اغواءہونے والا صحافی جس نے آپ کو یہ ایک ویڈیو دکھانے کیلئے ڈیڑھ ماہ تک میموری کارڈ اپنے جسم کے نازک حصے میں چھپائے رکھا، اس میں آخر ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں گے

اغواءہونے والا صحافی جس نے آپ کو یہ ایک ویڈیو دکھانے کیلئے ڈیڑھ ماہ تک میموری ...
اغواءہونے والا صحافی جس نے آپ کو یہ ایک ویڈیو دکھانے کیلئے ڈیڑھ ماہ تک میموری کارڈ اپنے جسم کے نازک حصے میں چھپائے رکھا، اس میں آخر ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (نیوز ڈیسک)سوڈان میں اغواءہونے والے برطانوی صحافی نے قید کے دوران پیش آنے والے لرزہ خیز واقعات کو ریکارڈ کر لیا لیکن پھر اس ریکارڈنگ کو محفوظ کیسے رکھا، یہ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔

دی انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق فل کاکس گزشتہ سال دسمبر میں سوڈان میں داخل ہوا تاکہ دارفر کے لوگوں کی حالت زار کے بارے میں رپورٹنگ کرسکے، لیکن جلد ہی اسے مسلح افراد نے اغواءکرلیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ سوڈانی حکام نے ان کے سر کی قیمت مقرر کرکھی تھی اور انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ اغواءکرنے کے بعد انہیں صحرا میں ایک درخت کے ساتھ زنجیروں کے ساتھ باندھ دیا گیا اور کئی روز تک اسی حالت میں تشدد کیا جاتا رہا۔ ان پر انتہاءدرجے کا بدترین تشدد کیا گیا، انہیں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، البتہ اس دوران وہ اغواءکاروں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ انہیں ویڈیو بنانے دیں۔ اجازت ملنے پر انہوں نے اپنی قید کے دوران پیش آنے والے تمام لرزہ خیز واقعات کو ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔

”جب میں پہلی بار آسٹریلیا آیا تو بھارتی شہریوں کو بالکل اسی طرح دیکھ رہا تھا جیسے مجھے سکول میں بتایا گیا تھا “، پاکستانی نوجوان کا گرمہر کور کے نام پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا

اغواءکاروں نے انہیں بالآخر سوڈانی حکام کے حوالے کردیا، جنہوں نے انہیں بدنام زمانہ کوبارجیل خرطوم میں قید کردیا۔ اب انہیں فکر لاحق ہوئی کہ ریکارڈ کئے گئے مواد کو حکام کی نظر سے کیسے بچائیں۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کے لئے انہوں نے کیمرے سے میموری کارڈ نکالا اور اسے پلاسٹک کے ایک ٹکڑے میں لپیٹ کر اپنے جسم کے اندر گھسالیا۔ انہوں نے ڈیڑھ ماہ تک میموری کارڈ کو اسی طریقے سے اہلکاروں کی نظر سے بچائے رکھا۔ اب اس میموری کارڈ کی ریکارڈنگ دو حصوں پر مشتمل فلم کی صورت میں چینل 4News پر دکھائی جائے گی۔

برطانوی اور امریکی حکومت کی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر یکم فروری کے دن فل کاکس کو رہا کردیا گیا۔ سوڈانی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ صدر عمر البشیر نے انہیں معاف کردیا تھا۔ ان پر الزامات عائد کئے گئے تھے کہ وہ دارفر کے عوام پر کیمیکل ہتھیاروں کے ساتھ حملوں کی تحقیقات کے لئے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی