بی بی نانی کی زیارت گاہ

بی بی نانی کی زیارت گاہ
بی بی نانی کی زیارت گاہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زندگی کے بعض سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں نہ تو پاؤں تھکتے ہیں، نہ دل بیزار ہوتا ہے۔ بلکہ دھیرے دھیرے سے منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس راستے پر ہی چلتے رہنا چاہتے ہیں۔میرایہ سفر جس مقام کی جانب جاری تھا، وہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔ جی ہاں بولان پاس میں پیر غائب کا علاقہ بے آب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان ایک سر سبز و شاداب وادی کی صورت میں موجود ہے۔اس حسین علاقے میں پہنچتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی میں آ گئے ہیں اور جہاں نظر پڑ تی ہے وہیں کچھ لمحوں کے لیے ٹھہر جاتی ہے۔چاروں طرف خوبصورت بھورے جلے ہوئے پہاڑ اوران میں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت بہتا ہے اور یہ حسین آبشار دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی پرْلطف نظارہ پیش کرتی ہے۔آبشار کے دونوں حصوں کا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا ایک بہت بڑے تالاب میں مل جا تا ہے۔

پیر غائب ، کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام ایک بزرگ پر رکھا گیا ، جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ’’بی بی نانی‘‘کے ہمراہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے غرض سے یہاں آئے تھے۔ یہاں بت پرست آبادتھے۔ اس لیے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے اور یہاں تک کہ انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنے بچاؤ کے لیے بولان کی گھاٹیوں میں چھپ گئی اور کافی دیر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو میٹر کے فاصلے پر پل کے نیچے بنا ہوا ہے۔ جبکہ پیر غائب چٹا نوں کے درمیان چھپ گیا ۔پھر تھوڑی دیر بعد وہ غائب ہو گیا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے یہ علاقہ پیر غائب کے نام سے مشہورہے۔

بی بی نانی کے ارد گرد کوئی بہترین ہوٹل موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہیں۔پی۔ٹی۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ) نے زیارت میں ایک ہوٹل قائم کیا ہے مگر وہ سیاحوں کو خاصا دور پڑتا ہے ،اس لیے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لاتے ہیں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھینک دیتے ہیں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اس ٹھنڈے پانی میں نہا نہا کر واپس شام کو یا تو کوئٹہ چلے جاتے ہے یا سبی کا رخ کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 میں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کے باعث سیاحت پر برا اثر پڑا ہے اور بی بی نانی جیسا تسکین بخش مقام ویرانی کی نذر ہو گیاِ۔حال ہی میں خصوصی طور پر وزیراعظم نواز شریف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے میننیجینگ ڈائریکٹر چودھری کبیر احمد خان کو ہدایات دیں ہیں کہ بلوچستان میں سیاحت کو بہتر بنایا جائے۔اسکے لیے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمیوں کے تفریحی پیکیجوں کو متعارف کرانے اور سیاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دیا۔

پہاڑوں میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے بھی پیرغائب اور مین روڈ پہ واقع بی بی نانی زیارت کا علاقہ بالکل گم نام ہے اوراسی لیے یہاں تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی رسائی نہیں ہو پاتی۔یہایک قدرتی تفریحی مقام بھی جسے روحانیت کا سایہ نصیب ہے۔یہاں پہاڑوں سے نکلتا پانی علاقے کو سیراب کرتا ہوا جاتا اور لوگوں کو اپنی جانب مبذول کرواتا ہے ۔

شاہ عبدالطیف سائیں کے شاعری کی سورمیاں (ہیروئن) عورتیں ہی ہیں۔ سسی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری، یہ سب وہ کردار ہیں جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کرکے امر کر دیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کے لیے عورتوں کا انتخاب کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ عورت جسے ہم کمتر سمجھتے ہیں وہ کسی بھی طرح کمتر نہیں، بلکہ ہمت، حوصلے، رومان اور مشکلات کا سامنا کرنے کی علامت ہے۔ مگر افسوس اس وقت مجھے ہوا جب بی بی نانی پہ میں نے کوئی کتاب ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر نا کام ہو گیا۔ اللہ تعالی ہمارے لکھنے والے بھائیوں کو ہمت دے۔ جن مقامات پہ کوئی کچھ نہیں لکھتا ، ان پہ کم از کم کچھ لکھنا چاہئے تاکہ آنے والی نسل ہمارے تاریخی مقامات کو کم از کم پہچان سکیں اور ان کے بارے میں مزید تحقیقی معلومات دیں سکیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ