خلیفہ منصور کیخلاف چند لوگوں کے ناجائز اونٹ پکڑنے کی شکایت پر عدالت نے خلیفہ وقت کیخلاف ہی فیصلہ دیدیا، فیصلہ سن کر خلیفہ نے قاضی کی جرات پر انعام سے نوازدیا

خلیفہ منصور کیخلاف چند لوگوں کے ناجائز اونٹ پکڑنے کی شکایت پر عدالت نے خلیفہ ...
خلیفہ منصور کیخلاف چند لوگوں کے ناجائز اونٹ پکڑنے کی شکایت پر عدالت نے خلیفہ وقت کیخلاف ہی فیصلہ دیدیا، فیصلہ سن کر خلیفہ نے قاضی کی جرات پر انعام سے نوازدیا

  

مدینہ(ویب ڈیسک) خلفیہ منصور کے دورحکومت میں چند لوگوں نے ان کے اونٹ ناجائزقبضے میں لیے جانے کی قاضی کوشکایت کردی ، قاضی نے خلیفہ وقت کو طلب کیا اور فیصلہ ان کیخلاف سنادیا، خلیفہ وقت کو عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا پڑا لیکن فیصلے کے بعد قاضی کو طلب کیاتو قاضی نے اپنا کام نمٹانے تک خلیفہ وقت کی بات نہیں سنی ، جب اپنے امور نمٹا کر خلیفہ وقت کے پاس پہنچے تواُنہوں نے انصاف کرنے اور خلیفہ وقت کیساتھ کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتنے پر قاضی کو 10ہزار دیناربطورانعام بھی دیئے اور ان کی ہمت کو داد دی۔

روزنامہ امت کے مطابق” حضرت نمیر مدنیؒ سے مروی ہے کہ خلیفہ منصور جب مدینہ منورہ میں آیا تو اس وقت سیدنا محمد بن عمران طلحیؒ مدینہ منورہ میں عہدئہ قضا پر فائز تھے۔ آپ بہت عادل و جرا¿ت مند قاضی تھے۔ حق دار کو اس کا حق دلواتے، اگرچہ مدمقابل کتنا ہی اثر و رسوخ والا ہو، آپ اس معاملے میں بالکل رعایت نہ کرتے۔

میں ان کا کاتب تھا۔ جب خلیفہ منصور مدینہ منورہ میں حاضر ہوا تو کچھ لوگوں نے خلیفہ کے خلاف قاضی کی عدالت میں دعویٰ دائر کیا: ”ہمارے اونٹ ناجائز طریقے سے خلیفہ نے چھین لئے ہیں، لہٰذا ہمیں انصاف دلایا جائے۔“ ان غریب لوگوں کی فریاد سن کر سید محمد بن عمران طلحیؒ نے مجھے حکم فرمایا: اے نمیر! فوراً خلیفہ کی جانب پیغام لکھو: ”چند لوگوں نے آپ کے خلاف دعویٰ کیا ہے اور وہ انصاف چاہتے ہیں، لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ فوراً تشریف لائیں تاکہ فریقین کی موجودگی میں شرعی فیصلہ کیا جاسکے۔“

حضرت نمیرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے قاضی صاحبؒ سے عرض کی: ”حضور! مجھے س معاملے سے دور ہی رکھیں، خلیفہ میری لکھائی کو پہچانتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی مشکل میں پھنس جاﺅں۔“ آپ نے فرمایا: ”اے نمیر! یہ پیغام تم ہی لکھو گے اور تم ہی اسے لے کر خلیفہ کے پاس جاﺅ گے، جلدی کرو اور پیغام لکھو۔“ میں نے جب آپ کی یہ بات سنی تو پیغام لکھا، اس پر مہر لگائی۔ آپ نے فرمایا: ”اب جلدی سے یہ خط لے کر خلیفہ کے پاس جاﺅ۔“ چنانچہ مجھے مجبوراً جانا ہی پڑا۔ میں سیدھا خلیفہ منصور کے مشیر خاص ربیع کے پاس گیا اور اسے صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد کہا: ”آپ یہ پیغام خلیفہ تک پہنچادیں، مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔“ ربیع نے کہا: ”تم خود ہی جاکر خلیفہ کو قاضی کا خط دو۔“ لہٰذا چاروناچار مجھے ہی خلیفہ کے پاس جانا پڑا۔ میں نے جاکر اسے قاضی صاحب کا خط دے دیا اور فوراً واپس چلا آیا۔ حضرت محمد بن عمران طلحیؒ عدالت میں بیٹھے تھے اور لوگوں کے مسائل حل فرمارہے تھے۔ وہاں مدینہ نورہ کے بڑے بڑے علمائے کرام، امرا اور دیگر لوگ کافی تعداد میں موجود تھے۔ اتنی ہی دیر میں خلیفہ منصور کا مشیر خاص ربیع کمرئہ عدالت میں آیا اور اس نے خلیفہ منصور کا پیغام سنایا:

اے لوگو! خلیفہ نے آپ سب کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ مجھے بطور مدعا علیہ عدالت میں طلب کیا گیا ہے، لہٰذا مجھ پر عدالت میں حاضر ہونا لازم ہے۔ تمام لوگوں کو تاکید ہے کہ جب میں آﺅں تو کوئی بھی میری تعظیم کے لئے کھڑا نہ ہواور نہ ہی کوئی سلام کرنے کے لئے میری طر ف بڑھے۔

لوگوں کو خلیفہ کا پیغام سنانے کے بعد ربیع وہاں سے چلاگیا، میں بھی ساتھ تھا۔ کچھ ہی دیر بعد خلیفہ منصور، ربیع اور مسیب کے ساتھ آیا۔ میں بھی اس کے پیچھے تھا۔ خلیفہ کو دیکھ کر مجلس سے کوئی شخص بھی تعظیم کے لئے کھڑا نہ ہوااور نہ ہی کسی نے اسلام میں پہل کی، بلکہ خود خلیفہ نے آتے ہی لوگوں کو سلام کیا، پھر وہ رسول کریم کی قبر انور پر حاضر ہوا، صلوٰو سلام پیش کرنے کے بعد ربیع سے کہا: ”اگر آج قاضی محمد بن عمران طلحی نے میرے ساتھ نرمی کا برتاﺅ کیا اور میرے منصب کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ کیا تو میں اسے فوراً معزول کردوں گا۔“

پھر خلیفہ منصور، قاضی کی عدالت میں آیا، اس وقت اس کے جسم پر چادر تھی اور ایک تہبند تھا۔ جب حضرت محمد بن عمران طلحیؒ نے خلیفہ کو دیکھا تو ذرہ برابر بھی مرعوب نہ ہوئے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ خلیفہ منصور کی چادر اس کے کندھے سے گرگئی تو کسی نے بھی اسے چادر اٹھا کر نہ دی، بلکہ اس نے خود ہی اپنی چادر اٹھائی۔

قاضی محمد بن عمرانؒ نے مقدمے کی کارروائی شروع کرتے ہوئے دونوں فرقوں کو اپنے سامنے بلایا۔ پھر مدعیوں سے پوچھا©: ”تمہارا خلیفہ پر کیا دعویٰ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہمارے اونٹوں کو جبراً چھینا گیا ہے۔“ چنانچہ قاضی صاحب نے خلیفہ وقت کے خلاف ان لوگوں کے حق میں فیصلہ کردیا اور بالکل رورعایت سے کام نہ لیا اور خلیفہ سے کہا: ”ان غریبوں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے۔“ چنانچہ انہیں خلیفہ کی طرف سے ان کے اونٹ واپس کردئیے گئے۔

اس فیصلہ کے بعد خلیفہ منصور اپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ قاضی صاحب لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مشغول رہے اور خلیفہ کی طرف بالکل توجہ نہ دی۔ پھر خلیفہ نے ربیع کو بلایا اور کہا: ”جاﺅ، قاضی صاحب کو بلا کر لاﺅ۔“ ربیع نے کہا : ”خدا کی قسم! قاضی صاحب اس وقت تک آپ کے پاس نہیں آئیں گے جب تک مجلس میں موجود تمام فریادیوں کی فریاد نہ سن لیں۔ بہر حال میں چلاجاتا ہوں اور آپ کا پیغام ان تک پہنچادیتا ہوں۔“

چنانچہ ربیع، قاضی محمد بن عمرانؒ کے پاس آیا اور انہیں خلیفہ منصور کا پیغام دے کر واپس آگیا۔ قاضی صاحب لوگوں کے مسائل

سنتے رہے اور فیصلے کرتے رہے، جب سب لوگ چلے گئے اور مجلس برخاست ہوگئی تو آپ خلیفہ منصور کے پاس گئے، اسے سلام کیا۔ خلیفہ نے سلام کا جواب دیا اور قاضی سے یوں مخاطب ہوا©:

اے مرد مجاہد! اے جرا¿ت مند قاضی! خدا تجھے تیرے د ین کی طرف سے تیری ذہانت، جرا¿ت مندی اور اچھا فیصلہ کرنے پر اچھا بدلہ عطا فرمائے، خدا تیرے حسب و نسب میں برکتیں عطا فرمائے، پھر خلیفہ منصور نے خادم کو حکم دیا کہ 10 ہزار دینار اس مرد مجاہد قاضی کو ہماری طرف سے بطور انعام پیش کئے جائیں۔ چنانچہ حضرت محمد بن عمرانؒ کو 10 ہزار دینار بطور انعام پیش کئے گئے، پھر آپؒ وہاں سے واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے آئے“۔

مزید : عرب دنیا