شادی بچانے کیلئے اجنبی مَردوں سے تعلقات قائم کرنے کیلئے سہولت، مسلم خواتین کیلئے پہلی مرتبہ ایسی ویب سائٹ متعارف کروادی گئی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

شادی بچانے کیلئے اجنبی مَردوں سے تعلقات قائم کرنے کیلئے سہولت، مسلم خواتین ...
شادی بچانے کیلئے اجنبی مَردوں سے تعلقات قائم کرنے کیلئے سہولت، مسلم خواتین کیلئے پہلی مرتبہ ایسی ویب سائٹ متعارف کروادی گئی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

  

لند ن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی میڈیا کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’حلالہ میرج‘ کے نام پر آن لائن کاروبار کا ایک منظم سلسلہ قائم ہوچکا ہے، جس کے ذریعے حلالہ کی خواہش مند خواتین سے ہزاروں پاﺅنڈ وصول کرکے انہیں مطلوبہ خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے اس سلسلے میں فرح (فرضی نام) نامی خاتون سے بات کی جو حلالے سے متعلقہ آن لائن فراہم کی جانے والی خدمات سے آگاہ تھیں۔ فرح کی شادی نوجوانی میں خاندان والوں نے اپنی مرضی سے کروائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا رویہ جلد ہی بگڑ گیا اور وہ جابجا تشدد پر اترآتا تھا۔ اگرچہ وہ کوشش کرتی رہیں کہ حالات بہترہوجائیں لیکن بالآخر اس تعلق کا اختتام ہو گیا۔ فرح کا کہنا ہے کہ ایک روز ان کے درمیان جھگڑا ہوا تو شوہر نے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے تین دفعہ طلاق لکھ بھیجا۔ بعدازاں اسے اپنے اس فعل پر ندامت ہونے لگی اور فرح بھی اس کے پاس واپس جانا چاہتی تھی۔

پاکستانی شہری نے بیوی سے محبت کی نئی مثال قائم کر دی ،جہاز ابھی اڑا ہی تھا کہ اسے اہلیہ کی یاد ستانے لگی ،جہاز کو واپس لینڈ کروا کر واپس گھر پہنچ گیا

فرح کو بتایاگیا کہ اب اس کا حل صرف حلالہ تھا، یعنی اسے کسی اور مرد کے ساتھ نکاح کرکے طلاق لینا ہوگی جس کے بعد وہ اپنے پہلے خاوند سے شادی کرسکے گی۔ جب انہوں نے کچھ معلومات لیں تو پتہ چلا کہ اکثر خواتین جب خاندان سے چھپ کر حلالہ کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ انہیں کئی ایسی لڑکیوں کے بارے میں پتہ چلا جو حلالہ کے لئے کسی شخص کے پاس گئیںاور پھر انہیں کئی افراد نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ حلالہ میرج کے خطرات سے گھبراکر فرح نے بالآخر فیصلہ کیا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ بہت سی دیگر خواتین یہ غلطی کرتی ہیں جس کا انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ حلالہ کی خدمات متعدد آن لائن اکاﺅنٹس کے ذریعے پیش کی جارہی ہیں۔ فیس بک پر حلالہ کی خدمات پیش کرنے والے ایک شخص سے جب رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ 2500 پاﺅنڈ (تقریباً سوا تین لاکھ پاکستانی روپے)بطور فیس وصول کرے گا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ کچھ اور مرد بھی یہ خدمات فراہم کررہے ہیں جو اپنی فیس وصول کرتے ہیں اور شادی و ازدواجی تعلق کے بعد طلاق دے دیتے ہیں۔

”پاکستانی لڑکو! اگر آپ کو لڑکی سے تعلقات قائم کرنے ہیں تو۔۔۔“ پاکستانی اداکارہ نے نوجوانوں کو ایسا مشورہ دیدیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

بعدازاں جب نشریاتی ادارے کے نمائندے نے خود جاکر تفتیش کرنے کی کوشش کی تو یہ شخص اپنی بات سے صاف مکر گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کوئی خدمات فراہم نہیں کرتا اور اس نے فیس بک پیج بھی تفنن طبع کے لئے بنایا تھا۔

ایسٹ لندن کی اسلامک شریعہ کاﺅنسل حلالہ کی شادی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ کاﺅنسل کا کہنا ہے”یہ ایک جعلی شادی ہے جس کا مقصد صرف پیسہ بنانا اور مجبور لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ حرام اور ممنوع ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس