھلائے بھی جاتے ہیں – دی ہوئی زبانوں کے مان بھی رکھے جاتے ہیں ، کیے احسان مانے  بھی جاتے ہیں اور جتائے بھی جاتے ہیں-  پھر وہی اخبارات  کے صفحات پر چھپے اشتہارات ان کارناموں کی داستان سناتے ہیں  جو کبھی وجود میں آئے ہی نہیں مگر ان کا آغاز  کئی دفعہ ہو چکا  ہوتا ہے-کیا معاشرتی ترقی یہ تو الو بناتے وہ کاغذی منصوبے ہیں جو الیکشن کے دنوں سر چڑھ کر بولتے ہیں - ملکی ادارے کمزور کردو اور کھل کھیلو یہی کرنا ہے اور  آپ کو یہی کرتے رہنا ہے- چنداں مشکل نہیں ملک پاکستان میں حکومت کرنا اور  اس کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا- بس جہاں مصیبت آئے بنا دو اس کو فوج   کے گلے کی ہڈی – پولیو مہم سے لیکر مردم شماری تک ہے ان کے حوالے جن کو ہر محفل لتاڑا جاتا ہے کہ بیرکوں   سے باہر کیوں ہو- سیلاب ہو یا زلزلہ- سڑک بچھانی ہو یا  پہاڑوں کا سینہ چیر کررستے بنانے ہوں- کہیں پہ علاج معالجہ درکار ہو یا نقصِ امن کا خطرہ  - ملک میں انتخابات ہوں یا   عدالتی نظام  میں سقم ملکی ادارے کہاں نظر آتے ہیں سوائے ان اوراق پہ جن میں ان اداروں پہ اٹھے اخراجات ان کے ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں – ہاں  جہاں بات ہو جیب بھرنے کی  تو پھر اپنے ہی  ہر جماعت ہر ادارے  میں    ہیں اور آپ کے  مال بنانے کے کام کب رکتے ہیں- وزارت عظمیٰ کا قلمدان نہیں تو کوئی اور عہدہ منتظر ہے کہاں ہے کوئی ضابطہ یا قانون – اگلے الیکشن اگر قریب ہوں گے تو عوام سے رابطے بھی ہوں گے ورنہ کیا ضرورت ہے ان میلے کچیلے لوگوں میں بیٹھ کر وقت کھوٹا کرنے کی- الیکشن تو باسی کڑھی میں ابال ہے پھر وہی ہتھکنڈے پھر وہی ذات پات اور پھر وہی خرید و فروخت  اور رات گئی بات گئی- پھر وہی  درپیش مشکلات میں آپ کا در اور  اگلے الیکشن کا انتظار  – نہ سائل کم ہوں گے نہ ان کے مسائل-  آپ کو بھی کب پرواہ ہے ان کی  جو آپ سے کوئی سوال کرتے ہیں کیونکہ آپ    کا احتساب کرنے والے  آپ کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں تو تھانہ کچہری میں ایسے   چکر لگاتے ہیں کہ دوبارہ  احتجاج  لفظ ہی بھول جاتے ہیں- اور جو باقی بچتے ہیں وہ کہتے ہیں

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد

سنگ  اٹھایا   تھا   کہ سر   یاد  آیا

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ