کورونا کے خلاف جنگ اور ہمارے رویئے

کورونا کے خلاف جنگ اور ہمارے رویئے

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کورونا وائرس کے خلاف جنگ طویل ہو گی،مہلک وبا کسی کو نہیں چھوڑتی، بُرا وقت آنے والا ہے اس کی ہمیں تیاری کرنی چاہئے، مشکل وقت میں انسان کے ایمان کا پتہ چلتا ہے، کورونا وائرس نے کب ختم ہونا ہے کسی کو پتہ نہیں، کسی کو تجربہ نہیں کہ اس وبا سے کس طرح ڈیل کرنا ہے، قوم احتیاطی تدابیر اختیار کر کے وبا پر قابو پا سکتی ہے۔کورونا ٹائیگر فورس میں چھ لاکھ لوگ رجسٹر ہو چکے ہیں،پنجاب میں کورونا کے خلاف منظم طریقے سے کام ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا وبا کے آگے ترقی یافتہ ممالک نے گھٹنے ٹیک دیئے، پاکستان جیسے ترقی پذیر مُلک کا کیا حال ہو گا۔ تحریک انصاف کے امیدوار حلقے مضبوط کر سکتے ہیں، حکومتی اقدامات ان کے کھاتے میں جائیں گے،انہوں نے اِن خیالات کا اظہار لاہور میں ایک تقریب کے دوران کیا۔

سپریم کورٹ میں وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈکوآرڈی نیشن کے سیکرٹری نے رپورٹ پیش کی ہے کہ اندازے کے مطابق25اپریل تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد50ہزار تک پہنچ سکتی ہے،جن میں سات ہزار چوبیس کیس سنگین نوعیت کے،دو ہزار تین سو بانوے کے قریب تشویشناک اور41 ہزار482 کے قریب معمولی نوعیت کے کیس ہو سکتے ہیں۔سیکرٹری وزارت نے رپورٹ میں بتایا کہ366ملین ڈالر کی لاگت سے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے مرض کی روک تھام کے لئے نیشنل پلان کا اطلاق کر دیا ہے،اِس مقصد کے لئے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے فنڈز استعمال کئے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نسٹ یونیورسٹی نے کورونا ٹیسٹنگ کٹ بنا لی ہے، جو ڈریپ کو جائزہ لینے کے لئے بھیجی گئی ہے۔

وزیراعظم کئی دن سے خبردار کر رہے ہیں کہ کورونا ابھی مزید پھیلے گا۔سپریم کورٹ میں پیش کی گئی وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کی رپورٹ بھی ان کے اس خدشے کی تصدیق کرتی ہے،اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ عوام الناس حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں،لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعات کا اعلان کرتے ہوئے 14اپریل کے بعد یہ شعبہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ظاہر ہے ایسی صورت میں وہ سارے لوگ گھروں سے نکلیں گے، جنہیں کسی نہ کسی تعمیراتی پراجیکٹ پر کام کرنا ہو گا،پھر جو صنعتیں تعمیرات سے جڑی ہوئی ہیں انہیں بھی کھولنا ہو گا،کیونکہ جو خام مال تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونا ہے وہ سائٹس پر پہنچے گا تب ہی کام آگے بڑھے گا،ایسی صورت میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) کے اس اتباہ کو بھی پیش ِ نظر رکھنا ہو گا کہ لاک ڈاؤن جلد بازی میں ختم نہ کیا جائے،کیونکہ اس طرح کورونا تیزی سے پھیل سکتا ہے، تمام ممالک مریضوں کا پتہ چلائیں،نظام مضبوط کریں۔یہ درست ہے کہ معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کے لئے اور لوگوں کے روزگار کی خاطر لاک ڈاؤن کو کسی نہ کسی طرح نرم کرنا ہو گا،لیکن یہ بات اہم ہے کہ اس وقت حفاظتی تدابیر ہی خطرے سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے ابتدا میں جو مُلک اس کی سنگینی کا کما حقہ، ادراک نہیں کر سکے وہاں یہ وبا تیزی سے پھیلی اور مزید پھیلتی جا رہی ہے، جن ممالک نے لاک ڈاؤن کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا وہاں حالات نہ صرف بہتر ہو گئے،بلکہ اب وہاں نئے کیسز بھی بہت کم ہو رہے ہیں،اِس لئے اگر ہمارے ہاں کورونا کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات ہیں تو پھر لاک ڈاؤن سمیت تمام تر حفاظتی اقدامات بہتر بنانے ہوں گے، توقع کرنی چاہئے کہ وزیراعظم نے جو ٹائیگر فورس بنائی ہے وہ جلد متحرک ہو جائے گی اور کیسز بڑھنے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ریلیف کا سامان پہنچانے کے لئے طریقہئ کار وضع کر لیا جائے گا۔

کورونا کی وبا پھیلنے کے خدشات کے ہنگام یہ اطلاع تشویشناک ہے کہ غیر معیاری یا جعلی سینی ٹائزر بڑی مقدار میں مارکیٹ میں آ گئے ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے زیادہ تر سینی ٹائزر کو غیر معیاری قرار دیا ہے، معلوم نہیں حکومت اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے،لیکن مقامِ حیرت ہے کہ ایک طرف تو حکومت وبا کے پھیلنے کے بارے میں مسلسل خبردار کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم جعلی یا غیر معیاری سینی ٹائزر سے اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں یہ جو روزانہ کورونا سے لڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں کیا اس لڑائی میں ہمارا ہتھیار یہی جعلی سینی ٹائزر ہوں گے؟اگر ایسا ہے تو پھر ہو چکا مقابلہ اور جیتی جا چکی لڑائی، ایسے میں تو خدشہ ہے کہ کہیں حالات قابو سے باہر ہی نہ ہو جائیں۔اب بھی وقت ہے غیر معیاری سینی ٹائزر کا پھیلاؤ سختی سے روک دیا جائے اگر ایسا نہ کیا جا سکا تو بدترین حالات کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

حکومت صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے اُن پر اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ نے اطمینان ظاہر کیا ہے،لیکن سیاسی جماعتیں حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں، اگرچہ پنجاب کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں مستحقین میں ڈیڑھ ارب کی رقم تقسیم کی گئی ہے،لیکن آج بھی امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا یہ بیان تمام اخبارات میں چھپا ہے کہ حکومت اعلانات تو کر رہی ہے، عملی اقدامات نہیں کررہی،اسی طرح حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں نے ٹائیگر فورس کو مسترد کر دیا ہے انہیں خدشہ ہے کہ اس نئی تشکیل پانے والی فورس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے لاہور کی تقریب میں جو خطاب کیا اس میں اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی امیدوار حلقے مضبوط کر سکتے ہیں،حکومتی اقدامات اُن کے کھاتے میں جائیں گے۔اپوزیشن جماعتوں کا خیال یہی ہے کہ حکومت ریلیف کے اقدامات اپنی سیاسی پوزیشن بہتر بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے، وزیراعظم خود تو اپنی ہر تقریر میں سیاسی مخالفین کو رگیدنا نہیں بھولتے،لاہور کی تقریب میں بھی انہوں نے انہیں یاد فرمایا اور کہا کہ مخالفین جب بھی اقتدار میں آئے اپنے مفاد کے لئے آئے،انہوں نے کبھی سوشل ورک نہیں کیا۔ یہ وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو جیسے چاہیں یاد کریں،لیکن کبھی کبھار اُنہیں اپنے دائیں بائیں بھی دیکھ لینا چاہئے کہ کل تک وہ جن لوگوں کے خلاف ایسے ہی ریمارکس دیا کرتے تھے وہ اب اُن کے ساتھ بیٹھے ہیں اور اُن کی حکومت ایسے ہی سیاست دانوں کی حمایت پر قائم ہے، کل وہ ان کے مخالفین تھے آج اُن کے دست ِ راست ہیں، کیا پتہ آج کے مخالفین بھی کسی وقت ان کے ساتھ مل جائیں اِس لئے احتیاط ضروری ہے۔حلقے مضبوط کرنے کی بات خالص سیاسی ہے اب اگر اپوزیشن اس کا جواب دے گی تو شور اُٹھے گا کہ نازک حالات میں بھی اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔ویسے یہ سوال تو ہو سکتا ہے کہ اگر وزیراعظم سیاست کریں گے اور کر بھی رہے ہیں تو اپوزیشن کو سیاست کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ایسے میں بعض حکومتی عہدیدار تقریباً روزانہ یہ بھاشن دیتے ہیں کہ اِس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، کوئی اُن سے پوچھے کہ آپ نے قوم میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے کیا کِیا ہے کہ اپوزیشن سے اس کی امید رکھی جائے؟ بہرحال کورونا کے حوالے سے آنے والے دن اچھے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی مہربانی سے اپنے کمزور اور عاجز بندوں پر رحم فرمائے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -