نفرت انگیز مواد نہ ہٹایا تو سوشل میڈیا پر53ملین ڈالر جرمانہ کیا جائے گا:جرمنی

نفرت انگیز مواد نہ ہٹایا تو سوشل میڈیا پر53ملین ڈالر جرمانہ کیا جائے گا:جرمنی
نفرت انگیز مواد نہ ہٹایا تو سوشل میڈیا پر53ملین ڈالر جرمانہ کیا جائے گا:جرمنی

  

برلن (ڈیلی پاکستان آ ن لائن) جرمن حکومت نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد نہ ہٹانے پر53ملین ڈالر تک جرمانہ کرنے بل منطور کر لیا ہے۔ قانون کے مسودے کے مطابق سوشل میڈیا کو غلط خبریں اور نفرت انگیز   مواد ہٹانے کے لئے ایک ہفتے کا موقع دیا جائے گا۔

سندھ میں 60ہزار اساتذہ کی کمی، 70فیصد دیہات میں پرائمری تعلیم کی سہولیات نہیں، ایم کیو ایم بھتے کے لئے فیکٹریاں جلا دیتی ہے:خورشید شاہ

الجزیرہ کے مطابق جرمن حکومت نے سوشل میڈیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس سلسلے میں جرمنی نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق سوشل میڈیا پر غلط خبریںاور نفرت انگیز مواد کو صارفین کی جانب سے رپورٹ کرنے کے بعد سوشل میڈیا اسے ہٹانے کا پابند ہوگا۔اگر سوشل میڈیا نے ایسا موادرپورٹ کرنے کے ایک ہفتے کے اند ر نہ ہٹایا تو جرمن حکومت اس پر 53ملین ڈالر تک جرمانہ کرے گی۔

ترک جنگی طیاروں کی کرد شدت پسندوں کے خلاف کارروائی،16دہشت گرد ہلاک

جرمن وزیر انصاف ہیکو ماس کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے جرمنی میں مہاجرین کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر آئندہ الیکشن میں رائے عامہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔جرمنی آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے اور جمہوری اقتدار کے لئے آزادی اظہار رائے اہم ہے لیکن آزادی اظہار کے حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے جرائم کی ابتداہو۔اس لئے سوشل میڈیا پر جرمانے کا قانون پاس کیا ہے اور یہ یہ قانون جرمنی کے بعد یورپی یونین میں نافذ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

ماضی کے اداکار ونود کھنہ آج کل کن حالات میں ہیں ،جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

وزیر انصاف کا مزید کہنا تھا کہ فیس بک نے رپورٹ شدہ مواد کا محض39فیصد جبکہ ٹوئٹر نے1فیصد مواد ڈیلیٹ کیا، جبکہ دونوں نے2015ءمیں جرمن حکومت کے ساتھ کوڈ آف کنڈکٹ کے معاہدے کو تسلیم کیا ہوا ہے۔

مزید : بین الاقوامی