امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (1)

امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (1)
امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (1)

  

کرونا وائرس کی وباء کو شروع ہوئے چار ماہ ہو رہے ہیں اور ہنوز کچھ خبر نہیں کہ یہ مزید چار سال چلتی ہے یا اس کے خاتمے لئے کوئی حتمی تاریخ بھی دی جا سکتی ہے۔ اس قسم کی وبائی امراض دنیا میں پہلے بھی پھیلتی رہی ہیں اور آج ہر لکھا پڑھا قاری اگر چاہے تو ان کی تفصیلات گوگل کرکے دیکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ باایں ہمہ یہ کرونا وائرس اپنی نوعیت کا ایک بے مثال ہلاکت آفریں وائرس ہے اور اس کے مستقبلِ انسانی پر اثر انداز ہونے کی کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے عالمگیر سکیل پر پھیلنے والے اچانک حادثے کے بارے میں سچی جھوٹی خبروں کا ایک تانتا بندھا ہوا ہے۔ اَن گنت افواہیں گردش کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں۔ ان میں یہ افواہ بھی تھی کہ یہ وائرس کسی امریکی لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا اور خود امریکیوں نے اسے چین (ووہان) میں جا کر کسی ”پنجرے“ سے آزاد کر دیا تھا لیکن یہ افواہ اس وقت تک ہی قابلِ اعتنا رہی جب تک ووہان میں اس کے ناقابلِ یقین تباہ کن اثرات منظر عام پر آتے رہے…… لیکن پھر اچانک پانسہ پلٹ گیا۔

ووہان کو تو چین نے مکمل لاک ڈاؤن کر دیا اور اس کی خبروں پر قدغن لگا دی۔ لیکن اس کا دوسرا وار جب ایک ایشیائی ملک (ایران) پر ہوا تو عالمی حلقوں میں تھوڑی سی ہلچل پیدا ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ ”ہلچل“ ایک بلائے بے درماں کی طرح مغرب میں پھیلنا شروع ہوئی۔ اس کا آغاز اٹلی سے ہوا۔ اس کے بعد سپین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ہالینڈ بلکہ اس سوٹزرلینڈ تک بھی پھیل گیا جس کی آب و ہوا شفا اور صحت افزاء قابلِ رشک حد تک شفاف خیال کی جاتی ہے۔ روس، پاکستان، انڈیا اور دوسرے ممالک میں بھی اس کی شروعات تو ہو گئیں لیکن دوسرے ایشیائی اور یورپی ممالک کے مقابلے میں آہستہ رو بلکہ آہستہ خرام تھیں۔ اب پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ یہ آہستہ خرامی آنے والے ہفتوں میں ایسی تبزگامی میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کا تصور بھی لرزہ خیز ہے۔ مثلاً انڈیا مین اس سال اواخر جولائی 2020ء تک کورونا وائرس سے ہلاک ہو جانے والے افراد کی تعداد 3کروڑ سے لے کر 5،6 کروڑ تک بتائی جا رہی ہے۔ یہ اندازہ (Estimate) الل ٹپ نہیں بلکہ تحقیق شدہ سائنسی اور طبی بنیادوں پر لگایا جا رہا ہے۔

اور اللہ رحم کرے پاکستان کے بارے میں بھی ان اندازوں سے ملتی جلتی یا ان سے کچھ کم و بیش سکیل پر یہی پیشگوئی کی جا رہی ہے…… لیکن سب سے آخر میں جس ملک میں اس وائرس کے حملے شروع ہوئے وہ دنیا کی واحد سپرپاور تھی۔ امریکہ (اور وہ بھی نیویارک اور واشنگٹن کی ریاستوں میں) اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے پہلے ہزاروں اور پھر لاکھوں تک جا پہنچی۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی ہوشربا ہے۔ اٹلی اور سپین میں روزانہ کی بنیاد پر جو لوگ ہلاک ہو رہے تھے (اور ہیں) ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔8،8 اور 9،9سو لوگ 24گھنٹوں کے اندر لقمہء اجل ہونے لگے تو لوگوں کو یقین نہ آیا۔ طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی جانے لگیں۔ ایک پاکستانی سفارت کار نے میلان سے ایک آڈیو جاری کی۔

اپنا نام نمبر بھی بتایا اور دلیل دی کہ اٹلی میں مرنے والوں کی وجہِ مرگ کرونا وائرس نہیں بلکہ اس کے علاوہ دوسری کئی وجوہات ہیں۔ وہاں (اٹلی میں) ہو یہ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں جتنے لوگ مختلف امراض کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔پھر امریکہ میں بھی یہ تعداد روزبروز بڑھنے لگی۔ ایک ایک دن میں ایک ایک ہزار انسان موت کے گھاٹ اترنے لگے تو بعض بزرجمہروں نے یہی استدلال کیا کہ یہ تعداد امریکہ کے طول و عرض میں پھیلے ہزاروں شفاخانوں میں مختلف امراض سے مرنے والوں کی تعداد ہے۔ اب امریکہ میں اس مرض کے پھیلاؤ کا جو عالم ہے اس کے ایک ایک پل کی خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں …… لیکن ایک خبر، ان خبروں میں ایسی بھی ہے جو زیادہ ہولناک ہے۔

یہ اس لئے زیادہ ہولناک اور انوکھی ہے کہ اس کا تعلق امریکہ کی مسلح افواج کے اس حصے سے ہے جو زمینی کشش اور Drags سے آزاد ہے، جس پر امریکہ کی عالمی برتری (Supremacy) کا دار و مدار ہے،جو دنیا کے تین بڑے سمندروں (Oceans) پر تاجداری کی دعویدار ہے اور جس کا نام طیارہ بردار قوت ہے۔ ہم پاکستانی کسی طیارہ بردار بحری جہاز (Ship) کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ خود میں نے پاک بحریہ کے تمام اقسام کے Ships کے اندر جا کر ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ تباہ کن، کروزر، فریگیٹ، لاجسٹک، میزائل بردار اور آبدوز وغیرہ کے کونے کونے میں گھوم پھر کر ان کی بالائی، وسطانی اور زیریں سطوح (Decks) کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان Ships کے کپتانوں اور کمانڈروں سے تادیر مختلف سوالات کرکرکے اپنی عسکری معلوماتی پیاس بجھانے کی کوشش کی ہے۔ کراچی شپ یارڈ، اور مارا، گوادر اور قاسم پورٹ میں گھومنے پھرنے کے مواقع ملے ہیں …… لیکن مجھے کچھ خبر نہیں کہ ایک طیارہ بردار جہاز کا قد و قامت کیسا ہوتا ہے، اس کے طیاروں کے ہینگروں (Hangers) کا طول و عرض کیا ہے، جوہری ری ایکٹر کی لوکیشن کس جگہ اور کس منزل میں ہوتی ہے، اس کا اسلحہ کہاں سٹور کیا جاتا ہے، ورکشاپ کہاں اور کیسی ہوتی ہے، اس کے عملے کی رہائش گاہیں کہاں ہوتی ہیں اور خود اس کی حفاظت پر مامور فضائی اور بحری قوت اس طیارہ بردار کے گردا گرد سمندر میں کن کن مقامات پر رکھی جاتی ہے، اس پر سوار 5000(پانچ ہزار) مرد و زن کا جمِ غفیر اپنے شب و روز کس طرح بسر کرتا ہے اور مہینوں تک بالائے آب رہنے سے اس عملے کو جو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، ان کا علاج معالجہ کس طرح کیا جاتا ہے،

اس کا ہسپتال کس نوعیت اور وضع قطع کا ہوتا ہے، روزانہ کی سِک رپورٹ (Sick Report) کا عالم کیا ہے، شدید بیماروں کو سمندر سے زمین پر بھیجنے کے انصرامی انتظامات کیا ہوتے ہیں اور اتنے بڑے طیارہ بردار کو آبدوزوں کے حملوں سے بچانے کی تدابیر کیا ہیں …… مجھے معلوم ہے کہ امریکہ اس قسم کی ابتدائی نوعیت کی معلومات بھی دنیا کی کسی ایسی قوم / ملک کو نہیں بتاتا کہ جس کے پاس کوئی اپنا طیارہ بردار نہ ہو…… اور پاکستان کے پاس کوئی ایسا طیارہ نہیں ہے؟…… ہمارے دشمن (انڈیا) کے پاس تو ہے اور ایک سے زیادہ ہیں لیکن پاک بحریہ بلیو واٹر نیوی ہونے کے خبط میں مبتلا نہیں۔ مجھے ایک سے زیادہ بار پاک بحریہ کے سینئر افسروں سے بندرگاہی تنصیبات پر بھی اور ایک بڑے لاجسٹک شپ کے بریفنگ روم میں بھی تفصیلی بریفنگز سننے کا اتفاق ہوا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ پاک بحریہ کے پاس اگرچہ کوئی طیارہ بردار نہیں لیکن وہ انڈیا کی طیارہ بردار فورس کو کاؤنٹر کرنے کا پورا پورا پروگرام رکھتی ہے…… لیکن یہ تمام تفصیلات اس وقت تک کسی سامع کے پلّے نہیں پڑ سکتیں جب تک وہ پاک بحریہ کی تاریخ سے واقف نہ ہو، دنیا بھر کی بحریاؤں (Navies) کی قوتِ حرب و ضرب کی معلومات نہ رکھتا ہو، بحری اصطلاحوں (Naval Terms) سے آشنا نہ ہو، پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی تنصیبات سے آگاہ نہ ہو، پاکستان کی بحری تجارت کے سکیل اور اس کی اہمیت سے شناسائی نہ رکھتا ہو اور پاکستان کی مالی استعداد کی محدودات سے واقف نہ ہو۔ چنانچہ جب بھی مجھے کسی بحری امور پر بریفنگ میں شمولیت کا موقع نصیب ہوا تو یہ اور اس سے منسلک دوسری قدیم و جدید تاریخی معلومات، ایجادات، آلات، ساز و سامان اور ہتھیاروں کا کچھ نہ کچھ علم حاصل کرنا پڑا۔ اس موضوع پر ہماری ملٹری لائبریریوں (اور خاص طور پر بحریہ کے کتب خانوں) میں بہت سا مواد موجود ہے لیکن پاک آرمی کے افسروں کو اس سے کم کم آشنائی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ آرمی، نیوی اور فضائیہ کی اپنی اپنی حدود ہیں۔ (ہمارے ہاں میرین کا شعبہ بھی ہے لیکن اس کا حجم فی الحال بہت کم ہے) ان حدود کو جاننے اور ان کے طول و عرض میں گھومنے پھرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی چہ جائیکہ ایک سروس کا آفیسر کسی دوسری سروس کی پروفیشنل معلومات کا طول و عرض ماپ سکے…… مجھے چونکہ ایک ملٹری انٹرپریٹر ہونے کا فریضہ بھی ادا کرنا ہوتا تھا اور دوران سروس ایرانی بحریہ کے افسروں کو بندرگاہی تنصیبات (Instalations) کے علاوہ بالائے آب اور زیر آب جہازوں (Subs and Ships) پر ساتھ لے جا کر اپنے سینئر نیول آفیسرز سے بریفنگز میں شرکت کرنی پڑتی تھی، اس لئے مجھے کچھ نہ کچھ اس سروس (Navy)کی محدودات و مقدورات کا بھی علم ہے…… یہی وجہ تھی کہ میں نے جب ایک امریکی جہاز بردار پر کرونا وائرس سے متاثرہ افسروں اور جوانوں (Sailers) کی خبر دیکھی تو خیال آیا اس کے بارے میں اپنے قارئین کو بھی آگاہ کروں (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -