مافیا کون؟

مافیا کون؟
مافیا کون؟

  

پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی بنیادی خوراک روٹی…… کس کے رحم و کرم پر؟ پورے ملک میں کسی سے بھی یہ سوال پوچھ لیں،وہ ایک ہی جواب دے گا کہ مافیا کے رحم و کرم پر۔ یہ مافیا جب چاہتا ہے عوام پر روٹی تنگ کر دیتا ہے۔ کہنے کو ملک میں گندم ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے، بر آمد پر بھی پابندی ہوتی ہے…… لیکن آٹے کے ٹرک کے پیچھے دو میل لمبی قطار ہوتی ہے۔ آٹے کی ایک بوری کے لئے چھینا جھپٹی اور مار پھٹول،لیکن پھر بھی زیادہ تر لوگ ناکام اور مایو س گھروں کو لوٹتے ہیں۔ ان مناظر کا سائیکل ہمارے ملک میں چلتا رہتا ہے، ہر دوسرے یا چوتھے مہینے۔ پتہ نہیں ضرورت سے زیادہ گندم جاتی کہاں ہے؟ جواب سب کا ایک…… گندم اور آٹا مافیا کے گوداموں میں ہے۔ پتہ نہیں یہ مافیا ہے کون؟لیکن یہ کیسا ملین ڈالر سوال ہے، جس کا جواب ہر کسی کے پا س ہے۔

منیر نیازی یاد آگئے…………

آنکھ کیوں ہے یہ ہاتھ کیا ہے

یہ دن ہے کیا چیز رات کیا ہے

فراق خورشید و ماہ کیوں ہے

یہ ان کا اور میرا ساتھ کیا ہے

گماں ہے کیا اس صنم کدے پر

خیال مرگ و حیات کیا ہے

فغاں ہے کس کے لئے دلوں میں

خروش دریائے ذات کیا ہے

فلک ہے کیوں قید مستقل میں

زمیں پر حرف نجات کیا ہے

ہے کون کس کے لئے پریشاں

پتہ تو دے اصل بات کیا ہے

ہے لمس کیوں رائیگاں ہمیشہ

فنا میں خوف ثبات کیا ہے

منیر اس شہر غم زدہ پر

تیرا یہ سحر نشاط کیا ہے

وزیراعظم عمران خان ”مافیا“ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ جب تک حکومت میں نہیں آئے تھے بہت تواتر سے چیخ چیخ کر کہتے کہ مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب انہیں وزیر اعظم بنے ہوئے پونے دو سال ہو چکے ہیں۔ مافیا وہیں کا وہیں، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور۔ لوگ کہتے ہیں کہ طاقتور مافیا تو عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھتا ہے۔ اگر بیٹھتا ہے تو وزیراعظم کو نظر کیوں نہیں آتا۔ انہوں نے اسی مافیا کا تو ”بیڑہ غرق“ کرنا تھا۔ پچھلے 24سال سے یہی ”لارا“ عمران خان نے عوام کو لگایا ہوا تھا۔ کیا عمران خان کو نہیں پتہ کہ جب انہوں نے عوام کو ”انصاف“ دینے کے لئے پاکستان تحریک انصاف بنائی تھی تو ان کے دائیں بائیں بیٹھے کھرب پتی ا س وقت صرف ہزار یا لاکھ پتی تھے۔ کب اور کیسے وہ کروڑ پتی، پھر اربوں پتی اور اب کھربوں پتی بن چکے ہیں۔ ڈانگ تو سب سے پہلے اپنی منجی کے نیچے پھیرنے کے لئے ہوتی ہے۔ عمران خان ”مافیا“ دیکھنے کے لئے کس دوربین کے انتظار میں ہیں،ایک دفعہ اپنے دائیں بائیں سلام کیوں نہیں پھیر لیتے۔

پی ٹی آئی والوں کو دوسروں پر سنگ باری کرتے ایک عرصہ گزر گیا، لیکن ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلا پتھر وہ پھینکتا،جس کا اپنا دامن صاف ہوتا۔ پچھلے 24 سال سے اپنے سوا باقی سب کو ”چور“ اور ”ڈاکو“ کہنے کے علاوہ اس پارٹی کے لیڈروں نے اور کیا‘کیا ہے؟مزا تو یہ ہے کہ

کھرا اپنے ہی لوگوں کے گھر جاتے دیکھنے کے باوجود تسبیح پھیرنے کی رفتار میں کمی نہیں آتی۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں وہ مریخ یا مشتری پر نہیں، اسی زمین پر اور اسی ملک کی حکومت میں ہیں۔ کیا انہیں اپنے اپنے عہدوں ے مستعفی ہو کر تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہئے، عین ا س اصول کے مطابق جس کا پرچار عمران خان کیا کرتے تھے۔ قصور وار نکلیں تو سزا پائیں اور اگر بے قصور ثابت ہوں تو عہدوں پر واپس آجائیں۔ عمران خان کی کابینہ میں کم از پون درجن ایسے وزیر اور مشیر ہیں،جن کے خلاف الزامات ہیں یا اداروں کی تحقیقات چل رہی ہیں، کیا عمران خان نے کسی کو تحقیقات کے ختم ہونے تک سائیڈ لائین کیا؟ پہلے بھی نہیں کیا تو اب کیا کریں گے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ لسٹ تو لمبی ہے، چلیں کوئی ایک آدھ مثال ہی قائم کر دی ہوتی۔ اب تک نہیں بھی کی تھی تو اب سے کر دیں، کم از کم عوام کا آٹا چینی کھانے والوں سے ہی آغاز کر دیں۔

لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ دوسروں کو چور کہنے والے کہیں خود آٹا،چینی چور تو نہیں؟جن لوگوں کی نشاندہی ایف آئی اے کی رپورٹ میں کی گئی ہے ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے اور کیوں؟جن لوگوں کی کمپنیاں چینی کی سمگلنگ میں ملوث بتائی گئی ہیں وہ لوگ حکومتی اور پارٹی عہدوں پر براجمان یا حکومتی اتحادی کیوں ہیں؟ صرف پچھلے حکمرانوں پر الزامات لگانے سے جان نہیں چھوٹے گی، موجودہ حکمرانوں کو بھی اپنے آپ کو کلیئر کرانا ہو گا۔ عوام تو دو دھاری تلوار سے کاٹے گئے، ایک طرف اربوں روپے کی سبسڈی اور بر آمد، اور پھر شارٹیج کرکے مہنگائی کے ذریعے عوام کو کچوکے لگائے گئے۔ ای سی سی میٹنگ میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بر آمد کی مخالفت اور بروقت خبردار کیا تھا کہ ا س سے شارٹیج اور مہنگائی ہو گی، لیکن پھر بھی وفاقی کابینہ نے اسے منظور کیا۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے آٹا اور چینی دوگنا مہنگا ہو چکا ہے۔ کون ہے جو اس مافیا کو پکڑے گا۔ اگر یہ کام وزیراعظم نے نہیں کرنا تو پھر کس نے کرنا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ انقلاب فرانس کی طرح گلی کوچوں میں عوام اپنی عدالتیں اور ٹکٹکی لگا لیں …… لیکن یہ تو انارکی ہوتی ہے۔ قوم کو انارکی سے بچانا قیادت کا فرض ہوتا ہے۔ اگر ا س کی اہل نہ ہو تو نا اہل۔

ایف آئی اے رپورٹ میں ناموں کے ساتھ ان تمام لوگوں کی تفصیل موجود ہے،جو ملک میں آٹا اور چینی بحران کے ذمہ دار ہیں، وفاقی حکومت اور ساتھ ہی پنجاب اور پختونخوا حکومتیں۔ اگر بحران کے ان ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو ا س کا مطلب ہو گا کہ ملک میں قیادت کا شدید بحران موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ فائدہ خسرو بختیار کے بھائی اور شراکت داروں نے اٹھایا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ آٹا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کیا گیا،جس کی وجہ حکومت کی نا اہلی، کاہلی اور کچھ لوگوں کی کبھی نہ بھرنے والی تجوریاں ہیں۔ حکومت کے اپنے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ اور ا س میں سر فہرست جہانگیر ترین اور خسرو بختیار (کے بھائی) کے نام اور سمیٹی گئی رقومات ہر ایک کے حصہ میں اربوں روپے۔ عوام کے حصہ میں کیا آیا، بھوک، مہنگائی اور دھکے۔ رپورٹ میں گندم بحران کا بڑا ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت کے پچھلے وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی محبوب سلطان اور چینی بحران کا ذمہ دار موجودہ وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار کا بھائی اور جہانگیر ترین۔ فوڈ سیکیورٹی کے حوالہ سے کیا شاندار ریکارڈ ہے موجودہ حکومت کا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری کا نام بھی گندم بحران کے ذمہ داروں میں شامل۔

یہ ساری باتیں نہ اپوزیشن نے کی ہیں اور نہ ہی میڈیا نے، یہ حکومت کے اپنے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق چینی مافیا اب بلیک میلنگ پر اتر آیا ہے اور حکومت اور ایف آئی اے کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر ان کے خلاف تحقیقات بند نہ کی گئیں تو چینی کی قیمتیں 110 روپے کلو پر پہنچا دیں گے۔ ایک تو چوری (بلکہ ڈاکہ) اوپر سے بلیک میلنگ۔ وقت آ گیا ہے کہ اس بلیک میلر گروہ کو کان پکڑ کر حکومتی اور پارٹی عہدوں سے نکالا جائے ورنہ یہ حکومت کو اقتدار سے بھی نکلوائیں گے اور عوام کی نظروں میں بھی۔اگر عمران خان ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے تو لوگوں کے دِلوں میں ان کے اپنے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات جنم لیں گے۔ عمران خان ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ کہتے ہوئے ایوان اقتدار میں داخل ہوئے تھے۔ کیا ان کا اب اپنی بات پر عمل کرنے کا وقت نہیں آ گیا۔ اگر اب نہیں تو پھر کب؟ اگر وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ مافیا نہیں ہیں تو پھر مافیا ہے کون؟

مزید :

رائے -کالم -