میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام غلط ،رخائین میں فوج نہیں مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا گلہ کاٹ رہا ہے :آنگ سانگ سوچی نے حکومتی مظالم پر آنکھیں بند کر لیں

میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام غلط ،رخائین میں فوج نہیں مسلمان ہی ...
میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام غلط ،رخائین میں فوج نہیں مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا گلہ کاٹ رہا ہے :آنگ سانگ سوچی نے حکومتی مظالم پر آنکھیں بند کر لیں

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) میانمار  حکومت اور فوج کی طرف سے  مسلم اکثیریتی علاقے رخائین میں  مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، نسل کشی  اور قتل و غارت کی تردید کرتے ہوئے  نیشنل لیگ آف ڈیمو کریسی کی سربراہ  آنگ سانگ سو چی نے کہا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام اور  عالمی سطح پر پھیلی ہوئی خبریں غلط ہیں  

 نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی نے ’’ بی بی سی‘‘  کو ایک خصوصی انٹرویو میں میانمار میں سرکاری فوج اور حکومت کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر آنکھیں بند کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ میانمار کی شمالی ریاست رخائین میں جہاں روہنگیا ئی مسلمان آباد ہیں، حالات نہایت تکلیف دہ ہیں لیکن ان حالات کو مدنظر رکھ کر نسلی صفائی(نسل کشی ) جیسی اصطلاح استعمال کرنا نامناسب ہے ،یہ بہت سخت اصطلاح ہے۔انہوں نے  کہا کہ ملک میں واپس آنے والے ہر روہنگیا ئی مسلم کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا جائے گا۔ آنگ سانگ سوچی نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ وہاں بہت خون خرابہ ہو رہا ہے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہاں مسلمان ہی آپس میں مار کاٹ کر رہے ہیں ، کیونکہ جس مسلمان پر بھی انہیں شک ہوجاتا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اسے ہلاک کر دیا جاتا ہےاور ہم اسی آپس کی پھوٹ اور تقسیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی میانمار کی فوج کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔

مزید : بین الاقوامی