کرونا، امیون سسٹم اور اسلام

کرونا، امیون سسٹم اور اسلام
کرونا، امیون سسٹم اور اسلام

  

اس سے پہلے کہ میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں کہ تاریخ نے کرونا کی شکل میں اسلام کو ایک بار پھر موضوع بحث بنایا ہے، آپ یہ جان لیں کہ دنیا میں اس وقت تک کرونا کے جتنے مریض بھی ٹھیک ہوئے ہیں وہ کسی دوا یا سائنس کی وجہ سے نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر اور قوت مدافعت کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انسانی جسم میں اللہ تعالی نے ایک خودکار دفاعی نظام وضع کر رکھا ہے جو مہلک وائرسوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس نظام کو immune system کہا جاتا ہے۔ جب کوئی وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر اس کے خلیوں کے D.N.A پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو انسان کے immune System کی سپاہ فورا ًحرکت میں آتی ہیں اور حملہ آور وائرس کو مار دیتی ہیں۔ لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حملہ آور وائرس بہت طاقتور ہوتا ہے جس کے سامنے انسانی امیون سسٹم کی سپاہ پسپا ہو جاتی ہیں اور وہ مہلک وائرس پورے جسم کے خلیوں پر قبضہ کر کے جسم کو تخریبی ہدایات دینا شروع کر دیتا ہے جس کا نتیجہ موت ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنسز کا کہنا ہے کہ انسان کا مدافعاتی نظام جس قدر مضبوط ہو گا اس میں کرونا سے لڑنے کی اتنی ہی صلاحیت ہو گی۔ یعنی موجودہ دور میں جبکہ کرونا کی ویکسین تک دستیاب نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امیون سسٹم کو مضبوط بنایا جائے۔

امیون سسٹم یا قوت مدافعت کو بہتر بنانے پر ہونے والی ریسرچ کا نچوڑ امریکا کی ہاورڈ یونیورسٹی (Harvard University) کی ویب سائیٹ پر بھی موجود ہے۔ میڈیکل سائنسز اور ہیلتھ سے متعلقہ ویب سائٹ پر بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز (Times York The New) کی بانی مدیر تارا پارکر پوپ نے اس پر ایک جامع آرٹیکل بھی

لکھا ہے جس میں انہوں نے Carnegie Mellon University کے ساتھ ساتھ Ohio State University میں ہونے والی ریسرچ کے علاوہ ڈاکٹر Ketherine Kung اور ڈاکٹر Dipak Sarkar کی تحقیق کو بھی مدنظر رکھا ہے جبکہ چھوٹی سطح کی متعدد ریسرچ اس کے علاوہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ امیون سسٹم کو مضبوط بنانے کے لئے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں پہلی چیز سگریٹ نوشی (Smoking) سے اجتناب ہے۔ اس سے منہ، گلے اور پھیپھڑوں کا کینسر بھی ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں کرونا کا سب سے شدید حملہ نظام تنفس پر ہی ہوتا ہے۔ اسلام نے صدیوں پہلے اس جانب توجہ دی اور ہر طرح کے نشے سے منع کر کے سموکنگ سے دور رہنے کی راہ ہموار کی۔میڈیکل سائنس کی درجنوں ریسرچ نے سگریٹ نوشی کو جان کے لئے مہلک قرار دیا ہے۔ اسلام نے متعدد آیات اور احادیث کی صورت میں نہ صرف سموکنگ بلکہ ہر اس چیز سے منع کیا جو مال اور جان کے ضیاع کا سبب بنے۔ امیون سسٹم کو مضبوط بنانے کے لئے دوسری چیز روزانہ کی بنیاد پر ورزش (Daily Exercise) ہے۔

میڈیکل سائنسز کے مطابق ورزش سے انسانی جسم نہ صرف مضبوط ہوتا ہے بلکہ اس میں بیماریوں سے لڑنے کی استعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسلام نے سینکڑوں سال پہلے اس جانب نہ صرف توجہ دلائی بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانب عملی رہنمائی بھی فرمائی۔ آپ نے فرمایا" اللہ کی بارگاہ میں قوی مومن کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کمزوری کی شکایت کی تو آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی اور انہیں تاکید کی کہ تیز تیز چلا کرو۔ آپ نے انسانی امیون سسٹم کو ورزش کے ذریعے نہ صرف مضبوط بنانے کی طرف رہنمائی کی بلکہ اس میں Graduality کی تکنیک بھی اپنائی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ایک روایت سے پتا چلتا کہ آپ نے گھڑدوڑ کا مقابلہ کرایا اور توانا و تیار گھوڑوں کے لئے مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک (5میل) کا ٹریک منتخب فرمایا جبکہ کمزور گھوڑوں کیلئے ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق (ایک میل) کا ٹریک چنا۔ فزیکل ہیلتھ کے مطابق نماز خود ایک جامع ورزشی کورس بھی ہے۔

میڈیکل سائنسز کے مطابق Immune System کو مضبوط بنانے کے لئے تیسری اور چوتھی بالترتیب شراب نوشی سے بچنا اور وزن کو معتدل رکھنا ہے۔ ماڈرن میڈیکل ریسرچ اس بات پر شاہد ہیں کہ انسان کا بالکل کمزور ہونا یا حد سے زیادہ موٹا ہونا جان لیوا ہے۔ موٹاپا اس طرح مہلک ثابت ہوا کہ اس کی بیخ کنی کیلئے مغرب میں سمارٹنیس کا جنون پیدا ہو گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان مختلف قسم کی ادویہ استعمال کرنے لگا جن کے مہلک اثرات نے اسے مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بنا دیا۔ لیکن اسلام نے کمزوری کی طرح موٹاپے کو بھی ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں افراط اور تفریط نامی دو اصطلاحیں متعارف کرائیں جو دنیا کے ہر شعبے کی طرح وزن کے سلسلے میں بھی یہ رہنمائی فراہم کی کہ وزن کی افراط (موٹاپا) اور تفریط (کمزوری) دونوں سے بچو اور اعتدال (Healthy Weight) کو اختیار کرو۔ آج ڈاکٹروں کا بنا ہوا ایک چارٹ ملتا ہے جس میں عمر کے اعتبار سے صحت مند وزن کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آپ کسی صحت مند فرد کا انتخاب کریں جو وزن کی کمی یا زیادتی کا شکار نہ ہو، اس کا وزن کریں اور پھر ڈاکٹروں کا بنا ہوا وہ میڈیکل چارٹ دیکھیں تو آپ اسلام کی

عالمگیریت کے قائل ہو جائیں گے۔ اسی طرح اسلام نے شراب نوشی (Drinking) سے منع فرمایا۔ جب سے کرونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ یورپ بھی ڈرنکنگ سے منع کر رہا ہے جہاں اس کے بغیر زندگی ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ آج وہاں کے ڈاکٹرز کی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق کرونا سے لڑنے کیلئے درکار امیون سسٹم کو شراب سے بچانا بہت ضروری ہے۔ Immune Systems کی مضبوطی کیلئے پانچویں چیز انفیکشن سے بچنا ہے۔ جدید سائنسز کے مطابق انفیکشن سے بچنا صفائی سے ہی ممکن ہے۔ اسلام نے دن میں پانچ بار وضو، غسل اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونے کی تعلیم دے کر انفیکشن سے بچاؤ کا اہتمام بھی کیا۔ چھٹی چیز Stress سے بچنا ہے اور اسلام نے "خود کو تباہی میں نہ ڈالو" کہہ کر اس جانب بھی اشارہ کیا۔ ساتویں چیز غذا کا مناسب استعمال ہے۔ نبی کریم نے اس جانب بھی رہنمائی فرمائی کہ پیٹ کے تین حصے کرو، ایک خوراک، دوسرا پانی اور تیسرا ہوا کے لئے۔

میڈیکل سائنسز کے مطابق کرونا وائرس سے لڑنے کے لئے مضبوط امیون سسٹم کیلئے درکار آٹھویں چیز مناسب نیند (Adequate Sleep) ہے۔ سورت النباء کی آیت نمبر 9 میں یہی بات مذکور ہے۔ غزوہ بدرمیں جب مسلمان نیند کی کمی سے لڑکھڑا رہے تھے تو اللہ تعالی نے ان پر ایک اونگھ طاری کی جس سے ان کی نیند پوری ہو گئی اور دشمن سے لڑنے کیلئے ان کا امیون سسٹم تروتازہ ہوگیا۔ اس کو قرآن نے "امنہ" کہہ کر واضح کیا کہ امیون سسٹم کی مضبوطی کیلئے نیند کا پورا ہونا ضروری ہے۔اسلام نے نماز عشاء اور فجر کی صورت میں انسان کے سونے اور جاگنے کو بھی ریگولر کیا۔ کرونا آیا، اس کی ویکسین نہ بن سکی، دنیا نے بچاؤ کے لئے امیون سسٹم کی مضبوطی اور حفاظتی تدابیر کی ایک لسٹ بنائی اور جب اس لسٹ کو دیکھا تو خود کو اسلام کی آغوش میں پایا اور یوں آج کا مغرب زدہ مسلمان بھی اسلام کے ایک نئے زاویے سے متعارف ہوا۔

مزید :

رائے -کالم -