رائل پام میں اجمل چودھری کے اعزاز میں کاروان علم کا ظہرانہ

رائل پام میں اجمل چودھری کے اعزاز میں کاروان علم کا ظہرانہ
رائل پام میں اجمل چودھری کے اعزاز میں کاروان علم کا ظہرانہ

  

لاہور ( سپیشل ایڈیٹر) اس بار تو مارچ میں گرمی اور لُو نے ہڑبڑا کر رکھ دیا تھا کہ سوچا اس موسم میں سماجی زندگی کا تو بیڑا غرق ہوجائے گا،لاہور کی محفلیں بھی سنسان ہوجائیں گیں ،کون ہے جو دوپہر کو کسی تقریب میں جانے پر مائل ہوگا ۔مگر اللہ کارساز ہے اور اپنے نیک بندوں کے بابرکت کاموں کی راہیں خوشگوار بنادیتا ہے۔چند دنوں میں ہی بارش اور ہواؤں نے گرمی کا مزاج بدل دیا ہے اور لاہو ر میں دوپہر کو تقریبات کا آغاز پھر جوش و خروش سے جاری ہوگیا۔ایک ایسے ہی ابر آلود اور ٹھنڈے موسم میں ہمیں کاروان علم فانڈیشن کے ظہرانے میں جانے کا اتفاق ہوا۔

رائل پام لاہور کے عالی شان ہوٹلوں سے کافی حد تک مختلف اور پُرفضا ہوٹل ہے۔ اسے ہم عرف عام میں کنٹری کلب بھی کہتے ہیں ۔اسکی وجہ ہے کہ اس میں فائیو سٹار ہوٹلوں کے برعکس گالف کلب ،فٹ بال گراونڈ، سایہ دار اور خوبصورت درخت ،وسیع لان اور ٹریک مہمانوں پر خوشگوار اثر چھوڑتے ہیں ۔شادی بیاہوں کے کلاسیکل فنکشنز نے اس کو مزید شہرہ دیا ہے۔140 ایکڑ میں پھیلا ہوا رائل گالف اینڈ کنٹری کلب پاکستان ریلوے کی ملکیت ہے اوراسکو ریلوے کے ماتھے کا جھومر کہنا چاہئے۔تقریباً ایک سو سال ہونے کو آچکے ہیں اسکی تعمیر کو اور یہ افسروں کی دستبرد سے محفوظ واحد عمارت ہے جسے گاہے گاہے ہر زمانے کے مطابق سنوارا گیا ہے۔جس نے لاہور دیکھنا ہو وہ رائل کنٹری کلب میں آکر لاہور کا خوبصورت اربن چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ابھی تک اسکے کونوں میں صدیوں پرانے بوڑھے درخت موجود ہیں۔البتہ اس بات کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے کہ رائل پام انتظامیہ ان درختوں تلے ہٹ کیوں نہیں بناتی ۔اگر یہ کام کردیا جائے توبینکویٹ ہالوں اور ریستورانوں کے ساتھ ساتھ بندہ ان ہٹوں میں بیٹھ کر جنگل میں منگل کا لطف اٹھا سکتا ہے۔رائل پام کی قدری خوبصورتی سے لاہور کی افادیت میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ بہرحال روایت پسند لوگ یہاں تقریبات سجھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

پچھلے دنوں کاروانِ علم فاونڈیشن کے امریکن چیپٹر کے روح رواں جناب اجمل چودھری ،امتیاز سید،انعام الحق اور طلحہ و دیگر رفقا کے ساتھ لاہور تشریف لائے تو امیر کارواں ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے رائل پام کے پُر فضا اور کشادہ ماحول میں اہل کاروان علم اور ممتاز صحافی رفقا کو ظہرانہ کی دعوت دی تاکہ اجمل چودھری صاحب کی خیراتی خدمات کے غیر معمولی جذبے کو سراہا بھی جاسکے اور دوستوں کو آگاہ کیا جاسکے کہ کاروان علم کا امریکہ میں چیریٹی چیپٹر کیا اہمیت رکھتا ہے اور اسکے لئے کتنی محنت اور خلوص سے کام لیا جارہا ہے۔اس شاندار اور بامقصد ظہرانے میں لاہور کے نمایاں صحافی چہروں کو مدعو کرنے کے لئے کاروان علم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد ارشاد صوفی نے اپنی نیندیں تیاگ دی تھیں کیونکہ عین دوپہر کو جب زیر تعمیر کینال روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوتا ہے تو صحافیوں کی یہ صبح بھی ہورہی ہوتی ہے اور انکے ناشتہ کا ٹائم بھی۔یہ لنچ انکے لئے گویا برنچ تھا۔ لہذاصحافیوں کو دوپہر کے وقت رائل پام میں بلانا کڑا امتحان ثابت ہوتا ہے۔ لیکن دھن اور خلوص میں بے پاں کامل صوفی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جب کسی ایونٹ کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو اسکو پار لگا کر سرخرو ہوجاتے ہیں۔وہ پوری سچائی سے محنت کرکے کاروان علم فاونڈیشن کی ساکھ اور افادیت کو اٹھا رہے ہیں۔

ظہرانے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دوپہر بہت خوشگوار تھی۔گرمی کازور ہلکی پھلکی بارش نے توڑ دیا تھا۔تیز اور ٹھنڈی ہواؤں سے رائل پام کے درخت اور پودے جھوم رہے تھے۔منظر بہت بھلا لگ رہا تھا۔خالد ارشاد صوفی برادر ندیم شفیق اور روف طاہر کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کررہے تھے۔فوٹو گرافر جھٹ سے وہ لمحہ قید کرلیتا جب کوئی مہمان میزبانوں سے بغل گیر ہوتا ۔پھر نہایت احترام سے انہیں فرئیر ہال کی چوتھی منزل پر پہنچا دیا جاتا۔فریئیر ہال کی دوسری منزل کو گراونڈ سمجھنا چاہئے کیونکہ اس سے نیچے ڈائیننگ ہال اور گولف والوں کا قبضہ ہے۔یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ہال ہے ۔کشادہ،نم دارمہکتی ہوا سے معطر۔ملگجی روشنیاں۔انٹیرئیر کا ذوق نفاست کی علامت۔یہاں بیٹھ کر سکون محسوس ہوتا ہے۔عام دوسرے ہوٹلوں میں جانا ہوتا ہے لیکن وہاں ایسا احساس پیدا نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات گھٹن سی محسوس ہونے لگتی ہے۔

ہال میں مجیب الرحمن شامی صاحب اجمل چودھری اور انکے دوستوں کے ساتھ محو گفتگو تھے۔واضح رہے کہ کاروان علم فاونڈیشن میں لاہور کے انتہائی معتبر اور مخلص شخصیات شامل ہیں جو لائق مگر مستحق بچوں کے تعلیمی اخراجات اس پلیٹ فارم سے مہیا کرتے ہیں۔اسکی مجلس عاملہ کے مستقل عہدیداروں میں ایس ۔ایم۔ ظفر،مجیب الرحمن شامی،ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی،الطاف حسن قریشی، ایوب صابر، غلام احمد بمبل،احسان اللہ وقاص،ندیم شفیق ایسی دیگرنابغہ علمی قانونی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں اور پوری دنیا میں مخیر حضرات ان کی نیک نامی کی بدولت کاروان کے صدقہ جاریہ میں تعاون فرماتے ہیں ۔امریکہ میں اجمل چودھری صاحب اس حوالے سے سرگرم رہتے ہیں ۔وہ پاکستان لیگ آف امریکہ کے صدر ہیں۔اس تنظیم کے تحت بہت سے سماجی بہبود کے کام ہورہے ہیں ۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اجمل چودھری صاحب کی لیگ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی ،محبت ، تعاون اور تشخص کی بحالی کا مضبوط پُل ہے۔وہ چھبیس ستائیس سال سے وہاں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کررہے ہیں ۔

محفل میں دوستوں کے آنے سے کورم پورا ہوچکا اور ابھی کچھ صاحبوں کا آنا باقی تھا تو شامی صاحب نے گھڑی پر انگلی رکھی اور اعلان کیا کہ تقریب کا آغاز کردیا جائے کیونکہ ڈیڑھ بج چکا ہے،نماز بھی پڑھنی۔خالد ارشاد صاحب نے تلاوت قران پاک سے محفل کا باقاعدہ آغاز کیا لیکن درحقیقت اسکا غیر رسمی آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب شامی صاحب کا اِذن ملا تو نوجوان کالم نگار گل نوخیز اختر اور روف طاہر نے اجمل چودھری سے سوال و جواب شروع کردئیے۔اجمل چودھری کی باتوں سے علم ہوا کہ امریکن لوگ اور پاکستانی خیراتی کاموں میں کتنی گرمجوشی سے کام لیتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ بندے کی ساکھ چیک کرتے ہیں ۔اجمل چودھری نے بتایا کہ وہ ہرسال تقریباً ایک لاکھ ڈالر کاروان علم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور یہ رقم نارتھ امریکہ میں موجود پاکستانی بخوشی انہیں اس مقصد کے لئے دیتے ہیں ۔انکے دوست امتیاز سید نے تائید کی اور انگریزی مکس اردو میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ سالہا سال کی جدوجہد کے بعد امریکن مسلمانوں اور پاکستانیوں کو اجمل چودھری کی آواز پر لبیک کہنے میں کوئی خوف نہیں ہورہا کیونکہ یہ مخلص اور ایماندار ہیں ۔سوال و جواب میں کافی جوش اور روانی پیدا ہوچکی تھی۔انکے ساتھی انعام الحق صاحب نے کاروان علم کی خدمات کو سراہا اور امریکن پاکستانیوں کے کار خیر کا تفصیلی ذکر کیا۔

مجیب الرحمن شامی صاحب نے اجمل چودھری کی شخصیت اور انکی خدمات کا مفصل احوال بیان کیا اورپھر انہوں نے اجمل چودھری سے کہا کہ امریکہ میں پاکستانیوں کی سماجی زندگی اور خیراتی کاموں پر تو کافی بات ہوچکی ہے اب آپ امریکہ کے سیاسی حالات پر بھی کچھ روشنی ڈالیں ۔ان کا سوال سن کر اجمل چودھری جواب دینے کے پر تولنے ہی لگے تھے کہ روف طاہر یکدم بول اٹھے،تو انہوں نے پر سمیٹ لئے’’ میرا خیال ہے کہ پہلے کھانا لے لیا جائے کیونکہ کچھ دوستوں نے بچوں کو سکولوں سے بھی لینا ہے،اور یہ کھانا یہاں بیٹھ کھایا جاسکتا ہے ساتھ ساتھ گفتگو بھی چلتی رہے گی‘‘ محفل میں یکدم پہلے کھانے کا سناٹا پھر قہقہ پھوٹ پڑا۔شامی صاحب نے اپنے یار دیرینہ روف طاہر کے جملے پر ان کی گت بنانے کی کوشش کی اور کہا’’ کون سے بچے اور کس کے بچے ،یار اس عمر میں ہم نے نہیں بچوں نے ہمیں آکر لینا ہوتا ہے‘‘ ندیم شفیق بولے’’ پانچ منٹ اور انتظار کرلیں اسکے بعد کھانا کھا لیجئے‘‘ لیکن جب کھانے کا نقارہ بج جائے تو مروت والے بھی ڈونگوں کے ڈھکن اٹھادیتے ہیں ۔کھانے پر مہذبانہ یلغار شروع ہوئی تو مہمان کھانا لیکر اپنی میزوں پر بیٹھ گئے اور باقی احباب الگ الگ میزوں پر کھانے اور گپوں میں مصروف ہوگئے۔

منظر یوں تھا کہ جنہیں میزبانوں کے سامنے حیااور وضعداری ملحوظ تھی وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور کھانے کے ساتھ باتیں چلتی رہیں ۔کھانے کے بعد سہیل وڑائچ،حفیظ اللہ نیازی اور احسان اللہ وقاص بھی تشریف لے آئے تھے جبکہ دیگر سینئرز میں عطا الرحمن،رحمت علی راز ی،نوید چودھری،عامر ہاشم خاکوانی،حبیب اکرم،حامد ولیدشامل تھے ،سبھی نے اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہوئے محفل کو گرمانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔مجموعی طور ظہرانہ کا مقصد پورا ہوچکا تھا۔اڑھائی تین بجے جب ہال سے باہر نکلے تو ربّ العظیم حسب معمول اپنی رحمت برسا رہاتھا۔ پودے بوندبوند بارش میں نہال ہورہے تھے۔کھانے اور احباب کی باتوں کی لذت سے دل بھی سیراور معطر ہوگیا تھا۔

مزید : لاہور