” فلم دنگل پاکستان میں ریلیز ہی نہیں کروں گا کیونکہ۔۔۔“ عامر خان کا ایسا فیصلہ کہ جان کر آپ کو بھی بیحد دکھ ہوگا

” فلم دنگل پاکستان میں ریلیز ہی نہیں کروں گا کیونکہ۔۔۔“ عامر خان کا ایسا ...
” فلم دنگل پاکستان میں ریلیز ہی نہیں کروں گا کیونکہ۔۔۔“ عامر خان کا ایسا فیصلہ کہ جان کر آپ کو بھی بیحد دکھ ہوگا

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی فلم دنگل نے انڈیا میں کاروبار اور عوامی پذایرائی کے حوالے سے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے تاہم یہ فلم سینسر بورڈ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر پاکستان میں ریلیز نہیں ہو سکی۔ اب ایک بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی سینسر بورڈ فلم میں سے بھارتی ترنگا اور ترانہ ہٹانا چاہتا تھا جس کی وجہ سے عامر خان نے یہ فلم پاکستان میں ریلیز کرنے سے انکار کردیا۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اڑی حملوں کے بعد پاکستانی اداکاروں کو انڈیا سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کے کسی بھی بھارتی فلم میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی جس کے جواب میں پاکستان نے بھی ہندوستانی فلموں کی نمائش روک دی۔ کچھ عرصہ دونوں طرف یہ پابندی برقرار رہی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ پاکستانی سینما مالکان نے بھارتی فلموں پر عائد پابندی ہٹادی ۔

’لوگوں نے ہمیں پاکستان میں دہشتگردوں سے بچنے کا کہا تھا، لیکن یہاں آتے ہی ہمارا سامنا ایسے ’دہشت گرد‘ سے ہوگیا جس نے ہمیں۔۔۔‘ پاکستان آنے والے مغربی لڑکا لڑکی نے پاکستان کے بارے میں ایسی بات بتادی کہ سن کر آپ کی ہنسی نہ رُکے گی

فلموں کی نمائش سے پابندی ہٹنے کے بعد ڈسٹری بیوٹرز نے عامر خان جو کہ اس فلم کے پروڈیوسر بھی تھے سے رابطہ کیا اور فلم کی ریلیز سے متعلق معاملات طے کیے۔ عامر خان سے معاملات طے ہونے کے بعد پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز نے جب یہ فلم سینسر بورڈ کو پیش کی تو بورڈ نے فلم کے آخر میں لہرانے والا بھارتی پرچم اور فلم کی ہیروئن گیتا پھوگاٹ کے گولڈ میڈل جیتنے پر بجنے والا بھارتی ترانہ فلم سے ایڈٹ کرنے کی شرط رکھی۔

شادی بچانے کیلئے اجنبی مَردوں سے تعلقات قائم کرنے کیلئے سہولت، مسلم خواتین کیلئے پہلی مرتبہ ایسی ویب سائٹ متعارف کروادی گئی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

سینسر بورڈ کی یہ شرط فلم کے پروڈیوسر عامر خان نے ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس فلم میں پاکستان مخالف ایسا کوئی مواد نہیں ہے جسے ایڈٹ کرنے کی ضرورت پڑے بلکہ یہ ایک بائیو گرافی فلم ہے جس میں سین کی ضرورت کے مطابق بھارتی پرچم لہرایا اور انڈین ترانہ بجایا گیا ہے۔عامر خان نے سینسر بورڈ کی شرط نہ مانی اور فلم کو پاکستان میں ریلیز کرنے سے ہی انکار کردیا۔ اس سارے معاملے پر عامر خان نے کوئی بیان نہیں دیا تاہم ان کے ترجمان نے سارے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے گاہے بگاہے عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگتا رہتا ہے اور جب بھی ان کی کوئی فلم ریلیز ہونے لگتی ہے تو انہیں دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کا بھی کہا جاتا ہے ۔ انتہا پسندانہ سلوک کے باوجود تینوں خان ہر وقت اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں اور عامر خان کی فلم دنگل پاکستان میں ریلیز نہ ہونا بھی اسی حب الوطنی کو ثابت کرنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن پھر بھی انہیں فلم کی ریلیز کے موقع پر پاکستانی ہونے کے طعنے دیے گئے تھے۔

’’بگھی پر کیوں سوار ہوئے‘‘ ہریانہ میں اونچی ذات والوں کا دلت دولہا، باراتیوں پر تشدد

ہندو انتہا پسندوں کا یہ رویہ دیکھ کر بے اختیار پاکستان میں موجود مسلمان سجدہ شکر بجالاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے کوئی جتن نہیں کرنے پڑتے اور وہ آزادانہ طور پر اپنی مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ہندو ﺅں کے انتہا پسندانہ رویوں اور بڑے بڑے فلمی ستاروں کی جانب سے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی کوششوں کو دیکھ کر بلا شبہ دو قومی نظریہ اور پاکستان کی تخلیق کے فیصلے کی درستگی پر یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔

مزید : تفریح