کرونا سے نمٹنے کی حکومتی پالیسی میں تضاد کیوں؟

کرونا سے نمٹنے کی حکومتی پالیسی میں تضاد کیوں؟
کرونا سے نمٹنے کی حکومتی پالیسی میں تضاد کیوں؟

  

کپتان نے اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے گھبرانا نہیں ہے، آج کل وہ کرونا کے مزید پھیلنے کا کہہ کر عوام کو ڈرا رہے ہیں، انہوں نے لاہور کے دورے میں ایک بار پھر کہا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کرونا نہیں پھیلے گا، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ میں اسے پھیلتا دیکھ رہا ہوں۔ ادھر حکومت نے سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں کہا ہے کہ 25 اپریل تک کرونا کیسز کی تعداد 50 ہزار ہو سکتی ہے۔ اب یہ گھبرانے کی بات تو ہے کیونکہ اس وقت کرونا کے کنفرم مریضوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار ہے۔ اگلے بیس دنوں میں 47 ہزار مزید کیسوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گویا 2 ہزار کیسز سے زیادہ روزانہ اضافہ ہوگا۔ یہ کیوں ہوگا، کیسے ہوگا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا سوال یہ ہے کہ اتنی زیادہ بے احتیاطی کے باوجود کرونا کی تعداد نہیں بڑھی اب جبکہ حد درجہ احتیاط ہے۔ ہر طرف لاک ڈاؤن ہے، لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں، یہ تعداد اتنی رفتار سے کیوں بڑھے گی۔ لگتا یہی ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس میں یہ احتیاط ملحوظ خاطر رکھی ہے کہ تعداد زیادہ بتائی جائے تا کہ یہ الزام نہ آئے کہ حکومت نے پہلے کیوں نہیں بتایا، کم کیسز آنے کی صورت میں حکومت کی تعریف ہو گی گوشمالی نہیں لیکن کم تعداد کی پیشن گوئی کر کے اگر زیادہ کیسز سامنے آ گئے تو حکومت کو سپریم کورٹ کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

اصولاً تو یہ بات اچھی ہے کہ عوام کو اس دباؤ کی ہولناکی سے خبردار رکھا جائے۔ یہ کام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر رہے ہیں، انہوں نے آنے والے دنوں میں کرونا سے بڑی ہلاکتوں کی پیشن گوئی کی ہے خاص طور پر نیو یارک میں کرونا سے پھیلنے والی تباہی کا نقشہ انہوں نے واشگاف لفظوں میں پیش کر دیا ہے۔ یہی کام پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی کر رہے ہیں۔ آج کل ان کی تان اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ کرونا کو آسان نہ لیا جائے، یہ کسی وقت بھی بڑی قیامت ڈھا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کسے یہ بات سمجھا رہے ہیں۔ عوام تو پہلے ہی گھروں میں ڈرے سہمے بیٹھے ہیں ان کے لئے تو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ہی کافی ہیں کہ جو کرونا کرونا کی گردان کر کے انہیں نفسیاسی مریض بنا چکے ہیں جو کرونا کے کسی مریض کی موت کو ایسے بریکنگ نیوز بنا کے چلاتے ہیں، جیسے کوئی پہلی دفعہ مرا ہو۔ اس رویئے کی وجہ سے اب درجنوں دوسری ہلاکتیں، جو قتل و غارت گری، حادثات اور دیگر عوام کی وجہ سے ہوتی ہیں بریکنگ نیوز کے دائرے سے نکل گئی ہیں۔ مجھے ٹریفک حادثات پر نظر رکھنے والے ملتان کے صحافی ناصر محمود شیخ نے اعداد و شمار بھجوائے ہیں جن کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں 70 کے قریب افراد ٹریفک حادثات میں جان گنوا چکے ہیں مگر اب ان اموات کی کوئی اہمیت نہیں رہی، اب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے مرنے والوں کی خبر ہی خبر سمجھی جاتی ہے۔

تاہم حیرت اس بات پر ہے کہ ایک طرف عمران خان کرونا کے پھیلاؤ سے ڈرا رہے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے کنسٹرکشن شعبے کو ایک بڑا پیکج بھی دیدیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اسے کھول رہے ہیں تاکہ لوگوں کو روز گار ملے۔ ادھر پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کو کھول دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے بین الاقوامی آرڈرز کی تکمیل کے لئے مال تیار کر سکیں۔ مجھے تو اس میں ایک بہت بڑا تضاد نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف لاک ڈاؤن ہے اور بلا وجہ گھروں سے نکلنے والوں کو پولیس ڈنڈے بھی مار رہی ہے اور اُنہیں مرغا بنا کے کان بھی پکڑواتی ہے اور دوسری طرف ہزاروں مزدوروں کو اس بات کی اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ اپنی ملوں میں جا کر کام کریں۔ زرعی شعبے کو آزادی دینے کی سمجھ تو آتی ہے۔ کیونکہ گندم کی کٹائی کا موسم آ گیا ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔ پھر یہ زیادہ تر کھلے دیہی علاقوں میں ہوتی ہے اور کٹائی کرنے والے بھی اسی گاؤں کے مکین ہوتے ہیں، مگر یہ ملز تو شہروں میں ہیں۔ ان میں کام کرنے کے لئے جو مزدور اور کاریگر دور دراز علاقوں سے آئیں گے اور ایک بند ماحول میں کام کریں گے تو کیا اس سے کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر متاثر نہیں ہوں گی۔ اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری کھولی جا سکتی ہے تو پاور لومز انڈسٹری کیوں نہیں کھولی جا سکتی۔ وہ تو ٹیکسٹائل ملز کے لئے خام مال فراہم کرتی ہیں۔

صاف لگ رہا ہے کہ حکومت اس وقت دو کشتیوں میں سوار ہے۔ ایک طرف اس کی ٹانگ کرونا وائرس کو روکنے میں پھنسی ہوئی ہے، تو دوسری طرف اس پر معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے دباؤ بھی موجود ہے۔ ابھی سے یہ باتیں ہونے لگی ہیں کہ ملک کے طاقتور سرمایہ دار حکومت سے من پسند فیصلے کرا رہے ہیں۔ کنسٹرکشن پیکیج کو بھی کرونا وائرس کی آڑ میں ایک بڑی واردات قرار دیا جا رہا ہے جو عام حالات میں حکومت کے لئے ایک نا ممکن سی بات تھی، کیونکہ عمران خان مافیاز کو رعایت دینے کی مخالفت کرتے آتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک ایسی ایمنسٹی دیدی ہے، جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ دنیا میں اس وقت ہر چیز جامد ہو چکی ہے۔ ساری توجہ کرونا وائرس پر قابو پانے تک محدود ہے۔ پاکستان سب سے بازی لے گیا ہے کہ ان حالات میں بھی اس نے کنسٹریکشن کے شعبے کو ایک بڑا پیکج دے دیا ہے۔ عام حالات میں تو شاید یہ کوئی انوکھی بات نہ ہوتی، مگر ان حالات میں کہ جب پورے ملک کو کرونا وائرس پھیلاؤ کے ڈر سے بند کر رکھا ہے، ایک سیکٹر کو پوری مراعات کے ساتھ کھول دینا عجیب لگتا ہے۔ اب یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ حکومت محدود وقت کے لئے ہی سہی بازار اور دکانیں کھولنے کی اجازت دے۔ ویسے بھی جب کنسٹرکشن کے شعبے کو کام کرنے کی اجازت دی ہے تو اس سے وابستہ چالیس صنعتوں کی دکانیں بھی تو کھولنی پڑیں گی۔ سیمنٹ، سریا، بجلی، سوریج، ریت اور اینٹوں کی دکانیں اور بھٹے بھی تو کھلیں گے۔ کریانہ شاپ، میڈیکل ہال، بیکریاں، موبائل چارج شاپ مرغی اور دیگر متعلقہ شعبوں کی دکانیں تو پہلے ہی کھلتی ہیں، پھر لاک ڈاؤن کہاں رہ جائے گا۔ ایک طرف حکومت ٹائیگر فورس بنانے کی تیاریاں کر رہی ہے تاکہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں لوگوں کو گھروں تک راشن پہنچایا جا سکے اور دوسری طرف لاک ڈاؤن نرم کرنے کے فیصلے کر رہی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر واقعی کرونا وائرس کا خطرہ پہلے سے زیادہ موجود ہے اور اس سے بڑی تباہی کے خطرات موجود ہیں، تو سب سے پہلے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ دنیا بھر میں معیشت کے معاملات پیچھے چلے گئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اپنی انڈسٹری کو بند کر کے کرونا وائرس کو ختم کرنے پر جت گئے ہیں۔ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی پالیسی سے اس عفریت پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ آپ اگر لاکھوں لوگوں کو اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ گھروں سے نکل کر کنسٹرکشن اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں کام کر سکتے ہیں تو وہ آئسولیشن کی پالیسی کہاں رہ جائے گی۔ پھر دیکھا دیکھی دوسرے شعبوں کے افراد پر گھروں سے نکلنے کی پابندی کیسے لگائی جا سکے گی۔ صرف عمران خان کے یہ کہہ دینے سے تو عوام گھروں میں روز گار کے بغیر نہیں بیٹھے رہیں گے کہ کرونا وائرس پھیلے گا اور بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت صوابدیدی اختیار کے تحت جسے چاہے کھول رہی ہے اور جس شعبے کو چاہے بند کر رہی ہے اگر دو چار ہفتوں کے لئے پورے ملک میں بلا تفریق لاک ڈاؤن جاری رہتا تو کیا حرج تھا۔ کم از کم یہ بات تو یقینی ہوتی کہ ملک سے کرونا کی وبا ختم ہو گئی ہے۔ اس طرح تو کرونا کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہے گا اور ہم ایک مفلوج معاشرے کی شکل اختیار کر لیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -