پی ایس ایل 5، ناک آؤٹ میچز کیلئے پی سی بی کو 2ونڈوز مل گئیں

  پی ایس ایل 5، ناک آؤٹ میچز کیلئے پی سی بی کو 2ونڈوز مل گئیں

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پی ایس ایل کے ملتوی شدہ ناک ا?ؤٹ میچز رواں برس کے آخر میں کرانے کا خواہاں ہے۔ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ا?فیسر وسیم خان کہتے ہیں کہ ہمارے اس مقصد کیلئے سال کے اواخر میں دو ممکنہ مختصر ونڈوز دستیاب ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح ناک آؤٹ میچز کا انعقاد ہوگا۔ امید رکھتے ہیں کہ ہر چیز ٹھیک ہو اور ہم میچز ری شیڈول کرسکیں۔مثالی صورتحال میں ہمیں تین سے چار روز چاہئیں، بورڈ اس پر کام کررہا ہے،جلد ہی فرنچائز مالکان سے بھی مشاورت کریں گے۔معلوم کیا جائے گاکہ باقی ماندہ میچز کس فارمیٹ کے تحت کھیلیں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے سبب میچز ملتوی ہونے سے قبل ہم نے کوالیفائرز اور ایلی منیٹرز کو سیمی فائنلز اور فائنل میں تبدیل کیا تھا۔کوئی کہہ رہا ہے کہ ملتان ٹاپ پر ہے اسے چیمپئن قرار دیدیا جائے لیکن فرنچائز مالکان مختلف رائے رکھتے ہیں۔یہ کوئی مذاق نہیں کہ ٹرافی ملتان سلطانز کو دے دی جائے کیونکہ وہ گروپ سٹیج میں ٹاپ پر رہے تاہم اگر ہم کوشش کے باجود لیگ مکمل نہ کراسکے جیسا کہ دنیا میں کئی کھیلوں کے ساتھ ہوا ہے تو شاید ایسا کیا جاسکے۔دریں اثنا ملتان سلطانز کے شریک مالک علی ترین نے کہا ہے کہ ٹرافیز حاصل نہیں کی جاتیں، جیتی جاتی ہیں۔ نمبر ون پر رہنے کا مطلب ہماری ٹیم کا غلبہ ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم جیت گئے ہیں۔انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ملتان سلطانز کو کھیلے بغیر چیمپئن قرار دینا عملی طور ناممکن ہے، ناک ا?ؤٹ میچز کھیلا جانا بہتر ہوگا۔ پی سی بی کی جانب سے ہمیں ٹرافی دینا مضحکہ خیز ہوگا، چاروں ٹیموں کے پاس چیمپئن بننے کا یکساں حق ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل وسیم خان نے کہا تھا کہ لیگ کے بقیہ چار میچ کرانے کیلئے ہمارے پاس نومبر میں دس دن کی ونڈو موجود ہے۔جلد فرنچائز کے ساتھ کانفرنس کال میں طے کریں گے کہ بقیہ میچ کب کرائے جائیں۔ نومبر میں چار میچ نہ ہوسکے تو پھر پی ایس ایل سکس سے پہلے میچ کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیزن پاکستان کی تاریخ کا سب سے مصروف اور کامیاب سیزن تھا۔ ہم نے پہلی بار پاکستان میں پی ایس ایل کے تیس میچ کرائے۔ یہ معمولی بات نہیں تھی۔ بورڈ نے ملازمین نے دن رات کام کرنے اسے ممکن بنایا، سپر لیگ میچز دیکھنے کیلئے لگ بھگ 6لاکھ تماشائیوں نے اسٹیڈیمز کا رخ کیا، یہ ایونٹ ہماری بہت بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس ٹورنامنٹ سے ہمیں سیکھنے کو موقع ملا کچھ چیلنجز تھے جو ہمیں مستقبل میں اپنی خامیوں کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -